السنن الكبرى للبيهقي
كتاب صلاة الخوف— خوف کی نماز کا بیان
باب: الرخصة في العلم وما يكون في نسجه قز وقطن أو كتان وكان القطن الغالب باب: (کپڑے پر ریشمی) علامات کی رخصت اور اس کپڑے کی رخصت جس کی بناوٹ میں ریشم، روئی یا کتان ہو اور روئی کا غلبہ ہو
حدیث نمبر: 6085
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، ثنا الْمُغِيرَةُ بْنُ زِيَادٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ أَبُو عُمَرَ مَوْلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ قَالَ: " رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ فِي السُّوقِ اشْتَرَى ثَوْبًا شَامِيًّا فَرَأَى فِيهِ خَيْطًا أَحْمَرُ فَرَدَّهُ، فَأَتَيْتُ أَسْمَاءَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهَا، فَقَالَتْ: " يَا جَارِيَةُ، نَاوِلِينِي جُبَّةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "، فَأَخْرَجَتْ لَهُ جُبَّةً طَيَالِسَةً مَكْفُوفَةَ الْجَيْبِ وَالْكُمَّيْنِ وَالْفَرْجَيْنِ بِالدِّيبَاجِ ".حافظ ثناء اللہ
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کے غلام عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا، انہوں نے بازار سے شامی کپڑے خریدے، جن میں سرخ دھاگہ تھا۔ میں نے سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کو یہ بتایا تو وہ فرمانے لگیں: اے بچی! مجھے رسول اللہ ﷺ کا جبہ پکڑانا۔ اس نے طیالسی جبہ، جس کو ریشم کے بٹن لگے ہوئے تھے اور آستینیں بھی ریشمی تھیں اور ریشم کے پیوند لگے ہوئے تھے، لا کر دیا۔