السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: ما ورد فيما يجوز للرجل أن يتحلى به من خاتمه وحلية سيفه ومصحفه إذا كان من فضة. باب: مرد کے لیے ان چیزوں کو بطور زیور استعمال کرنے کے جواز کے متعلق جو منقول ہے جیسے اس کی انگوٹھی، اس کی تلوار کا زیور اور اس کے مصحف (قرآن مجید) کا زیور، جب وہ چاندی کا ہو۔
حدیث نمبر: 7573
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو ⦗٢٤٢⦘ الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو عُتْبَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حِمْيَرَ، ثنا أَبُو الْحَكَمِ، حَدَّثَنِي مَرْزُوقٌ الصَّيْقَلُ قَالَ: " صَقَلْتُ سَيْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَا الْفَقَارِ، فَكَانَ فِيهِ قَبِيعَةٌ مِنْ فِضَّةٍ وَبَكَرَةٌ فِي وَسَطِهِ مِنْ فِضَّةٍ وَحَلَقٌ فِي قَيْدِهِ مِنْ فِضَّةٍ ".حافظ ثناء اللہ
مرزوق صیقل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کی تلوار کو صاف کیا تو اس کا دستہ چاندی کا تھا، اس کا نام ذوالفقار تھا، اس کا قبیعہ چاندی کا تھا اور درمیان میں سونا لگا ہوا تھا اور اس کا حلقہ بھی چاندی کا تھا۔