کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: تیمم کی کیفیت (طریقے) کا بیان
❮
❯
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، وَيَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، قَالَ أَبُو بَكْرٍ، أنا وَقَالَا: ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ: أَقْبَلْتُ أَنَا وَعَبْدُ اللهِ بْنُ يَسَارٍ مَوْلَى مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى أَبِي الْجُهَيْمِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الصِّمَّةِ، فَقَالَ أَبُو الْجُهَيْمِ: " أَقْبَلَ ⦗٣١٦⦘ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَحْوِ بِئْرِ جَمَلٍ فَلَقِيَهُ رَجُلٌ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ، حَتَّى أَقْبَلَ عَلَى الْجِدَارِ فَمَسَحَ بِوَجْهِهِ وَيَدَيْهِ، ثُمَّ رَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ. وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ، فَقَالَ: وَقَالَ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو جہم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جمل کے کنویں کی طرف سے تشریف لائے تو آپ ﷺ کو ایک شخص ملا، اس نے آپ ﷺ کو سلام کیا، تو آپ ﷺ نے اس کے سلام کا جواب نہیں دیا، یہاں تک کہ آپ ﷺ ایک دیوار کے پاس آئے، اپنے چہرے اور ہاتھوں کا مسح کیا، پھر آپ ﷺ نے سلام کا جواب دیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 990
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه البخاري 330»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عُمَرَ مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " فَمَسَحَ بِوَجْهِهِ وَذِرَاعَيْهِ، ثُمَّ رَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ ".
حافظ ثناء اللہ
لیث نے اسی سند سے اور اسی معنی میں بیان کیا ہے کہ آپ ﷺ نے اپنے چہرے اور بازوؤں کا مسح کیا، پھر اس کے سلام کا جواب دیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 991
درجۂ حدیث محدثین: منكر
تخریج حدیث «منكر۔ أخرجه الدار قطني 1/176»
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي الْحُوَيْرِثِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنِ ابْنِ الصِّمَّةِ، قَالَ: " مَرَرْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَبُولُ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ حَتَّى قَامَ إِلَى جِدَارٍ، فَحَتَهُ بِعَصًا كَانَتْ مَعَهُ، ثُمَّ وَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى الْجِدَارِ، فَمَسَحَ وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ، ثُمَّ رَدَّ عَلَيَّ ". وَهَذَا شَاهِدٌ لِرِوَايَةِ أَبِي صَالِحٍ كَاتَبِ اللَّيْثِ إِلَّا أَنَّ هَذَا مُنْقَطِعٌ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ هُرْمُزٍ الْأَعْرَجُ لَمْ يَسْمَعْهُ مِنَ ابْنِ الصِّمَّةِ، إِنَّمَا سَمِعَهُ مِنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ الصِّمَّةِ، وَإِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَحْيَى الْأَسْلَمِيِّ، وَأَبُو الْحُوَيْرِثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، قَالَ: قَدِ اخْتَلَفَ الْحُفَّاظُ فِي عَدَالَتِهِمَا إِلَّا أَنَّ لِرِوَايَتِهِمَا بِذِكْرِ الذِّرَاعَيْنِ فِيهِ شَاهِدٌ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن صمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس سے گزرا تو آپ ﷺ پیشاب کر رہے تھے۔ میں نے آپ ﷺ کو سلام کیا، آپ نے میرے سلام کا جواب نہیں دیا۔ پھر آپ دیوار کی طرف کھڑے ہوئے، اس کو لکڑی کے ساتھ کریدا جو آپ کے پاس تھی، پھر اپنے ہاتھ دیوار پر رکھے، اپنے چہرے اور بازوؤں کا مسح کیا، پھر سلام کا جواب دیا۔
