کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: مرد کے لیے ان چیزوں کو بطور زیور استعمال کرنے کے جواز کے متعلق جو منقول ہے جیسے اس کی انگوٹھی، اس کی تلوار کا زیور اور اس کے مصحف (قرآن مجید) کا زیور، جب وہ چاندی کا ہو۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الْعَبَّاسِ الرَّازِيُّ، ثنا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، ثنا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى بِخَاتَمٍ مِنْ ذَهَبٍ فَجَعَلَهُ فِي يَدِهِ الْيُمْنَى وَجَعَلَ فَصَّهُ مِمَّا يَلِي كَفَّهُ، فَاتَّخَذَ النَّاسُ خَوَاتِيمَ مِنْ ذَهَبٍ فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ نَزَعَهُ، فَقَالَ: " لَا أَلْبَسُهُ أَبَدًا فَاتَّخَذَهُ مِنْ وَرِقٍ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سَهْلِ بْنِ عُثْمَانَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا نافع، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے پاس سونے کی انگوٹھی لائی گئی، اس کو آپ ﷺ نے دائیں ہاتھ میں رکھا اور اس کے نگینے کو ہتھیلی کی طرف کیا تو لوگوں نے سونے کی انگوٹھیاں بنالیں، جب آپ ﷺ نے یہ دیکھا تو اسے اتار دیا اور فرمایا: ”میں اسے کبھی بھی نہیں پہنوں گا“، پھر آپ ﷺ نے چاندی کی انگوٹھی بنائی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ، وَجَعَلَ فَصَّهُ مِمَّا يَلِي كَفَّهُ فَاتَّخَذَ النَّاسُ فَرَمَى بِهِ، وَاتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ أَوْ فِضَّةٍ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ يَحْيَى.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سونے کی انگوٹھی بنائی اور اس کے نگینے کو ہتھیلی کی طرف کیا تو لوگوں نے بھی بنوالیں، چنانچہ آپ ﷺ نے انگوٹھی پھینک دی، پھر آپ ﷺ نے چاندی کی انگوٹھی بنوالی۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: " اتَّخَذَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ، فَكَانَ فِي يَدِهِ ثُمَّ كَانَ فِي يَدِ أَبِي بَكْرٍ مِنْ بَعْدِهِ، ثُمَّ كَانَ فِي يَدِ عُمَرَ ثُمَّ كَانَ فِي يَدِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ حَتَّى وَقَعَ مِنْهُ فِي بِئْرِ أَرِيسَ، نَقْشُهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَامٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَرُوِّينَا عَنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ يَتَخَتَّمُ فِي يَسَارِهِ، وَرُوِّينَا عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يَلْبَسُ خَاتَمَهُ فِي يَدِهِ الْيُسْرَى، ⦗٢٤٠⦘ فَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ الَّذِي جَعَلَ فِي يَدِهِ الْيُمْنَى مَا اتَّخَذَهُ مِنْ ذَهَبٍ ثُمَّ طَرَحَهُ وَالَّذِي جَعَلَهُ فِي يَسَارِهِ مَا اتَّخَذَهُ مِنْ وَرِقٍ جَمْعًا بَيْنَ الرِّوَايَتَيْنِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی جسے آپ ﷺ اپنے ہاتھ میں پہنا کرتے تھے، پھر وہ آپ ﷺ کے بعد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں تھی، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں رہی، پھر وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں تھی کہ وہ ان سے اریس کنویں میں گر گئی جس پر «مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللہِ» ”محمد اللہ کے رسول ہیں“ لکھا ہوا تھا۔
عبدالعزیز بن ابورواد، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ بائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہنتے تھے۔ نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہنتے تھے، مگر اس بات کا احتمال ہے کہ جسے آپ ﷺ نے دائیں ہاتھ میں پہنا وہ سونے کی انگوٹھی تھی جسے پھر آپ ﷺ نے پھینک دیا، اور جسے بائیں ہاتھ میں پہنا وہ چاندی کی انگوٹھی تھی، یہ دو روایتوں کی تطبیق ہے۔
عبدالعزیز بن ابورواد، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ بائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہنتے تھے۔ نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہنتے تھے، مگر اس بات کا احتمال ہے کہ جسے آپ ﷺ نے دائیں ہاتھ میں پہنا وہ سونے کی انگوٹھی تھی جسے پھر آپ ﷺ نے پھینک دیا، اور جسے بائیں ہاتھ میں پہنا وہ چاندی کی انگوٹھی تھی، یہ دو روایتوں کی تطبیق ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ، قَالَا: ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَخَتَّمَ بِخَاتَمٍ فِضَّةٍ فَلَبِسَهُ فِي يَمِينِهِ فَصُّهُ حَبَشِيٌّ، وَكَانَ يَجْعَلُ فَصَّهُ مِمَّا يَلِي بَطْنَ كَفِّهِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی اور اسے دائیں ہاتھ میں پہن لیا اور اس کے نگینے کو ہتھیلی کی طرف کرتے اور اس کا نگینہ حبشی تھا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ الْبُخَارِيُّ، ثنا صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَبَّادُ بْنُ مُوسَى، قَالَا: ثنا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: " اتَّخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ فِي يَمِينِهِ فِيهِ فَصٌّ حَبَشِيٌّ كَانَ يَجْعَلُ فَصَّهُ مِمَّا يَلِي كَفَّهُ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَبَّادِ بْنِ مُوسَى كَذَا قَالَ الزُّهْرِيُّ.
