السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: التقديم والتأخير في عمل يوم النحر باب: قربانی کے دن کے اعمال میں تقدیم اور تاخیر (آگے پیچھے کرنے) کا بیان۔
حدیث نمبر: 9626
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَوِيُّ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ الْبَزْمِهْرَانِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، ثنا أَبِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ، فَقَالَ: " لَا حَرَجَ "، فَقَالَ آخَرُ: إِنِّي رَمَيْتُ مَا أَمْسَيْتُ، قَالَ: " لَا حَرَجَ "، فَمَا عَلِمْتُهُ سُئِلَ عَنْ شَيْءٍ يَوْمَئِذٍ إِلَّا قَالَ: " لَا حَرَجَ " وَلَمْ يَأْمُرْ بِشَيْءٍ مِنَ الْكَفَّارَةِ هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ایک آدمی نے نبی ﷺ سے پوچھا کہ میں نے شام کے بعد رمی کی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کوئی حرج نہیں۔“ تو اس دن آپ ﷺ سے جس چیز کے بارے میں بھی سوال کیا گیا تو آپ ﷺ نے یہی فرمایا: ”کوئی حرج نہیں۔“ اور کسی کفارے کا حکم نہیں دیا۔