(ب) یہ روایت ابو صالح کاتبِ لیث کی روایت کے لیے شاہد ہے مگر منقطع ہے، عبدالرحمن بن ہرمز اعرج نے اسے ابن صمہ سے نہیں سنا، بلکہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام عمیر کے واسطے سے ابن صمہ سے سنا ہے۔
(ج) ابراہیم بن محمد بن ابی یحییٰ اسلمی اور ابو حویرث عبدالرحمن بن معاویہ دونوں کے عادل ہونے میں محدثین کا اختلاف ہے؛ مگر بازوؤں کے ذکر والی ان کی روایت کے لیے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث شاہد ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 992
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ جدًا أخرجه الشافعي 31»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنا مُوسَى بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبَّادٍ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ الْعَبْدِيُّ، وَكَانَ صَدُوقًا، وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ الْأَهْوَازِيُّ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ الْعَبْدِيُّ، ثنا نَافِعٌ، قَالَ: انْطَلَقْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ فِي حَاجَتِهِ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَلَمَّا أَنْ قَضَى حَاجَتَهُ كَانَ مِنْ حَدِيثِهِ يَوْمَئِذٍ، قَالَ: بَيْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سِكَّةٍ مِنْ سِكَكِ الْمَدِينَةِ، وَقَدْ خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَائِطٍ أَوْ بَوْلٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ رَجُلٌ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ، ثُمَّ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَرَبَ بِكَفَّيْهِ، فَمَسَحَ بِوَجْهِهِ مَسْحَةً، ثُمَّ ضَرَبَ ⦗٣١٧⦘ بِكَفَّيْهِ الثَّانِيَةِ، فَمَسَحَ ذِرَاعَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ وَقَالَ: " إِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَرُدَّ عَلَيْكَ إِلَّا أَنِّي لَمْ أَكُنْ عَلَى وُضُوءٍ أَوْ عَلَى طَهَارَةٍ ". لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ عَبْدَانَ وَقَدْ أَنْكَرَ بَعْضُ الْحُفَّاظِ رَفْعَ هَذَا الْحَدِيثِ عَلَى مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ الْعَبْدِيِّ فَقَدْ رَوَاهُ جِمَاعَةٌ عَنْ نَافِعٍ مِنْ فَعْلِ ابْنِ عُمَرَ وَالَّذِي رَوَاهُ غَيْرُهُ عَنْ نَافِعٍ مِنْ فَعْلِ ابْنِ عُمَرَ إِنَّمَا هُوَ التَّيَمُّمُ فَقَطْ فَأَمَّا هَذِهِ الْقِصَّةُ فَهِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَشْهُورَةٌ بِرِوَايَةِ أَبِي الْجُهَيْمِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الصِّمَّةِ وَغَيْرِهِ، وَثَابِتٌ عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَجُلًا مَرَّ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبُولُ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ إِلَّا أَنَّهُ قَصَّرَ بِرِوَايَتِهِ، وَرِوَايَةُ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ، عَنْ نَافِعٍ أَتَمُّ مِنْ ذَلِكَ.