حافظ ثناء اللہ
زہری رحمہ اللہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی اور اسے دائیں ہاتھ میں پہنا، اس کا نگینہ حبشی تھا، جسے رسول اللہ ﷺ اپنی ہتھیلی کی طرف رکھتے تھے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: " كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ خَاتَمِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَوْمَى بِيَسَارِهِ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ خَلَّادٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ عَنْ حَمَّادٍ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: خَاتَمُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذِهِ وَأَشَارَ إِلَى الْخِنْصَرِ مِنْ يَدِهِ الْيُسْرَى.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ثابت رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: گویا کہ میں رسول اللہ ﷺ کی انگوٹھی کی سفیدی (نگینہ) کو دیکھ رہا ہوں اور بائیں ہاتھ کی طرف اشارہ کیا۔ دوسری حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ کی انگوٹھی اس میں تھی اور بائیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی کی طرف اشارہ کیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عُثْمَانَ الْأَهْوَازِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: " كَانَ خَاتَمُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذِهِ وَأَشَارَ إِلَى خِنْصَرِهِ مِنْ يَدِهِ الْيُسْرَى ". قَالَ الشَّيْخُ: وَيُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ هَذَا أَصَحَّ مِنْ رِوَايَةِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَنَسٍ فِي الْخَاتَمِ الَّذِي اتَّخَذَهُ مِنْ وَرِقٍ، فَقَدْ رَوَى الزُّهْرِيُّ عَنْ أَنَسٍ أنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَدِهِ خَاتَمٌ مِنْ وَرِقٍ يَوْمًا وَاحِدًا، ثُمَّ إِنَّ النَّاسَ اصْطَنَعُوا الْخَوَاتِيمَ مِنْ وَرِقٍ وَلَبِسُوهَا، فَطَرَحَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمَهُ، فَطَرَحَ النَّاسُ خَوَاتِيمَهُمْ، وَيُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ ذِكْرُ الْوَرِقِ فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ وَهْمًا سَبَقَ إِلَيْهِ لِسَانُ الزُّهْرِيِّ فَحُمِلَ عَنْهُ عَلَى الْوَهْمِ، فَالَّذِي طَرَحَهُ هُوَ خَاتَمُهُ مِنْ ذَهَبٍ، ثُمَّ اتَّخَذَ بَعْدَ ذَلِكَ خَاتَمَهُ مِنْ وَرِقٍ وَرِوَايَةُ ابْنِ عُمَرَ تَدُلُّ عَلَى أَنَّ الَّذِي جَعَلَهُ فِي يَمِينِهِ هُوَ خَاتَمُهُ مِنْ ذَهَبٍ ثُمَّ طَرَحَهُ فَيُشْتَبَهُ أَنْ يَكُونَ الْغَلَطُ فِي رِوَايَةِ يُونُسَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَنَسٍ وَقَعَ فِي هَذَا فَيَكُونُ أَنَسُ بْنُ ⦗٢٤١⦘ مَالِكٍ إِنَّمَا ذَكَرَ الْيَمِينَ فِي الَّذِي جَعَلَهُ مِنْ ذَهَبٍ كَمَا بَيَّنَهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ فَسَبَقَ لِسَانُ الزُّهْرِيِّ إِلَى الْوَرِقِ، وَوَقَعَ الْوَهْمُ فِي رِوَايَةِ مَنْ رَوَى عَنِ الزُّهْرِيِّ ذِكْرَ الْيَمِينَ فِي الْوَرِقِ وَاللهُ أَعْلَمُ. وَقَدْ رَوَى سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ مَا دَلَّ عَلَى صِحَّةِ هَذَا الْجَمْعِ وَهُوَ أَنَّ الَّذِي جَعَلَهُ فِي يَمِينِهِ خَاتَمُهُ مِنْ ذَهَبٍ، وَالَّذِي جَعَلَهُ فِي يَسَارِهِ خَاتَمُهُ مِنْ فِضَّةٍ وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کی انگوٹھی اس میں تھی اور اپنے بائیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی کی طرف اشارہ کیا۔
