السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: ما ورد فيما يجوز للرجل أن يتحلى به من خاتمه وحلية سيفه ومصحفه إذا كان من فضة. باب: مرد کے لیے ان چیزوں کو بطور زیور استعمال کرنے کے جواز کے متعلق جو منقول ہے جیسے اس کی انگوٹھی، اس کی تلوار کا زیور اور اس کے مصحف (قرآن مجید) کا زیور، جب وہ چاندی کا ہو۔
حدیث نمبر: 7576
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو هَمَّامٍ السَّكُونِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: " كَانَ سَيْفُ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مُحَلًّى بِفِضَّةٍ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ فَرْوَةَ بْنِ أَبِي الْمَغْرَاءِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ وَزَادَ قَالَ هِشَامٌ: وَكَانَ سَيْفُ عُرْوَةَ مُحَلًّى بِفِضَّةٍ.حافظ ثناء اللہ
ہشام بن عروہ رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کی تلوار چاندی سے مرصع تھی۔