السنن الكبرى للبيهقي
كتاب صلاة الخوف— خوف کی نماز کا بیان
باب: الرخصة في العلم وما يكون في نسجه قز وقطن أو كتان وكان القطن الغالب باب: (کپڑے پر ریشمی) علامات کی رخصت اور اس کپڑے کی رخصت جس کی بناوٹ میں ریشم، روئی یا کتان ہو اور روئی کا غلبہ ہو
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ الصَّيْرَفِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ فِي الْعَلَمِ فِي الثَّوْبِ، فَأَرَادَ أَنْ يَفْتَتِحَ حَدِيثًا ثُمَّ قَالَ: أَخْبَرَنِي هَذَا الرَّجُلُ مِنَ الْقَوْمِ اسْمُهُ عَبْدُ اللهِ مَوْلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، فَقَالَ لَهُ عَطَاءٌ: حَدِّثْ، فَحَدَّثَ بَيْنَ يَدَيْ عَطَاءٍ، قَالَ: أَرْسَلَتْنِي أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّكَ تُحَرِّمُ أَشْيَاءَ ثَلَاثًا: صَوْمَ رَجَبٍ كُلِّهِ، وَمِيثَرَةَ الْأُرْجُوَانِ، وَالْعَلَمَ فِي الثَّوْبِ، فَقَالَ: أَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنْ صَوْمِ رَجَبٍ كُلِّهِ فَكَيْفَ مَنْ صَامَ الْأَبَدَ، وَأَمَّا الْعَلَمُ فِي الثَّوْبِ، فَإِنَّ عُمَرَ حَدَّثَنِي أَنَّهُ سَمَعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ لَبِسَ الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا لَمْ يَلْبَسْهُ فِي الْآخِرَةِ". فَأَخَافُ أَنْ يَكُونَ الْعَلَمُ فِي الثَّوْبِ مِنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ، وَأَمَّا مِيثَرَةُ الْأُرْجُوَانِ فَهَذِهِ مِيثَرَةُ ابْنِ عُمَرَ فَأَرْجُو أَنْ تَرَاهَا"، قَالَ: نَعَمْ، يَعْنِي: فَذَهَبَ إِلَى أَسْمَاءَ فَأَخْبَرَهَا: قَالَ عَبْدُ اللهِ: فَأَخْرَجَتْ إِلَيَّ جُبَّةً مِنْ طَيَالِسَةٍ لَهَا لَبِنَةٌ مِنْ دِيبَاجٍ خِسْرَوانِيٍّ. وَفِي سَمَاعِ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى: كِسْرَوَانِيٍّ، وَفَرْجَيْهَا مَكْفُوفَيْنِ بِهِ، فَقَالَتْ: " هَذِهِ جُبَّةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَلْبَسُهَا، فَلَمَّا قُبِضَ كَانَتْ عِنْدَ عَائِشَةَ، فَلَمَّا قُبِضَتْ قَبَضْتُهَا إِلَيَّ، فَنَحْنُ نَغْسِلُهَا لِلْمَرِيضِ مِنَّا إِذَا اشْتَكَى وَنَسْتَشْفِي بِهَا". أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ.عبد الملک، عطاء سے کپڑے میں کڑھائی کے بارے میں نقل فرماتے ہیں، ان کا ارادہ حدیث بیان کرنے کا تھا۔ پھر کہنے لگے: سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کے غلام عبداللہ نے بیان کیا، عطاء نے فرمایا: آپ حدیث بیان کریں تو اس نے عطاء کے سامنے حدیث بیان کی کہ سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا نے مجھے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی جانب بھیجا کہ مجھے خبر ملی ہے کہ آپ تین چیزوں کو حرام قرار دیتے ہیں: ایک تو رجب کے مکمل روزے، دوسری ریشم کی سرخ رنگ کی زین اور تیسری کڑھائی والا کپڑا۔ فرماتے ہیں: جو تو نے رجب کے مکمل روزوں کا تذکرہ کیا ہے اس کے مکمل روزے کون رکھتا ہے؟ اور دھاری دار کپڑا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ ”جس نے ریشم دنیا میں پہنا وہ آخرت کو نہیں پہنے گا“۔ میں ڈرتا ہوں کہیں (ریشم کی) کڑھائی والا کپڑا بھی ریشم شمار نہ ہو اور سرخ زین کے متعلق فرمایا: یہ ابن عمر کی زین ہے۔ امید ہے آپ اس کو دیکھ لیں گے۔ میں نے کہا: جی ہاں۔ پھر وہ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور ان کو خبر دی۔ عبداللہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے طیالسی جبہ نکالا، اس کا گریبان ریشم کا تھا اور اس کی آستینیں بھی ریشم کی تھیں۔ فرماتی ہیں: یہ رسول اللہ ﷺ کا جبہ ہے، جس کو آپ ﷺ پہنا کرتے تھے۔ جب آپ ﷺ فوت ہوئے تو یہ جبہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھا اور جب وہ فوت ہوئیں تو میں نے اسے لے لیا۔ پھر ہم اس کو مریضوں کے لیے دھویا کرتی تھیں اور اس سے شفا حاصل کرتی تھیں۔