کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے تیمم کی کیفیت کے بارے میں مروی روایات کا ذکر
حدیث نمبر: 1001
أَخْبَرَنَا الْأُسْتَاذُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، قَالَ: " هَلَكَ عِقْدٌ لِعَائِشَةَ مِنْ جَزْعِ ظَفَارٍ فِي سَفَرٍ مِنْ أَسْفَارِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَائِشَةُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ السَّفَرِ فَالْتَمَسَتْ عَائِشَةُ عِقْدَهَا حَتَّى انْتَهَى اللَّيْلُ، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَتَغَيَّظَ عَلَيْهَا، وَقَالَ: حَبَسْتِ النَّاسَ بِمَكَانٍ لَيْسَ فِيهِ مَاءٌ قَالَ: فَأَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى آيَةَ الصَّعِيدِ فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ: أَنْتِ وَاللهِ يَا بُنَيَّةُ مَا عَلِمْتُ مُبَارَكَةٌ قَالَ عُبَيْدُ اللهِ: وَكَانَ عَمَّارٌ يُحَدِّثُ أَنَّ النَّاسَ طَفِقُوا يَوْمَئِذٍ يَمْسَحُونَ بِأَكُفِّهِمُ الْأَرْضَ، فَيَمْسَحُونَ وُجُوهَهُمْ، ثُمَّ يَعُودُونَ فَيَضْرِبُونَ ضَرْبَةً أُخْرَى فَيَمْسَحُونَ بِهَا أَيْدِيهِمْ إِلَى الْمَنَاكِبِ وَالْآبَاطِ، ثُمَّ يُصَلُّونَ " وَكَذَلِكَ. رَوَاهُ مَعْمَرُ بْنُ رَاشِدٍ، وَيُونُسُ بْنُ يَزِيدَ الْأَيْلِيُّ، وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ وَابْنُ أَخِي الزُّهْرِيِّ، وَجَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ عَمَّارٍ، وَحَفِظَ فِيهِ مَعْمَرٌ وَيُونُسُ ضَرْبَتَيْنِ كَمَا حَفِظَهُمَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کے کسی سفر میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا ظفار کے گھونگوں کا بنا ہوا ہار گم ہو گیا اور اس سفر میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھیں، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنا ہار تلاش کیا حتیٰ کہ آدھی رات گزر گئی، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور ان سے ناراض ہوئے اور کہا: تو نے لوگوں کو ایسی جگہ پر روک دیا ہے جہاں پانی بھی نہیں ہے۔ راوی کہتا ہے کہ آیۃ الصعید (تیمم) نازل ہوئی، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور کہا: اللہ کی قسم! اے بیٹی! مجھے علم نہیں تھا کہ اس میں خیر و برکت ہے۔ عبید اللہ کہتے ہیں کہ عمار بیان کرتے ہیں: لوگ اس دن اپنی ہتھیلیوں کو زمین پر مارتے اور اپنے چہروں کا مسح کرتے تھے، پھر دوبارہ مارتے اور اپنے ہاتھوں کا کندھوں اور بغلوں تک مسح کرتے، پھر نماز پڑھتے تھے۔
(ب) ایک دوسری روایت میں معمر اور یونس بھی دو ضربوں کا ذکر کرتے ہیں کہ ابن ابی ذئب نے دو ضربوں کا ذکر کیا ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 1001
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه ابو داؤد 320»
حدیث نمبر: 1002
وَرَوَاهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ الْكَعْبِيُّ بِهَمَذَانَ، أنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ بُرْدَةَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ حَمَّادٍ، ثنا زَيْدٌ الْقَاضِي، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ، ثنا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، قَالَ: " تَمَسَّحْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالتُّرَابِ فَمَسَحْنَا وُجُوهَنَا وَأَيْدِيَنَا إِلَى الْمَنَاكِبِ " لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ عَبْدَانَ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَبُو أُوَيْسٍ الْمَدَنِيُّ عَنِ الزُّهْرِيِّ وَأَمَّا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ فَإِنَّهُ شَكَّ فِي ذِكْرِ أَبِيهِ فِي إِسْنَادِهِ، رَوَاهُ مَرَّةً عَنِ ابْنِ دِينَارٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَمَرَّةً عَنِ الزُّهْرِيِّ نَفْسِهِ، وَرَوَاهُ صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَمَّارٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کی موجودگی میں مٹی کے ساتھ مسح (تیمم) کیا، ہم نے اپنے چہروں اور ہاتھوں کا بغلوں تک مسح کیا۔
