السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: ما ورد فيما يجوز للرجل أن يتحلى به من خاتمه وحلية سيفه ومصحفه إذا كان من فضة. باب: مرد کے لیے ان چیزوں کو بطور زیور استعمال کرنے کے جواز کے متعلق جو منقول ہے جیسے اس کی انگوٹھی، اس کی تلوار کا زیور اور اس کے مصحف (قرآن مجید) کا زیور، جب وہ چاندی کا ہو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عُثْمَانَ الْأَهْوَازِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: " كَانَ خَاتَمُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذِهِ وَأَشَارَ إِلَى خِنْصَرِهِ مِنْ يَدِهِ الْيُسْرَى ". قَالَ الشَّيْخُ: وَيُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ هَذَا أَصَحَّ مِنْ رِوَايَةِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَنَسٍ فِي الْخَاتَمِ الَّذِي اتَّخَذَهُ مِنْ وَرِقٍ، فَقَدْ رَوَى الزُّهْرِيُّ عَنْ أَنَسٍ أنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَدِهِ خَاتَمٌ مِنْ وَرِقٍ يَوْمًا وَاحِدًا، ثُمَّ إِنَّ النَّاسَ اصْطَنَعُوا الْخَوَاتِيمَ مِنْ وَرِقٍ وَلَبِسُوهَا، فَطَرَحَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمَهُ، فَطَرَحَ النَّاسُ خَوَاتِيمَهُمْ، وَيُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ ذِكْرُ الْوَرِقِ فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ وَهْمًا سَبَقَ إِلَيْهِ لِسَانُ الزُّهْرِيِّ فَحُمِلَ عَنْهُ عَلَى الْوَهْمِ، فَالَّذِي طَرَحَهُ هُوَ خَاتَمُهُ مِنْ ذَهَبٍ، ثُمَّ اتَّخَذَ بَعْدَ ذَلِكَ خَاتَمَهُ مِنْ وَرِقٍ وَرِوَايَةُ ابْنِ عُمَرَ تَدُلُّ عَلَى أَنَّ الَّذِي جَعَلَهُ فِي يَمِينِهِ هُوَ خَاتَمُهُ مِنْ ذَهَبٍ ثُمَّ طَرَحَهُ فَيُشْتَبَهُ أَنْ يَكُونَ الْغَلَطُ فِي رِوَايَةِ يُونُسَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَنَسٍ وَقَعَ فِي هَذَا فَيَكُونُ أَنَسُ بْنُ ⦗٢٤١⦘ مَالِكٍ إِنَّمَا ذَكَرَ الْيَمِينَ فِي الَّذِي جَعَلَهُ مِنْ ذَهَبٍ كَمَا بَيَّنَهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ فَسَبَقَ لِسَانُ الزُّهْرِيِّ إِلَى الْوَرِقِ، وَوَقَعَ الْوَهْمُ فِي رِوَايَةِ مَنْ رَوَى عَنِ الزُّهْرِيِّ ذِكْرَ الْيَمِينَ فِي الْوَرِقِ وَاللهُ أَعْلَمُ. وَقَدْ رَوَى سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ مَا دَلَّ عَلَى صِحَّةِ هَذَا الْجَمْعِ وَهُوَ أَنَّ الَّذِي جَعَلَهُ فِي يَمِينِهِ خَاتَمُهُ مِنْ ذَهَبٍ، وَالَّذِي جَعَلَهُ فِي يَسَارِهِ خَاتَمُهُ مِنْ فِضَّةٍ وَاللهُ أَعْلَمُ.سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کی انگوٹھی اس میں تھی اور اپنے بائیں ہاتھ کی درمیانی انگلی کی طرف اشارہ کیا۔
شیخ فرماتے ہیں کہ اس بات کا شبہ ہے کہ یہ زہری کی روایت سے زیادہ صحیح ہو جو انہوں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ آپ ﷺ کی اس انگوٹھی کے بارے میں جو چاندی سے بنوائی تھی تو زہری نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ ”رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ میں چاندی کی انگوٹھی دیکھی، پھر لوگوں نے چاندی سے انگوٹھیاں بنوائیں اور انہیں پہنا، آپ ﷺ نے اپنی انگوٹھی پھینکی تو لوگوں نے بھی پھینک دیں“۔ اس میں یہ شبہ ہے کہ اس قصے میں چاندی کی انگوٹھی کا تذکرہ پہلے قصہ سے ہو تو اسے وہم پر محمول کر لیا گیا کیونکہ جو آپ ﷺ نے انگوٹھی پھینکی وہ سونے کی تھی، پھر چاندی سے بنوائی۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت دلالت کرتی ہے کہ جو آپ ﷺ نے دائیں ہاتھ میں پہنی وہ سونے کی انگوٹھی تھی، پھر اسے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بھی پھینک دیا جس کا دائیں ہاتھ میں تذکرہ کیا وہ سونے کی تھی۔