شیخ فرماتے ہیں کہ ایسا لگتا ہے کہ یہ زہری کی اس روایت سے زیادہ صحیح ہے جو انہوں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے آپ ﷺ کی اس انگوٹھی کے بارے میں روایت کی جو چاندی سے بنوائی تھی۔ زہری نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ ”انہوں نے ایک دن رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ میں چاندی کی انگوٹھی دیکھی، پھر لوگوں نے چاندی سے انگوٹھیاں بنوائیں اور انہیں پہنا، آپ ﷺ نے اپنی انگوٹھی پھینکی تو لوگوں نے بھی پھینک دیں“۔ ایسا لگتا ہے کہ اس قصے میں چاندی کا تذکرہ ایک وہم ہے جو زہری کی زبان پر آ گیا اور ان سے وہم ہی کی صورت میں نقل ہو گیا، کیونکہ جو انگوٹھی آپ ﷺ نے پھینکی وہ سونے کی تھی، پھر اس کے بعد آپ ﷺ نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت دلالت کرتی ہے کہ جو انگوٹھی آپ ﷺ نے دائیں ہاتھ میں پہنی وہ سونے کی تھی، پھر آپ ﷺ نے اسے پھینک دیا۔ لہٰذا ایسا لگتا ہے کہ یونس عن الزہری عن انس کی روایت میں غلطی یہیں واقع ہوئی ہے کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے دائیں ہاتھ کا ذکر سونے والی انگوٹھی ہی کے بارے میں کیا تھا، جیسا کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے وضاحت کی، مگر زہری کی زبان چاندی کی طرف چلی گئی، اور زہری سے روایت کرنے والوں کی روایت میں چاندی کی انگوٹھی کے ساتھ دائیں ہاتھ کے ذکر کا وہم واقع ہو گیا، واللہ اعلم۔ سلیمان بن بلال نے جعفر بن محمد سے، انہوں نے اپنے والد سے ایسی روایت بیان کی ہے جو اس تطبیق کے درست ہونے پر دلالت کرتی ہے، اور وہ یہ کہ جو انگوٹھی آپ ﷺ نے دائیں ہاتھ میں پہنی وہ سونے کی تھی اور جو بائیں ہاتھ میں پہنی وہ چاندی کی تھی، واللہ اعلم۔
شیخ فرماتے ہیں کہ ایسا لگتا ہے کہ یہ زہری کی اس روایت سے زیادہ صحیح ہے جو انہوں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے آپ ﷺ کی اس انگوٹھی کے بارے میں روایت کی جو چاندی سے بنوائی تھی۔ زہری نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ ”انہوں نے ایک دن رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ میں چاندی کی انگوٹھی دیکھی، پھر لوگوں نے چاندی سے انگوٹھیاں بنوائیں اور انہیں پہنا، آپ ﷺ نے اپنی انگوٹھی پھینکی تو لوگوں نے بھی پھینک دیں“۔ ایسا لگتا ہے کہ اس قصے میں چاندی کا تذکرہ ایک وہم ہے جو زہری کی زبان پر آ گیا اور ان سے وہم ہی کی صورت میں نقل ہو گیا، کیونکہ جو انگوٹھی آپ ﷺ نے پھینکی وہ سونے کی تھی، پھر اس کے بعد آپ ﷺ نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت دلالت کرتی ہے کہ جو انگوٹھی آپ ﷺ نے دائیں ہاتھ میں پہنی وہ سونے کی تھی، پھر آپ ﷺ نے اسے پھینک دیا۔ لہٰذا ایسا لگتا ہے کہ یونس عن الزہری عن انس کی روایت میں غلطی یہیں واقع ہوئی ہے کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے دائیں ہاتھ کا ذکر سونے والی انگوٹھی ہی کے بارے میں کیا تھا، جیسا کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے وضاحت کی، مگر زہری کی زبان چاندی کی طرف چلی گئی، اور زہری سے روایت کرنے والوں کی روایت میں چاندی کی انگوٹھی کے ساتھ دائیں ہاتھ کے ذکر کا وہم واقع ہو گیا، واللہ اعلم۔ سلیمان بن بلال نے جعفر بن محمد سے، انہوں نے اپنے والد سے ایسی روایت بیان کی ہے جو اس تطبیق کے درست ہونے پر دلالت کرتی ہے، اور وہ یہ کہ جو انگوٹھی آپ ﷺ نے دائیں ہاتھ میں پہنی وہ سونے کی تھی اور جو بائیں ہاتھ میں پہنی وہ چاندی کی تھی، واللہ اعلم۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَخَتَّمَ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ فِي يَدِهِ الْيُمْنَى عَلَى خِنْصَرِهِ حَتَّى رَجَعَ إِلَى الْبَيْتِ فَرَمَاهُ فَمَا لَبِسَهُ ثُمَّ تَخَتَّمَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ فَجَعَلَهُ فِي يَسَارِهِ وَأَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ وَعُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ وَعَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ وَحَسَنًا وَحُسَيْنًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ كَانُوا يَتَخَتَّمُونَ فِي يَسَارِهِمْ. قَالَ جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ: كَانَ فِي خَاتَمِ حَسَنٍ وَحُسَيْنٍ: ذِكْرُ اللهِ، قَالَ: وَكَانَ فِي خَاتَمِ أَبِي: الْعِزَّةُ لِلَّهِ جَمِيعًا.
