کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: قربانی کے دن خطبہ دینے اور اس بات کا بیان کہ قربانی کا دن حجِ اکبر کا دن ہے۔
حدیث نمبر: 9611
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ شِهَابٍ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ طَلْحَةَ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ حَدَّثَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَا هُوَ يَخْطُبُ يَوْمَ النَّحْرِ، فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ، فَقَالَ: كُنْتُ أَحْسَبُ يَا رَسُولَ اللهِ أَنَّ كَذَا وَكَذَا قَبْلَ كَذَا وَكَذَا ثُمَّ قَامَ آخَرُ، فَقَالَ: كُنْتُ أَحْسَبُ يَا رَسُولَ اللهِ أَنَّ كَذَا وَكَذَا قَبْلَ كَذَا وَكَذَا لِهَؤُلَاءِ الثَّلَاثِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " افْعَلْ وَلَا حَرَجَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ یومِ نحر خطبہ دے رہے تھے تو ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! میں تو فلاں فلاں کام فلاں فلاں کام سے پہلے سمجھتا تھا،“ پھر دوسرا کھڑا ہوا تو اس نے بھی ایسے ہی کہا، آپ ﷺ نے تینوں کو فرمایا: ”کر لے، کوئی حرج نہیں۔“
حدیث نمبر: 9612
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَكْرٍ، وَأَخْرَجَاهُ مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيِّ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ وَتَابَعَهُ صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ فِي ذِكْرِ الْخُطْبَةِ فِيهِ.
حافظ ثناء اللہ
ایضاً۔
حدیث نمبر: 9613
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ إِمْلَاءً، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْفَاكِهِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا أَبُو يَحْيَى بْنُ أَبِي مَسَرَّةَ، ثنا أَبُو جَابِرٍ، ثنا هِشَامُ بْنُ الْغَازِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: وَقَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ عِنْدَ الْجَمَرَاتِ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَقَالَ: " أِيُّ يَوْمٍ هَذَا؟ " قَالُوا: يَوْمُ النَّحْرِ، قَالَ: " فَأِيُّ بَلَدٍ هَذَا؟ " قَالُوا: الْبَلَدُ الْحَرَامُ، قَالَ: " فَأِيُّ شَهْرٍ هَذَا؟ " قَالُوا: الشَّهْرُ الْحَرَامُ، قَالَ: " هَذَا يَوْمُ الْحَجِّ الْأَكْبَرِ فَدِمَاؤُكُمْ، وَأَمْوَالُكُمْ، وَأَعْرَاضُكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ هَذَا الْبَلَدِ فِي هَذَا الْيَوْمِ "، ثُمَّ قَالَ: " هَلْ بَلَّغْتُ؟ " قَالُوا: نَعَمْ فَطَفِقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " اللهُمَّ اشْهَدْ " ثُمَّ وَدَّعَ النَّاسَ فَقَالُوا هَذِهِ حَجَّةُ الْوَدَاعِ قَالَ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ: وَقَالَ هِشَامُ بْنُ الْغَازِ فَذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: حجۃ الوداع کے موقع پر نبی ﷺ جمرات کے پاس کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”یہ کون سا دن ہے؟“ انہوں نے کہا: یومِ نحر، آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ کون سا شہر ہے؟“ انہوں نے کہا: حرم ہے، آپ ﷺ نے پوچھا: ”یہ کون سا مہینہ ہے؟“ انہوں نے کہا: شہرِ حرام، آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ حجِ اکبر کا دن ہے، تو تمہارے خون، مال اور عزتیں تم پر اس دن میں اس شہر کی حرمت کی طرح حرام ہیں“، پھر فرمایا: ”کیا میں نے تبلیغ کردی؟“ انہوں نے کہا: ہاں، تو رسول اللہ ﷺ کہنے لگے: ”اے اللہ! گواہ ہوجا“، پھر لوگوں کو الوداع کہا تو انہوں نے کہا: یہ حجۃ الوداع ہے۔
حدیث نمبر: 9614
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي الْعَوَّامِّ، وَعَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَا: ثنا أَبُو عَامِرٍ، ثنا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، وَرَجُلٌ أَفْضَلُ مِنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ، ⦗٢٢٨⦘ فَقَالَ: " أِيُّ يَوْمٍ هَذَا؟ " قُلْنَا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ، فَقَالَ: " أَلَيْسَ يَوْمَ النَّحْرِ؟ " قُلْنَا: بَلَى، قَالَ: " فَأِيُّ شَهْرٍ هَذَا؟ " قُلْنَا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ، قَالَ: " أَوَلَيْسَ ذَا الْحَجَّةِ؟ " قُلْنَا: بَلَى، قَالَ: " فَأِيُّ بَلَدٍ هَذَا؟ " قُلْنَا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ، قَالَ: " أَلَيْسَتِ الْبَلْدَةَ الْحَرَامَ؟ " قُلْنَا: بَلَى، قَالَ: " فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا اللهُمَّ هَلْ بَلِّغْتُ؟ " قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: " لِيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ مِنْكُمُ الْغَائِبَ فَرُبَّ مُبَلَّغٍ أَوْعَى مِنْ سَامِعٍ، أَلَا لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہمیں نبی ﷺ نے نحر والے دن خطبہ دیا تو فرمایا: ”یہ کون سا دن ہے؟