(ب) سفیان بن عیینہ اپنی سند میں ان کے والد کے ذکر کرنے کے متعلق شک کرتے ہیں، کبھی وہ «عَنِ ابْنِ دِينَارٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ» ”ابن دینار سے، وہ زہری سے“ بیان کرتے ہیں اور کبھی صرف «الزُّهْرِيِّ» ”زہری“ سے بیان کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 1002
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 1003
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " عَرَّسَ بِأَوْلَاتِ الْجَيْشِ، وَمَعَهُ عَائِشَةُ زَوْجَتُهُ فَانْقَطَعَ عِقْدُهَا مِنْ جَزْعِ ظَفَارٍ، فَحُبِسَ النَّاسُ ابْتِغَاءَ ⦗٣٢١⦘ عِقْدِهَا ذَلِكَ، حَتَّى أَضَاءَ الْفَجْرُ، وَلَيْسَ مَعَ النَّاسِ مَاءٌ فَأَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آيَةَ رُخْصَةِ التَّطَهُّرِ بِالصَّعِيدِ الطِّيبِ، فَقَامَ الْمُسْلِمُونَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَرَبُوا بِأَيْدِيهِمُ الْأَرْضَ، ثُمَّ رَفَعُوا أَيْدِيَهُمْ وَلَمْ يَقْبِضُوا مِنَ التُّرَابِ شَيْئًا، فَمَسَحُوا بِهَا وُجُوهَهُمْ، وَأَيْدِيَهُمْ إِلَى الْمَنَاكِبِ، وَمِنْ بُطُونِ أَيْدِيهِمْ إِلَى الْآبَاطِ " قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَلَا يَغْتَرُّ بِهَذَا النَّاسِ. وَبَلَغَنَا أَنَّ أَبَا بَكْرٍ، قَالَ لِعَائِشَةَ: وَاللهِ مَا عَلِمْتُ إِنَّكِ لَمُبَارَكَةٌ، وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: فِيهِ ابْنُ عَبَّاسٍ وَذَكَرَ ضَرْبَتَيْنِ كَمَا ذَكَرَ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ وَيُونُسُ. وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى: فِي حَدِيثِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ هَذَا أَنَّ تَيَمُّمَهُمْ إِلَى الْمَنَاكِبِ بِأَمْرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهُوَ مَنْسُوخٌ لِأَنَّ عَمَّارًا أَخْبَرَهُ بِأَنَّ هَذَا أَوْلُ تَيَمُّمٍ كَانَ حِينَ نَزَلَتْ آيَةُ التَّيَمُّمِ فَكُلُّ تَيَمُّمٍ كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَهُ فَخَالَفَهُ فَهُوَ لَهُ نَاسِخٌ قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَرُوِيَ عَنْ عَمَّارٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ أَنْ يَتَيَمَّمَ وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اولات الجیش جگہ پر پڑاؤ ڈالا، آپ ﷺ کے ساتھ آپ کی زوجہ محترمہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں، ان کا ظفار کے گھونگوں کا بنا ہوا ہار گم ہو گیا۔
اس کی تلاش کے لیے لوگوں کو روک دیا گیا یہاں تک کہ فجر ہو گئی اور لوگوں کے پاس پانی بھی نہیں تھا، اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ پر پاک مٹی سے طہارت کی رخصت نازل کر دی۔ صحابہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کھڑے ہوئے، انہوں نے اپنے ہاتھوں کو زمین پر مارا، پھر اپنے ہاتھوں کو اٹھایا اور مٹی سے کوئی چیز نہیں لی، اپنے چہروں اور ہاتھوں کا کندھوں تک مسح کیا اور ہاتھوں کے اندرونی حصے کا بغلوں تک۔ ابن شہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: لوگوں نے اس کا اعتبار نہیں کیا اور ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: ”اللہ کی قسم! مجھے پتہ نہیں تھا کہ تو برکت (کا باعث) ہے۔“
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کندھوں تک مسح کا جو حکم دیا تھا وہ منسوخ ہے۔ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ سب سے پہلا تیمم تھا جب آیت تیمم نازل ہوئی۔ اس کے بعد آپ ﷺ کے تمام تیمم اس کے مخالف ہیں اور وہ ناسخ ہیں۔
