السنن الكبرى للبيهقي
كتاب صلاة الخوف— خوف کی نماز کا بیان
باب: الرخصة في العلم وما يكون في نسجه قز وقطن أو كتان وكان القطن الغالب باب: (کپڑے پر ریشمی) علامات کی رخصت اور اس کپڑے کی رخصت جس کی بناوٹ میں ریشم، روئی یا کتان ہو اور روئی کا غلبہ ہو
حدیث نمبر: 6087
وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو مُسْلِمٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَمْرٍو إِسْمَاعِيلُ بْنُ نُجَيْدٍ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو مُسْلِمٍ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جَرِيرٍ، عَنْ خُصَيْفٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، وَسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " إِنَّمَا نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ الْحَرِيرِ الْمُصْمَتِ، فَأَمَّا أَنْ يَكُونَ سُدَاهُ أَوْ لَحْمَتُهُ حَرِيرًا فَلَا بَأْسَ يَلْبَسُهُ ". كَذَا قَالَهُ أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، وَقِيلَ عَنْهُ فِي هَذَا الْخَبَرِ: " فَأَمَّا الثَّوْبُ الَّذِي سُدَاهُ حَرِيرٌ وَلَحْمَتُهُ لَيْسَ حَرِيرًا فَلَيْسَ بِمُصْمَتٍ، وَلَا نَرَى بِهِ بَأْسًا ".حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ”خالص ریشم سے منع فرمایا ہے“، اگر اس کا تانا ریشم کا ہو تو پھر پہننے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
(ب) ابن جریج رحمہ اللہ کی حدیث میں ہے کہ جس کپڑے کا تانا ریشم کا اور بانا ریشم کا نہ ہو اور نہ ہی خالص ریشم ہو تو اس کے پہننے میں کوئی حرج نہیں ہے۔