کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: ان احادیث کا سیاق جو عورتوں کے لیے اس (سونے کے زیور) کے مباح ہونے پر دلالت کرتی ہیں۔
حدیث نمبر: 7558
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ أَبِي حَامِدٍ الْمُقْرِئُ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدَ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْحَرِيرُ وَالذَّهَبُ حَرَامٌ عَلَى ذُكُورِ أُمَّتِي حِلٌّ لِإِنَاثِهِمْ ". وَقَدْ رُوِّينَاهُ مِنْ حَدِيثِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ وَعَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”ریشم اور سونا ہمارے مردوں پر حرام ہے اور ان کی عورتوں کے لیے حلال ہے۔“
حدیث نمبر: 7559
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا ابْنُ نُفَيْلٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبَّادٍ، عَنْ أَبِيهِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَدِمَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِلْيَةٌ مِنْ عِنْدِ النَّجَاشِيِّ أَهْدَاهَا لَهُ، فِيهَا خَاتَمٌ مِنْ ذَهَبٍ فِيهِ فَصٌّ حَبَشِيٌّ، قَالَتْ: فَأَخَذَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعُودٍ مُعْرِضًا عَنْهُ أَوْ بِبَعْضِ أَصَابِعِهِ، ثُمَّ دَعَا أُمَامَةَ بِنْتَ أَبِي الْعَاصِ بِنْتِ ابْنَتِهِ زَيْنَبَ، فَقَالَ: " تَحَلَّيْ هَذَا يَا بُنَيَّةِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے پاس نجاشی کی طرف سے زیور کا تحفہ آیا، جس میں سونے کی انگوٹھی تھی اور اس میں حبشی نگینہ تھا، وہ فرماتی ہیں: نبی کریم ﷺ نے اسے لکڑی سے، یا (اس سے) اعراض کرتے ہوئے، یا اپنی کسی انگلی سے پکڑا، پھر آپ ﷺ نے امامہ بنت ابی العاص رضی اللہ عنہا، جو آپ ﷺ کی نواسی تھیں، سے فرمایا: ”اے بچی! یہ تو پہن لے۔“
حدیث نمبر: 7560
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُزَكِّي، وَأَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ حَاتِمِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَارَةَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ نُبَيْطٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَلَّى أُمَّهَا وَخَالَتَهَا، وَكَانَ أَبُوهُمَا أَبُو أُمَامَةَ أَسْعَدُ بْنُ زُرَارَةَ أَوْصَى بِهِمَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَلَّاهُمَا رِعَاثًا مِنْ تِبْرٍ ذَهَبٍ فِيهِ لُؤْلُؤٌ، قَالَتْ زَيْنَبُ: وَقَدْ أَدْرَكْتُ الْحُلِيَّ أَوْ بَعْضَهُ.
حافظ ثناء اللہ
زینب بنت نبیط رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کی ماں اور خالہ کو زیور پہنایا اور ان کے والد ابو امامہ بن زرارہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کو ان کی وصیت کی تھی۔ چنانچہ آپ ﷺ نے ان دونوں کو سونے کی بالیاں پہنائیں جن میں ہیرے کا جڑاؤ تھا۔ زینب رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے بھی وہ زیور پایا یا اس کا کچھ حصہ۔
حدیث نمبر: 7561
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو عُبَيْدٍ، ثنا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَارَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُمَارَةَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ نُبَيْطٍ، عَنْ أُمِّهَا، قَالَتْ: " كُنْتُ فِي حِجْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَأُخْتَايَ، فَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَلِّينَا الذَّهَبَ وَاللُّؤْلُؤَ ". ⦗٢٣٩⦘ لَفْظُ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي عُبَيْدٍ فَكَانَ يُحَلِّينَا، قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ: رِعَاثًا مِنْ ذَهَبٍ وَلُؤْلُؤٍ، وَقَالَ صَفْوَانُ: يُحَلِّينَا التِّبْرَ وَاللُّؤْلُؤَ، قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ قَالَ أَبُو عَمْرٍو: وَاحِدُ الرِّعَاثِ رَعَثَةٌ وَرَعْثَةٌ، وَهُوَ الْقُرْطُ فَهَذِهِ الْأَخْبَارُ وَمَا وَرَدَ فِي مَعْنَاهَا تَدُلُّ عَلَى إِبَاحَةِ التَّحَلِّي بِالذَّهَبِ لِلنِّسَاءِ، وَاسْتَدْلَلْنَا بِحُصُولِ الْإِجْمَاعِ عَلَى إِبَاحَتِهِ لَهُنَّ عَلَى نَسْخِ الْأَخْبَارِ الدَّالَّةِ عَلَى تَحْرِيمِهِ فِيهِنَّ خَاصَّةً وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ زینب رضی اللہ عنہا اپنی والدہ سے نقل فرماتی ہیں کہ میں نبی کریم ﷺ کی پرورش میں تھی اور میری بہن بھی، آپ ﷺ نے ہمیں زیور پہنایا جس میں ہیرے کا جڑاؤ تھا۔
ابو عبید کی ایک روایت میں ہے کہ وہ ہمیں زیور پہنایا کرتے تھے۔ ابن جعفر کہتے ہیں: سونے اور ہیرے کی بالیاں۔ صفوان کہتے ہیں: ہمیں زیور پہناتے «تِبْرٍ» اور «لُؤْلُؤٍ» سے۔ ابو عمرو کہتے ہیں: «رِعَاثٍ» کی واحد «رَعْثَةٌ» ہے۔ «رَعْثَةٌ» «قُرْطٌ» ہے (بالی) سو یہ اخبار ان معانی میں وارد ہوئی ہیں جو عورتوں کے لیے سونے کے زیور کو جائز قرار دیتی ہیں، اس لیے ہم نے عورتوں کے لیے اس کی اباحت پر اجماع کیا ہے جو اس کی تحریم کی احادیث کے منسوخ ہونے پر دلیل ہے۔
ابو عبید کی ایک روایت میں ہے کہ وہ ہمیں زیور پہنایا کرتے تھے۔ ابن جعفر کہتے ہیں: سونے اور ہیرے کی بالیاں۔ صفوان کہتے ہیں: ہمیں زیور پہناتے «تِبْرٍ» اور «لُؤْلُؤٍ» سے۔ ابو عمرو کہتے ہیں: «رِعَاثٍ» کی واحد «رَعْثَةٌ» ہے۔ «رَعْثَةٌ» «قُرْطٌ» ہے (بالی) سو یہ اخبار ان معانی میں وارد ہوئی ہیں جو عورتوں کے لیے سونے کے زیور کو جائز قرار دیتی ہیں، اس لیے ہم نے عورتوں کے لیے اس کی اباحت پر اجماع کیا ہے جو اس کی تحریم کی احادیث کے منسوخ ہونے پر دلیل ہے۔