حافظ ثناء اللہ
نافع نے بیان کیا کہ میں ابن عمر کے ساتھ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف کسی کام کے لیے گیا، جب انہوں نے اپنا کام پورا کر لیا تو یہ حدیث بیان کی کہ نبی ﷺ مدینہ کی کسی گلی میں تھے، آپ ﷺ قضائے حاجت یا پیشاب کے لیے نکلے، ایک شخص نے آپ ﷺ کو سلام کیا تو آپ ﷺ نے اس کے سلام کا جواب نہیں دیا، پھر نبی ﷺ نے اپنی ہتھیلیوں کو (زمین پر) مارا، اپنے چہرے کا ایک مرتبہ مسح کیا، پھر دوسری مرتبہ ہتھیلیوں کو مارا اور اپنے بازوؤں کا کہنیوں تک مسح کیا، پھر فرمایا: ”مجھے کسی نے نہیں روکا تھا کہ میں تیرے سلام کا جواب دیتا، مگر میرا وضو نہیں تھا“ یا فرمایا: ”میں پاک نہیں تھا۔“ (ب) بعض محدثین نے محمد بن ثابت عبدی پر اس کے مرفوع ہونے کا انکار کیا ہے۔ ایک جماعت کہتی ہے کہ یہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کا فعل ہے اور دوسرے کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کا فعل صرف تیمم ہے۔ یہ واقعہ ابوجہیم بن حارث صمہ وغیرہ بھی نبی ﷺ سے مرفوعاً بیان کرتے ہیں۔
(ج) سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی ﷺ کے پاس سے گزرا اور آپ ﷺ پیشاب کر رہے تھے۔ مگر یہ روایت مختصر ہے۔ یزید بن ہاد کی روایت مکمل ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 993
درجۂ حدیث محدثین: منكر
تخریج حدیث «منكر۔ أخرجه ابو داؤد 330»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى يَعْنِي الْبُرُلُّسِيُّ، أنا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، أَنَّ نَافِعًا حَدَّثَهُ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: " أَقْبَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْغَائِطِ فَلَقِيَهُ رَجُلٌ عِنْدَ بِئْرِ جَمَلٍ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَقْبَلَ عَلَى الْحَائِطِ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى الْحَائِطِ، فَمَسَحَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ، ثُمَّ رَدَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الرَّجُلِ السَّلَامَ ". فَهَذِهِ الرِّوَايَةُ شَاهِدَةٌ لِرِوَايَةِ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ الْعَبْدِيِّ إِلَّا أَنَّهُ حَفِظَ فِيهَا الذِّرَاعَيْنِ وَلَمْ ⦗٣١٨⦘ يُثْبِتْهَا غيْرُهُ كَمَا سَاقَ هُوَ وَابْنُ الْهَادِ الْحَدِيثَ بِذِكْرِ تَيَمُّمِهِ، ثُمَّ رَدُّهُ جَوَّابِ السَّلَامِ وَإِنْ كَانَ الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ قَصَّرَ بِهِ وَفِعْلُ ابْنِ عُمَرَ التَّيَمُّمِ عَلَى الْوَجْهِ وَالذِّرَاعَيْنِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ شَاهِدٌ لصحةِ رِوَايَةِ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ غَيْرَ مُنَافٍ لَهَا. وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْأُشْنَانِيُّ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ سَعِيدٍ الدَّارِمِيَّ، يَقُولُ: سَأَلْتُ يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ، قُلْتُ: مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ الْعَبْدِيُّ، قَالَ: لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ. كَذَا قَالَ فِي رِوَايَةِ الدَّارِمِيِّ عَنْهُ، وَهُوَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ غَيْرُ مُسْتَحِقٍّ لِلتَّنْكِيرِ بِالدَّلَائِلِ الَّتِي ذَكَرْتُهَا، وَقَدْ رَوَاهُ جَمَاعَةٌ مِنَ الْأَئِمَّةِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ، مِثْلُ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَمُعَلَّى بْنِ مَنْصُورٍ، وَسَعِيدِ بْنِ مَنْصُورٍ، وَغَيْرِهِمْ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَرَوَاهُ عَنْهُ، وَهُوَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَشْهُورٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ قضائے حاجت سے واپس آئے تو جمل کے کنویں کے پاس ایک شخص نے آپ کو سلام کیا تو آپ ﷺ نے سلام کا جواب نہیں دیا۔ پھر آپ دیوار کے پاس آئے، آپ نے ہاتھ دیوار پر رکھا، اپنے چہرے اور ہاتھوں کا مسح کیا، پھر اس شخص کے سلام کا جواب دیا۔
