السنن الكبرى للبيهقي
كتاب صلاة الخوف— خوف کی نماز کا بیان
باب: الرخصة في العلم وما يكون في نسجه قز وقطن أو كتان وكان القطن الغالب باب: (کپڑے پر ریشمی) علامات کی رخصت اور اس کپڑے کی رخصت جس کی بناوٹ میں ریشم، روئی یا کتان ہو اور روئی کا غلبہ ہو
حدیث نمبر: 6080
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ قَالَ: ⦗٣٨٢⦘ كَتَبَ إِلَيْنَا عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَنَحْنُ بِأَذْرَبِيجَانَ: " يَا عُتْبَةُ بْنَ فَرْقَدٍ، إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ كَدِّكَ وَلَا كَدِّ أَبِيكَ وَلَا كَدِّ أُمِّكَ، قَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَأَشْبِعِ الْمُسْلِمِينَ فِي رِحَالِهِمْ مِمَّا تَشْبَعُ مِنْهُ فِي رَحْلِكَ، وَإِيَّاكُمْ وَالتَّنَعُّمَ، وَزِيَّ أَهْلِ الشِّرْكِ، وَلَبُوسَ الْحَرِيرِ، فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ إِلَّا هَكَذَا، وَرَفَعَ لَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُصْبُعَيْهِ ". قَالَ زُهَيْرٌ: قَالَ عَاصِمٌ: هَذَا فِي الْكِتَابُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ جَمِيعًا فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ يُونُسَ مُخْتَصَرًا.حافظ ثناء اللہ
ابوعثمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ہمیں خط لکھا، ہم آذربائیجان میں تھے: اے عتبہ بن فرقد! یہ نہ تیرے ماں باپ کی اور نہ تیری محنت سے حاصل ہوا ہے۔ تین مرتبہ فرمایا اور فرمایا: تم اپنی سواریوں کو مسلمانوں کی سواریوں کی مانند رکھو اور زیب و زینت سے بچو اور مشرکین کی مشابہت اور ریشمی لباس پہننے سے بچو؛ کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے ”ریشمی لباس پہننے سے منع کیا ہے، صرف دو انگلیوں کی مقدار۔“