(ج) امام شافعی رحمہ اللہ ہی فرماتے ہیں کہ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے انہیں چہرے اور ہتھیلیوں پر تیمم کرنے کا حکم دیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 1003
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه ابو داؤد 320»
حدیث نمبر: 1004
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْأَسَدِيُّ بِهَمَدَانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا الْحَكَمُ بْنُ عُتَيْبَةَ، عَنْ ذَرٍّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَقَالَ: إِنِّي أَجْنَبْتُ فَلَمْ أَجِدِ الْمَاءَ فَقَالَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَمَا تَذْكُرُ، أَنَّا كُنَّا فِي سَفَرٍ فَأَجْنَبْتُ، أَنَا وَأَنْتَ فَأَمَّا أَنْتَ فَلَمْ تُصَلِّ، وَأَمَّا أَنَا فَتَمَعَّكْتُ فَصَلَّيْتُ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ هَكَذَا " فَضَرَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَفَّيْهِ الْأَرْضَ فَنَفَخَ فِيهِمَا، ثُمَّ مَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ آدَمَ بْنِ أَبِي إِيَاسٍ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ، مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى الْقَطَّانِ، وَالنَّضْرِ بْنِ شُمَيْلٍ، عَنْ شُعْبَةَ وَذَكَرَ سَمَاعَ الْحَكَمِ لِلْحَدِيثِ مِنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ نَفْسِهِ.
حافظ ثناء اللہ
سعید بن عبد الرحمن بن ابزی اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: میں جنبی ہو جاؤں اور پانی نہ ملے تو کیا کروں؟ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ کو یاد نہیں ہے کہ ہم ایک سفر میں تھے، میں اور آپ جنبی ہو گئے، آپ نے نماز ادا نہیں کی اور میں مٹی میں لوٹ پوٹ ہو گیا، پھر میں نے نماز پڑھی، میں نبی ﷺ کے پاس آیا تو یہ بات میں نے نبی ﷺ کو بتلائی تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”تجھے اس طرح کرنا کافی تھا“، پھر نبی ﷺ نے اپنی ہتھیلیوں کو زمین پر مارا، اس میں پھونک ماری پھر اپنے چہرے اور ہتھیلیوں کا مسح کیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 1004
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه البخاري 331»
حدیث نمبر: 1005
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرِ بْنِ سَابِقٍ الْخَوْلَانِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ، أنا شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْحَكَمُ، عَنْ ذَرٍّ، عَنِ ابْنٍ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ الْحَكَمُ: ثُمَّ سَمِعْتُهُ مِنَ ابْنِ ⦗٣٢٢⦘ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى بِخُرَاسَانَ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرَ، فَقَالَ: إِنَّهُ أَجْنَبَ فَلَمْ يَجِدِ الْمَاءَ، فَقَالَ لَهُ عَمَّارٌ: أَمَا تَذْكُرُ أَنَّا كُنَّا فِي سَرِيَّةٍ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَجْنَبْتُ أَنَا وَأَنْتَ، فَأَمَّا أَنْتَ فَلَمْ تُصَلِّ، وَأَمَّا أَنَا فَتَمَعَّكْتُ فِي التُّرَابِ، ثُمَّ صَلَّيْتُ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: " إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ هَكَذَا "، ثُمَّ ضَرَبَ بِيَدَيْهِ إِلَى الْأَرْضِ، ثُمَّ نَفَخَ فِيهِمَا وَمَسَحَ وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ لَمْ يُجَاوِزِ الْكُوعَ. وَرَوَاهُ سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ، عَنْ ذَرِّ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمُرْهِبِيُّ إِلَّا أَنَّهُ شَكَّ فِي مَتْنِهِ وَاضْطَرَبَ فِيهِ.
