کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: (کپڑے پر ریشمی) علامات کی رخصت اور اس کپڑے کی رخصت جس کی بناوٹ میں ریشم، روئی یا کتان ہو اور روئی کا غلبہ ہو
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ قَالَ: ⦗٣٨٢⦘ كَتَبَ إِلَيْنَا عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَنَحْنُ بِأَذْرَبِيجَانَ: " يَا عُتْبَةُ بْنَ فَرْقَدٍ، إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ كَدِّكَ وَلَا كَدِّ أَبِيكَ وَلَا كَدِّ أُمِّكَ، قَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَأَشْبِعِ الْمُسْلِمِينَ فِي رِحَالِهِمْ مِمَّا تَشْبَعُ مِنْهُ فِي رَحْلِكَ، وَإِيَّاكُمْ وَالتَّنَعُّمَ، وَزِيَّ أَهْلِ الشِّرْكِ، وَلَبُوسَ الْحَرِيرِ، فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ إِلَّا هَكَذَا، وَرَفَعَ لَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُصْبُعَيْهِ ". قَالَ زُهَيْرٌ: قَالَ عَاصِمٌ: هَذَا فِي الْكِتَابُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ جَمِيعًا فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ يُونُسَ مُخْتَصَرًا.
حافظ ثناء اللہ
ابوعثمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ہمیں خط لکھا، ہم آذربائیجان میں تھے: اے عتبہ بن فرقد! یہ نہ تیرے ماں باپ کی اور نہ تیری محنت سے حاصل ہوا ہے۔ تین مرتبہ فرمایا اور فرمایا: تم اپنی سواریوں کو مسلمانوں کی سواریوں کی مانند رکھو اور زیب و زینت سے بچو اور مشرکین کی مشابہت اور ریشمی لباس پہننے سے بچو؛ کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے ”ریشمی لباس پہننے سے منع کیا ہے، صرف دو انگلیوں کی مقدار۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْمُوَيْهِ الْعَسْكَرِيُّ بِالْبَصْرَةِ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلَانِسِيُّ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا قَتَادَةُ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ النَّهْدِيَّ يَقُولُ: أَتَانَا كِتَابُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَنَحْنُ مَعَ عُتْبَةَ بْنِ فَرْقَدٍ بِأَذْرَبِيجَانَ: " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْحَرِيرِ إِلَّا هَكَذَا، وَأَشَارَ بِإِصْبَعَيْهِ اللَّتَيْنِ تَلِيَانِ الْإِبْهَامَ ". قَالَ: فَمَا عَتَّمْنَا أَنَّهُ يَعْنِي الْإِعْلَامَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ آدَمَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ شُعْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
ابوعثمان نہدی فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا خط آیا اور ہم آذربائیجان میں سیدنا عتبہ بن فرقد رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے کہ نبی کریم ﷺ نے ”ریشم پہننے کے لیے صرف دو انگلیوں کی اجازت دی ہے، یعنی علامت کے طور پر۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ، ثنا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، ثنا أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " نَهَى نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ إِلَّا مَوْضِعَ أُصْبُعَيْنِ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي غَسَّانَ الْمِسْمَعِيِّ وَمُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى عَنْ مُعَاذِ بْنِ هِشَامٍ.
حافظ ثناء اللہ
ابوعثمان رحمہ اللہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ”ریشم پہننے کی اجازت صرف دو انگلیوں کی مقدار دی ہے“۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ، ثنا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، ثنا أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ قَالَ: خَطَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِالْجَابِيَةِ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ إِلَّا مَوْضِعَ أُصْبُعَيْنِ، أَوْ ثَلَاثَةٍ، أَوْ أَرْبَعَةٍ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ الْقَوَارِيرِيِّ وَجَمَاعَةٍ عَنْ مُعَاذِ بْنِ هِشَامٍ. وَكَذَلِكَ رَوَاهُ ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، وَرَوَاهُ أَيْضًا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " كَانَ يَنْهَى عَنِ الْحَرِيرِ وَالدِّيبَاجِ إِلَّا مَا كَانَ هَكَذَا، ثُمَّ أَشَارَ بِإِصْبَعِهِ ثُمَّ الثَّانِيَةِ ثُمَّ ⦗٣٨٣⦘ الثَّالِثَةِ ثُمَّ الرَّابِعَةِ، قَالَ: " وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَانَا عَنْهُ ". أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ فَذَكَرَهُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنِ ابْنِ نُمَيْرٍ عَنْ حَفْصٍ.