حافظ ثناء اللہ
حضرت جعفر بن محمد اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے دائیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی میں سونے کی انگوٹھی پہنی، یہاں تک کہ جب آپ ﷺ گھر پلٹے تو اسے پھینک دیا، پھر اسے نہ پہنا، پھر چاندی کی انگوٹھی اپنے بائیں ہاتھ میں پہنی۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ، سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسن و حسین رضی اللہ عنہما نے بھی اپنے بائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہنی۔ جعفر بن محمد فرماتے ہیں: سیدنا حسن و حسین رضی اللہ عنہما کی انگوٹھی میں اللہ کا ذکر (کندہ) تھا، اور میرے والد کی انگوٹھی میں «الْعِزَّةُ لِلّٰهِ جَمِيعًا» ”ساری عزت اللہ ہی کے لیے ہے“ (کندہ) تھا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْأَسْفَاطِيُّ يَعْنِي عَبَّاسَ بْنَ الْفَضْلِ، ثنا سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ، ثنا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: " كَانَتْ قَبِيعَةُ سَيْفِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فِضَّةٍ ". تَفَرَّدَ بِهِ جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ وَالْحَدِيثُ مَعْلُولٌ بِمَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی تلوار کا دستہ چاندی کا تھا۔
اس روایت کو قتادہ عن انس سے بیان کرنے میں جریر بن حازم منفرد ہیں، اور یہ حدیث معلول ہے، جیسا کہ آگے آ رہا ہے۔
اس روایت کو قتادہ عن انس سے بیان کرنے میں جریر بن حازم منفرد ہیں، اور یہ حدیث معلول ہے، جیسا کہ آگے آ رہا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ قَالَ: " كَانَتْ قَبِيعَةُ سَيْفِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِضَّةً " قَالَ قَتَادَةُ: وَمَا رَأَيْتُ أَحَدًا تَابَعَهُ عَلَى ذَلِكَ. قَالَ الشَّيْخُ: وَهَذَا مُرْسَلٌ وَهُوَ الْمَحْفُوظُ وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ مَوْصُولًا عَنْ أَنَسٍ.
حافظ ثناء اللہ
سعید بن ابوالحسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی تلوار کا دستہ چاندی کا تھا۔ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے نہیں دیکھا کہ کسی نے ایسا کہا ہو۔
یہ روایت مرسل ہے اور یہی محفوظ ہے، اور ایک دوسری سند سے یہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے موصولاً بھی روایت کی گئی ہے۔
یہ روایت مرسل ہے اور یہی محفوظ ہے، اور ایک دوسری سند سے یہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے موصولاً بھی روایت کی گئی ہے۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا عَبْدَانُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ يَعْنِي أَبَا غَسَّانَ الْعَنْبَرِيَّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعْدٍ الْكَاتِبُ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ قَبِيعَةَ سَيْفِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ مِنْ فِضَّةٍ. وَرَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَشَّارٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ كَثِيرٍ وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی تلوار کا دستہ چاندی سے بنا ہوا تھا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو ⦗٢٤٢⦘ الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو عُتْبَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حِمْيَرَ، ثنا أَبُو الْحَكَمِ، حَدَّثَنِي مَرْزُوقٌ الصَّيْقَلُ قَالَ: " صَقَلْتُ سَيْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَا الْفَقَارِ، فَكَانَ فِيهِ قَبِيعَةٌ مِنْ فِضَّةٍ وَبَكَرَةٌ فِي وَسَطِهِ مِنْ فِضَّةٍ وَحَلَقٌ فِي قَيْدِهِ مِنْ فِضَّةٍ ".