حافظ ثناء اللہ
حکم کہتے ہیں: میں نے خراسان میں ابن عبد الرحمن بن ابزیٰ رضی اللہ عنہما سے سنا کہ ایک شخص سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: ”میں جنبی ہوجاؤں اور پانی نہ ملے تو کیا کروں؟“ ان سے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: ”کیا آپ کو یاد نہیں ہے کہ ہم نبی ﷺ کے زمانے میں ایک سریہ میں تھے۔ میں اور آپ جنبی ہوگئے، آپ نے نماز نہیں پڑھی اور میں مٹی میں لوٹ پوٹ ہوا، پھر میں نے نماز پڑھی۔ میں نبی ﷺ کے پاس آیا تو یہ بات میں نے آپ ﷺ سے ذکر کی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تجھے اس طرح کافی تھا“، پھر اپنے ہاتھوں کو زمین پر مارا، پھر ان میں پھونک ماری اور اپنے چہرے اور ہتھیلیوں کا مسح کیا لیکن گٹوں سے آگے نہیں گزرے۔“
(ب) ذر بن عبداللہ راوی کو اس کے متن میں شک ہے، انہوں نے اسے مضطرب قرار دیا ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 1005
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 1006
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ، عَنْ ذَرٍّ، عَنِ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، فَقَالَ: إِنِّي كُنْتُ فِي سَفَرٍ فَأَجْنَبْتُ فَلَمْ أَجِدِ الْمَاءَ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: لَا تُصَلِّ فَقَالَ: عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَمَا تَذْكُرُ إِذْ كُنْتُ أَنَا وَأَنْتَ فِي سَرِيَّةٍ فَأَجْنَبْتُ أَنَا وَأَنْتَ فَلَمْ نُصِبِ الْمَاءَ فَأَمَّا أَنْتَ فَلَمْ تُصَلِّ وَأَمَّا أَنَا فَتَمَعَّكْتُ فِي التُّرَابِ وَأَتَيْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: " يَا عَمَّارُ إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ أَنْ تَقُولَ هَكَذَا " وَضَرَبَ بِيَدَيْهِ عَلَى الْأَرْضِ، ثُمَّ نَفَخَ فِيهِمَا فَمَسَحَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ، فَقَالَ سَلَمَةُ: لَا أَدْرِي بَلَغَ الذِّرَاعَيْنِ أَمْ لَا، قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ: اتَّقِ اللهَ، فَقَالَ عَمَّارُ: إِنْ شِئْتَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ لِمَا جَعَلَ اللهُ لَكَ عَلَيَّ مِنَ الْحَقِّ أَنْ لَا أُحَدِّثَ بِهِ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: بَلْ نُوَلِّيكَ مِنْ ذَلِكَ مَا تَوَلَّيْتَ..
حافظ ثناء اللہ
ابن عبدالرحمن بن ابزیٰ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: میں ایک سفر میں جنبی ہوگیا، مجھے پانی نہیں ملا، اس سے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: تو نماز نہ پڑھ۔ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما نے کہا: اے امیر المؤمنین! کیا آپ کو یاد نہیں جب میں اور آپ ایک سریہ میں تھے، ہم جنبی ہوگئے، ہمیں پانی نہیں ملا، آپ نے نماز نہیں پڑھی اور میں مٹی میں لوٹ پوٹ ہوا اور ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، ہم نے یہ بات آپ ﷺ سے ذکر کی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے عمار! تجھے یہی کافی تھا کہ تو اس طرح کرتا“ اور اپنے ہاتھوں کو زمین پر مارا، پھر اس میں پھونک ماری، اپنے چہرے اور ہاتھوں کا مسح کیا۔ سلمہ نے کہا: میں نہیں جانتا، آپ ﷺ مکمل بازوؤں تک پہنچے ہیں یا نہیں۔ راوی کہتا ہے: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ سے ڈر! عمار رضی اللہ عنہما نے کہا: اے امیر المؤمنین! اللہ نے آپ کو مجھ پر حق سے مقرر کیا ہے، کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں اس حدیث کو بیان نہ کروں؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں، بلکہ ہم تیرے اس معاملے کو تیرے ہی سپرد کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 1006
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 1007
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ذَرًّا يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، فَذَكَرَهُ، قَالَ شُعْبَةُ: ثُمَّ شَكَّ سَلَمَةُ فَلَمْ يَدْرِ إِلَى الْكَفَّيْنِ، أَوْ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ، رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سَلَمَةَ، هَكَذَا وَقَالَ: لَا أَدْرِي فِيهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ يَعْنِي أَوْ إِلَى الْكَفَّيْنِ..