یہ روایت محمد بن ثابت عبدی کی روایت کے لیے شاہد ہے، مگر انہوں نے اس میں بازوؤں کا ذکر محفوظ رکھا ہے جسے کسی اور نے ثابت نہیں کیا۔ انہوں نے اور ابن ہاد نے حدیث کو آپ ﷺ کے تیمم اور پھر سلام کا جواب دینے کے ذکر کے ساتھ بیان کیا ہے، اگرچہ ضحاک بن عثمان نے اسے مختصر بیان کیا، اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا چہرے اور کہنیوں تک بازوؤں پر تیمم کرنے کا عمل محمد بن ثابت کی روایت کے صحیح ہونے کا شاہد ہے، اس کے منافی نہیں۔ یحییٰ بن معین نے محمد بن ثابت عبدی کے بارے میں فرمایا: ”اس میں کوئی حرج نہیں۔“ اس حدیث میں وہ ان دلائل کی بنا پر جو میں نے ذکر کیے، رد کیے جانے کے مستحق نہیں، ائمہ کی ایک جماعت نے ان سے یہ حدیث روایت کی ہے، جیسے یحییٰ بن یحییٰ، معلیٰ بن منصور اور سعید بن منصور وغیرہ، اور مسلم بن ابراہیم نے ان کی تعریف کی اور ان سے روایت کی، اور یہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مشہور ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 994
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن۔ أخرجه ابو داؤد 331»
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ أَقْبَلَ هُوَ وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ مِنَ الْجُرْفِ حَتَّى إِذَا كَانُوا بِالْمِرْبَدِ نَزَلَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ فَتَيَمَّمَ صَعِيدًا طَيِّبًا فَمَسَحَ بِوَجْهِهِ وَيَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ، ثُمَّ صَلَّى ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے غلام نافع فرماتے ہیں کہ میں اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جرف سے آئے، جب ہم مربد جگہ میں تھے تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اترے، پاک مٹی سے تیمم کیا اور اپنے چہرے اور ہاتھوں کا کہنیوں تک مسح کیا، پھر نماز ادا کی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 995
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه مالك 121»
وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ: ثنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ " كَانَ يَتَيَمَّمُ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ ".
حافظ ثناء اللہ
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہنیوں تک مسح کرتے تھے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 996
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه مالك 122»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَفْصُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ، ثنا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، ثنا هُشَيْمٌ، أنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرَ، وَيُونُسَ، ⦗٣١٩⦘ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: " التَّيَمُّمُ ضَرْبَتَانِ ضَرْبَةٌ لِلْوَجْهِ وَضَرْبَةٌ لِلْكَفَّيْنِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ ". رَوَاهُ عَلِيُّ بْنُ ظَبْيَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ فَرَفَعَهُ وَهُوَ خَطَأٌ وَالصَّوَابُ بِهَذَا اللَّفْظِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَوْقُوفٌ. وَرَوَاهُ سُلَيْمَانُ بْنُ أَبِي دَاوُدَ الْحَرَّانِيُّ، عَنْ سَالِمٍ، وَنَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَرَوَاهُ سُلَيْمَانُ بْنُ أَرْقَمَ التَّيْمِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَسُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي دَاوُدَ وَسُلَيْمَانَ بْنِ أَرْقَمَ ضَعِيفَانِ لَا يُحْتَجُّ بِرِوَايَتِهِمَا وَالصَّحِيحُ رِوَايَةُ مَعْمَرٍ وَغَيْرِهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ مِنْ فِعْلِهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ تیمم کے لیے دو ضربیں ہیں: ایک ضرب چہرے کے لیے اور ایک ضرب ہتھیلیوں اور کہنیوں تک کے لیے۔ یہ روایت سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما پر موقوف ہے۔
