السنن الكبرى للبيهقي
كتاب صلاة الخوف— خوف کی نماز کا بیان
باب: الرخصة في العلم وما يكون في نسجه قز وقطن أو كتان وكان القطن الغالب باب: (کپڑے پر ریشمی) علامات کی رخصت اور اس کپڑے کی رخصت جس کی بناوٹ میں ریشم، روئی یا کتان ہو اور روئی کا غلبہ ہو
حدیث نمبر: 6090
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " أَنَّهُ كَانَ يَنْهَى أَنْ يُصْبَغَ الْعَصْبُ بِالْبَوْلِ، وَأَنَّهُ كَانَتِ الْحُلَّةُ تُنْسَجُ لِأَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَبْلُغُ الْحُلَّةُ أَلْفَ دِرْهَمٍ وَأَكْثَرَ ". قَالَ الشَّيْخُ: الْحُلَّةُ الَّتِي كَانُوا يَلْبَسُونَهَا ثَوْبَانِ إِزَارٌ وَرِدَاءٌ إِلَّا أَنَّهَا كَانَتْ مِنْ قَزٍّ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنے والد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ اس بات سے منع فرماتے تھے کہ پٹی کو چربی سے رنگا جائے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے جو حلے تیار کیے جاتے تھے، ان کی قیمت ایک ہزار درہم یا اس سے بھی زیادہ ہوتی تھی۔
شیخ فرماتے ہیں: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جو حلہ پہنتے تھے، وہ دو کپڑوں پر مشتمل ہوتا تھا، ایک تہبند اور دوسری چادر؛ یہ ریشم کے ہوتے تھے۔