السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: ما ورد فيما يجوز للرجل أن يتحلى به من خاتمه وحلية سيفه ومصحفه إذا كان من فضة. باب: مرد کے لیے ان چیزوں کو بطور زیور استعمال کرنے کے جواز کے متعلق جو منقول ہے جیسے اس کی انگوٹھی، اس کی تلوار کا زیور اور اس کے مصحف (قرآن مجید) کا زیور، جب وہ چاندی کا ہو۔
حدیث نمبر: 7575
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءٍ، عَنْ نَافِعٍ قَالَ: " أُصِيبَ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ يَوْمَ صِفِّينَ، فَاشْتَرَى مُعَاوِيَةُ سَيْفَهُ فَبَعَثَ بِهِ إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ جُوَيْرِيَةُ: فَقُلْتُ لِنَافِعٍ هُوَ سَيْفُ عُمَرَ الَّذِي كَانَ؟ قَالَ: نَعَمْ. قُلْتُ: فَمَا كَانَتْ حِلْيَتُهُ؟ قَالَ: وَجَدُوا فِي نَعْلِهِ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا ".حافظ ثناء اللہ
حضرت نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عبید اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جنگِ صفین میں شہید ہو گئے تو ان کی تلوار امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے خریدی اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو بھیج دی، جویریہ رحمہا اللہ فرماتی ہیں کہ میں نے نافع رحمہ اللہ سے کہا: وہ تلوار عمر رضی اللہ عنہ کی تھی؟ تو انہوں نے کہا: ہاں، تو میں نے کہا: اس کا زیور کتنا تھا؟ انہوں نے کہا کہ اس کی میان میں سے انہیں چالیس درہم حاصل ہوئے۔