سلیمان بن ابی داود حرانی اور سلیمان بن ارقم، جنہوں نے اسے نبی ﷺ سے بیان کیا ہے، دونوں ضعیف ہیں، ان کی روایت سے دلیل نہیں لی جاتی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 997
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حِمْشَاذَ الْعَدْلُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ بَالُوَيْهِ، قَالَا: أنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَرْبِيُّ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ: أَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ وَإِنِّي تَمَعَّكْتُ فِي التُّرَابِ فَقَالَ: " اضْرِبْ " فَضَرَبَ بِيَدَيْهِ الْأَرْضَ فَمَسَحَ وَجْهَهُ، ثُمَّ ضَرَبَ بِيَدَيْهِ فَمَسَحَ بِهِمَا يَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ. كَذَا قَالَهُ وَإِسْنَادُهُ صَحِيحٌ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يُبَيِّنِ الْأَمْرَ لَهُ بِذَلِكَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے آکر عرض کیا: میں جنبی ہو گیا تو میں (تیمم کے لیے) مٹی میں لوٹ پوٹ ہوا، انہوں نے فرمایا: ”تو اپنے ہاتھ مٹی پر مار،“ اس نے اپنے ہاتھ زمین پر مارے اور اپنے چہرے کا مسح کیا، پھر اپنے ہاتھوں کو (زمین پر) مارا، پھر اپنے ہاتھوں کا کہنیوں تک مسح کیا۔
اسی طرح بیان کیا گیا ہے اور اس کی سند صحیح ہے، البتہ اس میں یہ وضاحت نہیں کہ اسے اس کا حکم دیا گیا تھا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 998
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه الدارقطني 1/182»
وَقَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ بَالُوَيْهِ، قَالَا: ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَنْمَاطِيُّ، ثنا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ، عَنْ عَزْرَةَ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " التَّيَمُّمُ ضَرْبَةٌ لِلْوَجْهِ، وَضَرْبَةٌ لِلْيَدَيْنِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”تیمم کی ایک ضرب چہرے کے لیے اور ایک ضرب دونوں ہاتھوں کے لیے کہنیوں تک ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 999
درجۂ حدیث محدثین: شاذ
تخریج حدیث «شاذ۔ أخرجه الحاكم 1/287»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ بَدْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ رَجُلٍ يُقَالُ لَهُ الْأَسْلَعُ قَالَ: " كُنْتُ أَخْدُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ بِآيَةِ التَّيَمُّمِ فَأَرَانِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ الْمَسْحُ لِلتَّيَمُّمِ، فَضَرَبْتُ بِيَدِي الْأَرْضَ ضَرْبَةً وَاحِدَةً فَمَسَحْتُ بِهِمَا وَجْهِي، ثُمَّ ضَرَبْتُ بِهِمَا الْأَرْضَ فَمَسَحْتُ بِهِمَا يَدِيَّ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ " الرَّبِيعُ بْنُ بَدْرٍ ضَعِيفٌ إِلَّا أَنَّهُ غَيْرُ مُنْفَرِدٍ بِهِ وَقَدْ رُوِّينَا هَذَا الْقَوْلَ عَنِ التَّابِعِينَ: عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، وَالْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ، وَالشَّعْبِيِّ، وَإِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
ربیع بن بدر کے دادا ایک شخص سے، جن کو اسلع رضی اللہ عنہ کہا جاتا ہے، نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے کہا: میں نبی ﷺ کی خدمت کرتا تھا، جبرائیل علیہ السلام آیتِ تیمم لے کر آئے تو رسول اللہ ﷺ نے مجھے دکھایا کہ تیمم کے لیے مسح کیسے کیا جاتا ہے: ”میں نے ایک مرتبہ ہاتھ زمین پر مارا، اپنے چہرے پر مسح کیا پھر ان کو زمین پر مارا اور اپنے ہاتھوں کا کہنیوں سمیت مسح کیا۔“
(ب) ربیع بن بدر ضعیف ہے۔ (ج) ہم نے یہ قول تابعین یعنی سالم بن عبداللہ، حسن بصری، شعبی اور ابراہیم نخعی رحمہم اللہ سے نقل کیا ہے۔
اس روایت میں ربیع بن بدر ضعیف ہے، البتہ وہ اس میں منفرد نہیں ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 1000
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ جدًا أخرجه الدار قطني 1/179»