حافظ ثناء اللہ
سوید بن غفلہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے جابیہ میں خطبہ ارشاد فرمایا کہ نبی ﷺ نے ”ریشم پہننے کی اجازت صرف دو، تین یا چار انگلیوں کی مقدار تک دی ہے۔“
(ب) ابوعثمان رحمہ اللہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ ریشم پہننے سے منع فرماتے تھے، لیکن (اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:) دو، تین یا چار انگلیوں کی مقدار کے برابر اجازت ہے اور نبی ﷺ بھی ”اس سے زیادہ مقدار سے منع فرماتے تھے۔“
(ب) ابوعثمان رحمہ اللہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ ریشم پہننے سے منع فرماتے تھے، لیکن (اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:) دو، تین یا چار انگلیوں کی مقدار کے برابر اجازت ہے اور نبی ﷺ بھی ”اس سے زیادہ مقدار سے منع فرماتے تھے۔“
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ الصَّيْرَفِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ فِي الْعَلَمِ فِي الثَّوْبِ، فَأَرَادَ أَنْ يَفْتَتِحَ حَدِيثًا ثُمَّ قَالَ: أَخْبَرَنِي هَذَا الرَّجُلُ مِنَ الْقَوْمِ اسْمُهُ عَبْدُ اللهِ مَوْلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، فَقَالَ لَهُ عَطَاءٌ: حَدِّثْ، فَحَدَّثَ بَيْنَ يَدَيْ عَطَاءٍ، قَالَ: أَرْسَلَتْنِي أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّكَ تُحَرِّمُ أَشْيَاءَ ثَلَاثًا: صَوْمَ رَجَبٍ كُلِّهِ، وَمِيثَرَةَ الْأُرْجُوَانِ، وَالْعَلَمَ فِي الثَّوْبِ، فَقَالَ: أَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنْ صَوْمِ رَجَبٍ كُلِّهِ فَكَيْفَ مَنْ صَامَ الْأَبَدَ، وَأَمَّا الْعَلَمُ فِي الثَّوْبِ، فَإِنَّ عُمَرَ حَدَّثَنِي أَنَّهُ سَمَعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ لَبِسَ الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا لَمْ يَلْبَسْهُ فِي الْآخِرَةِ". فَأَخَافُ أَنْ يَكُونَ الْعَلَمُ فِي الثَّوْبِ مِنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ، وَأَمَّا مِيثَرَةُ الْأُرْجُوَانِ فَهَذِهِ مِيثَرَةُ ابْنِ عُمَرَ فَأَرْجُو أَنْ تَرَاهَا"، قَالَ: نَعَمْ، يَعْنِي: فَذَهَبَ إِلَى أَسْمَاءَ فَأَخْبَرَهَا: قَالَ عَبْدُ اللهِ: فَأَخْرَجَتْ إِلَيَّ جُبَّةً مِنْ طَيَالِسَةٍ لَهَا لَبِنَةٌ مِنْ دِيبَاجٍ خِسْرَوانِيٍّ. وَفِي سَمَاعِ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى: كِسْرَوَانِيٍّ، وَفَرْجَيْهَا مَكْفُوفَيْنِ بِهِ، فَقَالَتْ: " هَذِهِ جُبَّةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَلْبَسُهَا، فَلَمَّا قُبِضَ كَانَتْ عِنْدَ عَائِشَةَ، فَلَمَّا قُبِضَتْ قَبَضْتُهَا إِلَيَّ، فَنَحْنُ نَغْسِلُهَا لِلْمَرِيضِ مِنَّا إِذَا اشْتَكَى وَنَسْتَشْفِي بِهَا". أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ.