حافظ ثناء اللہ
مرزوق صیقل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کی تلوار کو صاف کیا تو اس کا دستہ چاندی کا تھا، اس کا نام ذوالفقار تھا، اس کا قبیعہ چاندی کا تھا اور درمیان میں چاندی کا چھلا لگا ہوا تھا اور اس کی بندش کے حلقے بھی چاندی کے تھے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا هَارُونُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ تَقَلَّدَ سَيْفَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَوْمَ قَتْلِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَكَانَ مُحَلًّى، قَالَ: قُلْتُ: كَمْ كَانَتْ حِلْيَتُهُ؟ قَالَ: أَرْبَعُمِائَةٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی تلوار کو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے دن گلے میں لٹکایا اور وہ آراستہ تھی، وہ فرماتے ہیں: میں نے کہا: اس کا زیور کتنا تھا؟ تو انہوں نے کہا: چار سو۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءٍ، عَنْ نَافِعٍ قَالَ: " أُصِيبَ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ يَوْمَ صِفِّينَ، فَاشْتَرَى مُعَاوِيَةُ سَيْفَهُ فَبَعَثَ بِهِ إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ جُوَيْرِيَةُ: فَقُلْتُ لِنَافِعٍ هُوَ سَيْفُ عُمَرَ الَّذِي كَانَ؟ قَالَ: نَعَمْ. قُلْتُ: فَمَا كَانَتْ حِلْيَتُهُ؟ قَالَ: وَجَدُوا فِي نَعْلِهِ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عبید اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جنگِ صفین میں شہید ہو گئے تو ان کی تلوار امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے خریدی اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو بھیج دی، جویریہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے نافع رحمہ اللہ سے کہا: وہ تلوار عمر رضی اللہ عنہ کی تھی؟ تو انہوں نے کہا: ہاں، تو میں نے کہا: اس کا زیور کتنا تھا؟ انہوں نے کہا کہ اس کی میان میں سے انہیں چالیس درہم حاصل ہوئے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو هَمَّامٍ السَّكُونِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: " كَانَ سَيْفُ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مُحَلًّى بِفِضَّةٍ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ فَرْوَةَ بْنِ أَبِي الْمَغْرَاءِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ وَزَادَ قَالَ هِشَامٌ: وَكَانَ سَيْفُ عُرْوَةَ مُحَلًّى بِفِضَّةٍ.
حافظ ثناء اللہ
ہشام بن عروہ رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کی تلوار چاندی سے مرصع تھی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ، ثنا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا الْمَسْعُودِيُّ قَالَ: " رَأَيْتُ فِي بَيْتِ الْقَاسِمِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ سَيْفًا قَبِيعَتُهُ مِنْ فِضَّةٍ، فَقُلْتُ: سَيْفُ مَنْ هَذَا؟ قَالَ: سَيْفُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ".
حافظ ثناء اللہ
مسعودی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابو القاسم ابن عبدالرحمن کے گھر میں دیکھا کہ تلوار لٹکی ہوئی ہے اور اس کا دستہ چاندی کا تھا، میں نے کہا: یہ تلوار کس کی ہے؟ تو انہوں نے کہا: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: سَأَلْتُ مَالِكًا عَنْ تَفْضِيضِ الْمَصَاحِفِ، فَأَخْرَجَ إِلَيْنَا مُصْحَفًا، فَقَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، أَنَّهُمْ جَمَعُوا الْقُرْآنَ عَلَى عَهْدِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَأَنَّهُمْ فَضَّضُوا الْمَصَاحِفَ عَلَى هَذَا أَوْ نَحْوِهِ.
حافظ ثناء اللہ
ولید بن مسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے مالک رحمہ اللہ سے مصحف کے چاندی سے آراستہ کرنے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے ایک مصحف نکالا، پھر کہا: مجھے میرے والد نے میرے دادا سے حدیث بیان کی کہ انہوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں قرآن جمع کیا اور مصاحف کو اسی طرح یا اس جیسا چاندی سے مزین کیا۔