السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: التقديم والتأخير في عمل يوم النحر باب: قربانی کے دن کے اعمال میں تقدیم اور تاخیر (آگے پیچھے کرنے) کا بیان۔
حدیث نمبر: 9629
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، فَذَكَرَهُ بِزِيَادَتِهِ إِلَّا أَنَّهُ خَالَفَ فِي الْبَاقِي، فَقَالَ: قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ، قَالَ: " ارْمِ وَلَا حَرَجَ " وَلَمْ يَذْكُرْ قَوْلَهُ: حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ.حافظ ثناء اللہ
ایضاً، اسی اضافے کے ساتھ، مگر باقی حصے میں انہوں نے اختلاف کیا اور کہا: اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے رمی سے پہلے سر منڈا لیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”رمی کر، کوئی حرج نہیں۔“ اور انہوں نے اس کا یہ قول ذکر نہیں کیا: میں نے قربانی سے پہلے سر منڈا لیا ہے۔