حافظ ثناء اللہ
عبد الملک، عطاء سے کپڑے میں کڑھائی کے بارے میں نقل فرماتے ہیں، ان کا ارادہ حدیث بیان کرنے کا تھا۔ پھر کہنے لگے: سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کے غلام عبداللہ نے بیان کیا، عطاء نے فرمایا: آپ حدیث بیان کریں تو اس نے عطاء کے سامنے حدیث بیان کی کہ سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا نے مجھے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی جانب بھیجا کہ مجھے خبر ملی ہے کہ آپ تین چیزوں کو حرام قرار دیتے ہیں: ایک تو رجب کے مکمل روزے، دوسری ریشم کی سرخ رنگ کی زین اور تیسری کڑھائی والا کپڑا۔ فرماتے ہیں: جو تو نے رجب کے مکمل روزوں کا تذکرہ کیا ہے اس کے مکمل روزے کون رکھتا ہے؟ اور دھاری دار کپڑا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ ”جس نے ریشم دنیا میں پہنا وہ آخرت کو نہیں پہنے گا“۔ میں ڈرتا ہوں کہیں (ریشم کی) کڑھائی والا کپڑا بھی ریشم شمار نہ ہو اور سرخ زین کے متعلق فرمایا: یہ ابن عمر کی زین ہے۔ امید ہے آپ اس کو دیکھ لیں گے۔ میں نے کہا: جی ہاں۔ پھر وہ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور ان کو خبر دی۔ عبداللہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے طیالسی جبہ نکالا، اس کا گریبان ریشم کا تھا اور اس کی آستینیں بھی ریشم کی تھیں۔ فرماتی ہیں: یہ رسول اللہ ﷺ کا جبہ ہے، جس کو آپ ﷺ پہنا کرتے تھے۔ جب آپ ﷺ فوت ہوئے تو یہ جبہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھا اور جب وہ فوت ہوئیں تو میں نے اسے لے لیا۔ پھر ہم اس کو مریضوں کے لیے دھویا کرتی تھیں اور اس سے شفا حاصل کرتی تھیں۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، ثنا الْمُغِيرَةُ بْنُ زِيَادٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ أَبُو عُمَرَ مَوْلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ قَالَ: " رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ فِي السُّوقِ اشْتَرَى ثَوْبًا شَامِيًّا فَرَأَى فِيهِ خَيْطًا أَحْمَرُ فَرَدَّهُ، فَأَتَيْتُ أَسْمَاءَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهَا، فَقَالَتْ: " يَا جَارِيَةُ، نَاوِلِينِي جُبَّةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "، فَأَخْرَجَتْ لَهُ جُبَّةً طَيَالِسَةً مَكْفُوفَةَ الْجَيْبِ وَالْكُمَّيْنِ وَالْفَرْجَيْنِ بِالدِّيبَاجِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کے غلام عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا، انہوں نے بازار سے شامی کپڑے خریدے، جن میں سرخ دھاگہ تھا۔ میں نے سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کو یہ بتایا تو وہ فرمانے لگیں: اے بچی! مجھے رسول اللہ ﷺ کا جبہ پکڑانا۔ اس نے طیالسی جبہ، جس کو ریشم کے بٹن لگے ہوئے تھے اور آستینیں بھی ریشمی تھیں اور ریشم کے پیوند لگے ہوئے تھے، لا کر دیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلَ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا زُهَيْرٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ الذُّهْلِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ أَبُو خَيْثَمَةَ، عَنْ خُصَيْفٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " إِنَّمَا كَرِهَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الثَّوْبَ الْمُصْمَتَ مِنَ الْحَرِيرِ، فَأَمَّا الْعَلَمُ مِنَ الْحَرِيرِ أَوْ سَدَى الثَّوْبِ فَلَيْسَ بِهِ بَأْسٌ ". لَفْظُ حَدِيثِ يَحْيَى، وَفِي رِوَايَةِ عَمْرٍو " نَهَى " بَدَلَ " كَرِهَ "، وَقَالَ: " أَمَّا الْعَلَمُ مِنَ الْحَرِيرِ وَالنِّيرِ فَلَيْسَ بِهِ بَأْسٌ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ خالص ریشمی کپڑے کو ناپسند فرماتے تھے، ”ہاں ریشم کی کڑھائی یا کپڑے کا تانا ریشم کا ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے“۔ یہ یحییٰ کی حدیث کے الفاظ ہیں اور عمرو کی روایت میں ہے کہ ”گرہ کے بدلے“ اور فرماتے ہیں کہ ”ریشم کی دھاریاں اور کپڑے کا تانا ریشم کا ہو تو کوئی حرج نہیں ہے“۔
وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو مُسْلِمٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَمْرٍو إِسْمَاعِيلُ بْنُ نُجَيْدٍ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو مُسْلِمٍ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جَرِيرٍ، عَنْ خُصَيْفٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، وَسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " إِنَّمَا نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ الْحَرِيرِ الْمُصْمَتِ، فَأَمَّا أَنْ يَكُونَ سُدَاهُ أَوْ لَحْمَتُهُ حَرِيرًا فَلَا بَأْسَ يَلْبَسُهُ ". كَذَا قَالَهُ أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، وَقِيلَ عَنْهُ فِي هَذَا الْخَبَرِ: " فَأَمَّا الثَّوْبُ الَّذِي سُدَاهُ حَرِيرٌ وَلَحْمَتُهُ لَيْسَ حَرِيرًا فَلَيْسَ بِمُصْمَتٍ، وَلَا نَرَى بِهِ بَأْسًا ".
حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ”خالص ریشم سے منع فرمایا ہے“، اگر اس کا تانا ریشم کا ہو تو پھر پہننے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
(ب) ابن جریج رحمہ اللہ کی حدیث میں ہے کہ جس کپڑے کا تانا ریشم کا اور بانا ریشم کا نہ ہو اور نہ ہی خالص ریشم ہو تو اس کے پہننے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
(ب) ابن جریج رحمہ اللہ کی حدیث میں ہے کہ جس کپڑے کا تانا ریشم کا اور بانا ریشم کا نہ ہو اور نہ ہی خالص ریشم ہو تو اس کے پہننے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرِ بْنِ سَابِقٍ الْخَوْلَانِيُّ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ: " أَنَّهُ رَأَى عَلَى سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ جُبَّةً شَامِيَّةً قِيَامُهَا قَزٌّ "، قَالَ بُسْرٌ: رَأَيْتُ عَلَى زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ خَمَائِصَ مُعَلَّمَةً ".
حافظ ثناء اللہ
بسر بن سعید نے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ پر شامی جبہ دیکھا، اس کی لمبائی ریشم کی تھی۔ بسر فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ پر بھی منقش چادر دیکھی۔
فَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي: ابْنَ عَطَاءٍ، أنبأ سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا أَرْكَبُ الْأُرْجُوَانَ، وَلَا أَلْبَسُ الْقَسِّيَّ، وَلَا الْمُعَصْفَرَ، وَلَا الْقَمِيصَ الْمَكْفُوفَ بِالْحَرِيرِ ". فَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ أَرَادَ وَاللهُ أَعْلَمُ مَيَاثِرَ الْأُرْجُوَانِ الَّتِي هِيَ مَرَاكِبُ الْأَعَاجِمِ مِنْ دِيبَاجٍ أَوْ حَرِيرٍ، وَأَرَادَ بِالْقَمِيصِ الْمَكْفُوفِ بِالْحَرِيرِ أَنْ يَكُونَ الْحَرِيرُ كَثِيرًا أَكْثَرَ مِنْ مِقَدْارِ الْعَلَمِ الَّذِي رَخَّصَ فِيهِ، أَوْ أَرَادَ بِهِ التَّنْزِيهَ، وَالْجُبَّةُ الَّتِي أَخْرَجَتْهَا أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ يُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ كَانَ يَلْبَسُهَا فِي الْحَرْبِ، فَقَدْ رُوِّينَا ذَلِكَ عَنْهَا فِي حَدِيثٍ آخَرَ. وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نہ تو سرخ رنگ کے ریشم کی زین پر سواری کرتا ہوں اور نہ ہی قسی کپڑا پہنتا ہوں، نہ ہی زرد رنگ کا کپڑا اور نہ ہی ریشم کے بٹن لگے ہوئے لباس کو پہنتا ہوں۔“
نوٹ: سرخ رنگ کی ریشمی زین سے مراد عجم کی زین ہے جس پر وہ سواری کرتے ہیں۔ یعنی ایسی قمیص جس کی کفیں ریشم کی ہوں۔ جس ریشم کی اجازت ہے وہ آپ ﷺ نے بیان کر دی۔ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کا جبہ نکالنا ممکن ہے کہ آپ ﷺ اسے لڑائی کے موقع پر استعمال کرتے ہوں۔
نوٹ: سرخ رنگ کی ریشمی زین سے مراد عجم کی زین ہے جس پر وہ سواری کرتے ہیں۔ یعنی ایسی قمیص جس کی کفیں ریشم کی ہوں۔ جس ریشم کی اجازت ہے وہ آپ ﷺ نے بیان کر دی۔ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کا جبہ نکالنا ممکن ہے کہ آپ ﷺ اسے لڑائی کے موقع پر استعمال کرتے ہوں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " أَنَّهُ كَانَ يَنْهَى أَنْ يُصْبَغَ الْعَصْبُ بِالْبَوْلِ، وَأَنَّهُ كَانَتِ الْحُلَّةُ تُنْسَجُ لِأَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَبْلُغُ الْحُلَّةُ أَلْفَ دِرْهَمٍ وَأَكْثَرَ ". قَالَ الشَّيْخُ: الْحُلَّةُ الَّتِي كَانُوا يَلْبَسُونَهَا ثَوْبَانِ إِزَارٌ وَرِدَاءٌ إِلَّا أَنَّهَا كَانَتْ مِنْ قَزٍّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنے والد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ اس بات سے منع فرماتے تھے کہ پٹی کو چربی سے رنگا جائے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے جو حلے تیار کیے جاتے تھے، ان کی قیمت ایک ہزار درہم یا اس سے بھی زیادہ ہوتی تھی۔
شیخ فرماتے ہیں: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جو حلہ پہنتے تھے، وہ دو کپڑوں پر مشتمل ہوتا تھا، ایک تہبند اور دوسری چادر؛ یہ ریشم کے ہوتے تھے۔
شیخ فرماتے ہیں: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جو حلہ پہنتے تھے، وہ دو کپڑوں پر مشتمل ہوتا تھا، ایک تہبند اور دوسری چادر؛ یہ ریشم کے ہوتے تھے۔