السنن الكبرى للبيهقي
كتاب صلاة الخوف— خوف کی نماز کا بیان
باب: الرخصة في العلم وما يكون في نسجه قز وقطن أو كتان وكان القطن الغالب باب: (کپڑے پر ریشمی) علامات کی رخصت اور اس کپڑے کی رخصت جس کی بناوٹ میں ریشم، روئی یا کتان ہو اور روئی کا غلبہ ہو
حدیث نمبر: 6089
فَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي: ابْنَ عَطَاءٍ، أنبأ سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا أَرْكَبُ الْأُرْجُوَانَ، وَلَا أَلْبَسُ الْقَسِّيَّ، وَلَا الْمُعَصْفَرَ، وَلَا الْقَمِيصَ الْمَكْفُوفَ بِالْحَرِيرِ ". فَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ أَرَادَ وَاللهُ أَعْلَمُ مَيَاثِرَ الْأُرْجُوَانِ الَّتِي هِيَ مَرَاكِبُ الْأَعَاجِمِ مِنْ دِيبَاجٍ أَوْ حَرِيرٍ، وَأَرَادَ بِالْقَمِيصِ الْمَكْفُوفِ بِالْحَرِيرِ أَنْ يَكُونَ الْحَرِيرُ كَثِيرًا أَكْثَرَ مِنْ مِقَدْارِ الْعَلَمِ الَّذِي رَخَّصَ فِيهِ، أَوْ أَرَادَ بِهِ التَّنْزِيهَ، وَالْجُبَّةُ الَّتِي أَخْرَجَتْهَا أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ يُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ كَانَ يَلْبَسُهَا فِي الْحَرْبِ، فَقَدْ رُوِّينَا ذَلِكَ عَنْهَا فِي حَدِيثٍ آخَرَ. وَاللهُ أَعْلَمُ.حافظ ثناء اللہ
عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نہ تو سرخ رنگ کے ریشم کی زین پر سواری کرتا ہوں اور نہ ہی قسی کپڑا پہنتا ہوں، نہ ہی زرد رنگ کا کپڑا اور نہ ہی ریشم کے بٹن لگے ہوئے لباس کو پہنتا ہوں۔“
نوٹ: سرخ رنگ کی ریشمی زین سے مراد عجم کی زین ہے جس پر وہ سواری کرتے ہیں۔ یعنی ایسی قمیص جس کی کفیں ریشم کی ہوں۔ جس ریشم کی اجازت ہے وہ آپ ﷺ نے بیان کر دی۔ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کا جبہ نکالنا ممکن ہے کہ آپ ﷺ اسے لڑائی کے موقع پر استعمال کرتے ہوں۔