السنن الكبرى للبيهقي
كتاب صلاة الخوف— خوف کی نماز کا بیان
باب: الرخصة في العلم وما يكون في نسجه قز وقطن أو كتان وكان القطن الغالب باب: (کپڑے پر ریشمی) علامات کی رخصت اور اس کپڑے کی رخصت جس کی بناوٹ میں ریشم، روئی یا کتان ہو اور روئی کا غلبہ ہو
حدیث نمبر: 6081
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْمُوَيْهِ الْعَسْكَرِيُّ بِالْبَصْرَةِ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلَانِسِيُّ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا قَتَادَةُ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ النَّهْدِيَّ يَقُولُ: أَتَانَا كِتَابُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَنَحْنُ مَعَ عُتْبَةَ بْنِ فَرْقَدٍ بِأَذْرَبِيجَانَ: " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْحَرِيرِ إِلَّا هَكَذَا، وَأَشَارَ بِإِصْبَعَيْهِ اللَّتَيْنِ تَلِيَانِ الْإِبْهَامَ ". قَالَ: فَمَا عَتَّمْنَا أَنَّهُ يَعْنِي الْإِعْلَامَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ آدَمَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ شُعْبَةَ.حافظ ثناء اللہ
ابوعثمان نہدی فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا خط آیا اور ہم آذربائیجان میں سیدنا عتبہ بن فرقد رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے کہ نبی کریم ﷺ نے ”ریشم پہننے کے لیے صرف دو انگلیوں کی اجازت دی ہے، یعنی علامت کے طور پر۔“