السنن الكبرى للبيهقي
كتاب صلاة الخوف— خوف کی نماز کا بیان
باب: الرخصة في العلم وما يكون في نسجه قز وقطن أو كتان وكان القطن الغالب باب: (کپڑے پر ریشمی) علامات کی رخصت اور اس کپڑے کی رخصت جس کی بناوٹ میں ریشم، روئی یا کتان ہو اور روئی کا غلبہ ہو
حدیث نمبر: 6086
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلَ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا زُهَيْرٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ الذُّهْلِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ أَبُو خَيْثَمَةَ، عَنْ خُصَيْفٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " إِنَّمَا كَرِهَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الثَّوْبَ الْمُصْمَتَ مِنَ الْحَرِيرِ، فَأَمَّا الْعَلَمُ مِنَ الْحَرِيرِ أَوْ سَدَى الثَّوْبِ فَلَيْسَ بِهِ بَأْسٌ ". لَفْظُ حَدِيثِ يَحْيَى، وَفِي رِوَايَةِ عَمْرٍو " نَهَى " بَدَلَ " كَرِهَ "، وَقَالَ: " أَمَّا الْعَلَمُ مِنَ الْحَرِيرِ وَالنِّيرِ فَلَيْسَ بِهِ بَأْسٌ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ خالص ریشمی کپڑے کو ناپسند فرماتے تھے، ”ہاں ریشم کی کڑھائی یا کپڑے کا تانا ریشم کا ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے“۔ یہ یحییٰ کی حدیث کے الفاظ ہیں اور عمرو کی روایت میں ہے کہ ”گرہ کے بدلے“ اور فرماتے ہیں کہ ”ریشم کی دھاریاں اور کپڑے کا تانا ریشم کا ہو تو کوئی حرج نہیں ہے“۔