“ ہم نے کہا: اللہ اور اس کے رسول ﷺ ہی بہتر جانتے ہیں، آپ ﷺ خاموش ہو گئے حتیٰ کہ ہم سمجھنے لگے آپ اس کو کوئی نیا نام دیں گے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا یہ یومِ نحر نہیں ہے؟“ ہم نے کہا: کیوں نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ کون سا مہینہ ہے؟“ ہم نے کہا: اللہ اور اس کے رسول ﷺ ہی بہتر جانتے ہیں، آپ ﷺ خاموش رہے، حتیٰ کہ ہم نے سمجھا شاید اس کا کوئی نیا نام رکھیں گے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا یہ ذوالحجہ نہیں ہے؟“ ہم نے کہا: کیوں نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ کون سا شہر ہے؟“ ہم نے کہا: اللہ اور اس کے رسول ﷺ ہی زیادہ جانتے ہیں، آپ ﷺ خاموش رہے حتیٰ کہ ہم نے سمجھا کہ آپ ﷺ اس کا کوئی اور نام رکھیں گے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا یہ شہر نہیں ہے؟“ ہم نے کہا: کیوں نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے خون تمہارے اس دن میں، اس مہینے میں، اس شہر کی حرمت کی طرح محترم ہیں، اے اللہ! کیا میں نے پہنچا دیا ہے؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں! پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے جو حاضر ہے وہ غیر حاضر تک پہنچا دے، کتنے ہی وہ لوگ ہیں جن کو بات پہنچائی جاتی ہے وہ سننے والوں سے زیادہ یاد رکھنے والے ہوتے ہیں، خبردار! میرے بعد کافر نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔“
حدیث نمبر: 9615
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، ثنا الْقَاضِي أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ كَامِلٍ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ثنا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ، وَرَجُلٌ فِي نَفْسِي أَفْضَلُ مِنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ، فَقَالَ: " لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ "، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْمُسْنَدِيِّ، عَنْ أَبِي عَامِرٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ وَغَيْرِهِ، عَنْ أَبِي عَامِرٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے نحر والے دن خطبہ دیا اور فرمایا: ”میرے بعد کفر کی حالت میں نہ لوٹ جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔“
حدیث نمبر: 9616
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنِ الْهِرْمَاسِ بْنِ زِيَادٍ، قَالَ: " رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا صَبِيٌّ أَرْدَفَنِي أَبِي يَخْطُبُ النَّاسَ بِمِنًى يَوْمَ الْأَضْحَى عَلَى رَاحِلَتِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
ہرماس بن زیاد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں چھوٹا بچہ تھا، مجھے میرے والد نے اپنے پیچھے سوار کیا ہوا تھا، میں نے نبی کریم ﷺ کو منیٰ میں عید الاضحیٰ والے دن اپنی اونٹنی پر خطبہ دیتے ہوئے دیکھا۔
حدیث نمبر: 9617
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، حَدَّثَنَا ابْنُ جَابِرٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ الْكَلَاعِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ، يَقُولُ: " سَمِعْتُ خُطْبَةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى يَوْمَ النَّحْرِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کا خطبہ منیٰ میں نحر والے دن سنا۔
حدیث نمبر: 9618
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا مَرْوَانُ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَامِرٍ الْمُزَنِيِّ، حَدَّثَنِي رَافِعُ بْنُ عَمْرٍو الْمُزَنِيُّ، قَالَ: " رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ النَّاسَ بِمِنًى حِينَ ارْتَفَعَ الضُّحَى عَلَى بَغْلَةِ شَهْبَاءَ وَعَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ يُعَبِّرُ عَنْهُ وَالنَّاسُ بَيْنَ قَائِمٍ وَقَاعِدٍ ".
حافظ ثناء اللہ
رافع بن عمرو مزنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو منیٰ میں لوگوں سے اس وقت خطاب کرتے ہوئے سنا جب سورج بلند ہوا، آپ ﷺ سفید خچر پر سوار تھے اور علی رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کی بات دہرا کر لوگوں تک پہنچا رہے تھے۔
حدیث نمبر: 9619
قَالَ الْبُخَارِيُّ فِي كِتَابِ التَّارِيخِ: قَالَ لِي أَبُو جَعْفَرٍ: ثنا مَرْوَانُ، ثنا هِلَالُ بْنُ ⦗٢٢٩⦘ عَامِرٍ الْمُزَنِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَافِعَ بْنَ عَمْرٍو الْمُزَنِيَّ، يَقُولُ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ يَوْمَ النَّحْرِ يَخْطُبُ عَلَى بَغْلَةٍ شَهْبَاءَ، أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ الْفَارِسِيُّ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ فَارِسٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ فَذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
رافع بن عمرو مزنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو نحر والے دن حجۃ الوداع کے موقع پر سفید خچر پر خطبہ دیتے دیکھا۔