السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: ما ورد فيما يجوز للرجل أن يتحلى به من خاتمه وحلية سيفه ومصحفه إذا كان من فضة. باب: مرد کے لیے ان چیزوں کو بطور زیور استعمال کرنے کے جواز کے متعلق جو منقول ہے جیسے اس کی انگوٹھی، اس کی تلوار کا زیور اور اس کے مصحف (قرآن مجید) کا زیور، جب وہ چاندی کا ہو۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَخَتَّمَ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ فِي يَدِهِ الْيُمْنَى عَلَى خِنْصَرِهِ حَتَّى رَجَعَ إِلَى الْبَيْتِ فَرَمَاهُ فَمَا لَبِسَهُ ثُمَّ تَخَتَّمَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ فَجَعَلَهُ فِي يَسَارِهِ وَأَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ وَعُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ وَعَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ وَحَسَنًا وَحُسَيْنًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ كَانُوا يَتَخَتَّمُونَ فِي يَسَارِهِمْ. قَالَ جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ: كَانَ فِي خَاتَمِ حَسَنٍ وَحُسَيْنٍ: ذِكْرُ اللهِ، قَالَ: وَكَانَ فِي خَاتَمِ أَبِي: الْعِزَّةُ لِلَّهِ جَمِيعًا.حضرت جعفر بن محمد اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے دائیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی میں سونے کی انگوٹھی پہنی، یہاں تک کہ جب آپ ﷺ گھر پلٹے تو اسے پھینک دیا، پھر اسے نہ پہنا، پھر چاندی کی انگوٹھی اپنے بائیں ہاتھ میں پہنی۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ، سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسن و حسین رضی اللہ عنہما نے بھی اپنے بائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہنی۔ جعفر بن محمد فرماتے ہیں: سیدنا حسن و حسین رضی اللہ عنہما کی انگوٹھی میں اللہ کا ذکر (کندہ) تھا، اور میرے والد کی انگوٹھی میں «الْعِزَّةُ لِلّٰهِ جَمِيعًا» ”ساری عزت اللہ ہی کے لیے ہے“ (کندہ) تھا۔