السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: ما ورد فيما يجوز للرجل أن يتحلى به من خاتمه وحلية سيفه ومصحفه إذا كان من فضة. باب: مرد کے لیے ان چیزوں کو بطور زیور استعمال کرنے کے جواز کے متعلق جو منقول ہے جیسے اس کی انگوٹھی، اس کی تلوار کا زیور اور اس کے مصحف (قرآن مجید) کا زیور، جب وہ چاندی کا ہو۔
حدیث نمبر: 7577
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ، ثنا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا الْمَسْعُودِيُّ قَالَ: " رَأَيْتُ فِي بَيْتِ الْقَاسِمِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ سَيْفًا قَبِيعَتُهُ مِنْ فِضَّةٍ، فَقُلْتُ: سَيْفُ مَنْ هَذَا؟ قَالَ: سَيْفُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ".حافظ ثناء اللہ
مسعودی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابو القاسم ابن عبدالرحمن کے گھر میں دیکھا کہ تلوار لٹکی ہوئی ہے اور اس کا دستہ چاندی کا تھا، میں نے کہا: یہ تلوار کس کی ہے؟ تو انہوں نے کہا: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی۔