حافظ ثناء اللہ
ابن عبد الرحمن بن ابزی رحمہ اللہ نے اس کو ذکر کیا ہے۔ (ب) شعبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سلمہ رحمہ اللہ کو یاد نہیں کہ ہتھیلیوں تک کا ذکر کیا یا کہنیوں تک۔ (ج) شعبہ رحمہ اللہ نے سلمہ رحمہ اللہ سے اس روایت کے متعلق نقل فرمایا ہے کہ انہوں نے کہا: مجھے معلوم نہیں اس میں کہنیوں کا ذکر ہے یا ہتھیلیوں کا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 1007
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 1008
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ، ثنا حَجَّاجُ، حَدَّثَنِي شُعْبَةُ بِإِسْنَادِهِ بِهَذَا الْحَدِيثِ قَالَ: " ثُمَّ نَفَخَ فِيهِمَا وَمَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ أَوِ الذِّرَاعَيْنِ ". قَالَ شُعْبَةُ: كَانَ سَلَمَةُ يَقُولُ: الْكَفَّيْنِ وَالْوَجْهِ وَالذِّرَاعَيْنِ، فَقَالَ لَهُ مَنْصُورٌ ذَاتَ يَوْمٍ: انْظُرْ مَا تَقُولُ فَإِنَّهُ لَا يَذْكُرُ الذِّرَاعَيْنِ غَيْرُكَ. رَوَاهُ سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ حَبِيبِ بْنِ صُهْبَانَ الْكَاهِلِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ.
حافظ ثناء اللہ
شعبہ رحمہ اللہ نے اس حدیث کو اسی سند سے بیان کیا ہے، وہ فرماتے ہیں کہ پھر اس میں پھونک ماری اور اپنے چہرے اور ہتھیلیوں کا کہنیوں یا بازوؤں تک مسح کیا۔ شعبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سلمہ رحمہ اللہ کا کہنا ہے کہ ہتھیلیاں، چہرہ اور بازو (مسح میں شامل ہیں)۔ ایک دن ان کو منصور رحمہ اللہ نے کہا: ”دیکھ تو کیا کہہ رہا ہے؟ تیرے علاوہ کوئی بھی بازو کا ذکر نہیں کرتا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 1008
درجۂ حدیث محدثین: شاذ
تخریج حدیث «شاذ»
حدیث نمبر: 1009
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أنا سُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ عُمَرَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَقَالَ عَمَّارٌ: فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: " إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ أَنْ تَقُولَ هَكَذَا " وَضَرَبَ بِيَدِهِ إِلَى الْأَرْضِ، ثُمَّ نَفَخَهَا، ثُمَّ مَسَحَ بِهَا وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ إِلَى نِصْفِ الذِّرَاعِ وَرَوَاهُ حُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَمَّارًا يَخْطُبُ فَذَكَرَ التَّيَمُّمَ فَضَرَبَ بِكَفَّيْهِ الْأَرْضَ فَمَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ، وَرَفَعَهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ حُصَيْنٍ، وَرَوَاهُ الْأَعْمَشُ مَرَّةً عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، وَمَرَّةً عَنْ سَلَمَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، وَقَالَ مَرَّةً فِي مَتْنِهِ: ثُمَّ مَسَحَ وَجْهَهُ وَالذِّرَاعَيْنِ إِلَى نِصْفِ السَّاعِدِ وَلَمْ يَبْلُغِ الْمِرْفَقَيْنِ.
حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس تھا۔۔۔ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نبی ﷺ کے پاس آیا تو یہ بات میں نے آپ ﷺ سے ذکر کی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیرے لیے یہی کافی تھا کہ تو اس طرح کرتا اور اپنے ہاتھوں کو زمین پر مارا، پھر پھونک ماری اور اپنے چہرے اور ہاتھوں کا نصف بازوؤں تک مسح کیا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 1009
درجۂ حدیث محدثین: صحيح أخرجه أبو داؤد 322
تخریج حدیث «صحيح أخرجه أبو داؤد 322»
حدیث نمبر: 1010
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْفَضْلِ الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنِ عَطَاءٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَزْرَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمَّارٍ، أَنَّهُ قَالَ: " سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ التَّيَمُّمِ فَأَمَرَنِي بِالْوَجْهِ وَالْكَفَّيْنِ ضَرْبَةً وَاحِدَةً ". وَكَانَ قَتَادَةُ يُفْتِي بِهِ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، وَرَوَاهُ عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ دُونَ ذِكْرِ عَزْرَةَ فِي إِسْنَادِهِ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ، عَنْ قَتَادَةَ، وَاخْتُلِفَ عَلَيْهِ فِي ذِكْرِ عَزْرَةَ فِي إِسْنَادِهِ، وَقِيلَ: عَنْ أَبَانَ، عَنْ قَتَادَةَ بِإِسْنَادٍ آخَرَ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے نبی ﷺ سے تیمم کے متعلق سوال کیا تو آپ نے ”ایک ہی ضرب سے چہرے اور ہتھیلیوں پر مسح“ کا حکم دیا۔ (ب) قتادہ کہتے ہیں: اس کی سند میں مذکور راوی عزرہ کے ذکر پر اختلاف ہے۔
(ج) ابان قتادہ سے دوسری سند سے نقل فرماتے ہیں کہ کہنیوں تک مسح ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 1010
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيرهٖ
تخریج حدیث «صحيح لغيرهٖ۔ أخرجه ابن حبان 1303»
حدیث نمبر: 1011
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا أَبَانُ، قَالَ: سُئِلَ قَتَادَةُ عَنِ التَّيَمُّمِ فِي السَّفَرِ، فَقَالَ: حَدَّثَنِي مُحَدِّثٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کہنیوں تک (مسح کرو)۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 1011
درجۂ حدیث محدثین: منكر
تخریج حدیث «منكر۔ أخرجه ابو داؤد 328»
حدیث نمبر: 1012
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا الْقَاضِيَانِ الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، وَأَبُو عُمَرَ مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَا: ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَانِئٍ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلُ، ثنا أَبَانُ، قَالَ: سُئِلَ قَتَادَةُ عَنِ التَّيَمُّمِ فِي السَّفَرِ، فَقَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ، يَقُولُ: " إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ "، وَكَانَ الْحَسَنُ وَإِبْرَاهِيمُ النَّخْعِيُّ، يَقُولَانِ: " إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ "، ⦗٣٢٤⦘ قَالَ: وَحَدَّثَنِي مُحَدِّثٌ عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ ". قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ: فَذَكَرْتُهُ لِأَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ فَعَجِبَ مِنْهُ، وَقَالَ: مَا أَحْسَنْتَ. قَالَ الشَّيْخُ: هَذَا الِاخْتِلَافُ فِي مَتْنِ حَدِيثِ ابْنِ أَبْزَى، عَنْ عَمَّارٍ إِنَّمَا وَقَعَ أَكْثَرُهُ مِنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ لِشَكٍّ وَقَعَ لَهُ وَالْحَكَمُ بْنُ عُتَيْبَةَ فَقِيهٌ حَافِظٌ قَدْ رَوَى عَنْ ذَرِّ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثُمَّ سَمِعَهُ مِنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، فَسَاقَ الْحَدِيثَ عَلَى الْأَثْبَاتِ مِنْ غَيْرِ شَكٍّ فِيهِ وَحَدِيثُ قَتَادَةَ، عَنْ عَزْرَةَ يُوَافِقُهُ، وَكَذَلِكَ حَدِيثُ حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ، وَأَمَّا حَدِيثُ قَتَادَةَ، عَنْ مُحَدِّثٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ فَهُوَ مُنْقَطِعٌ لَا يُعْلَمُ مَنِ الَّذِي حَدَّثَهُ فَيُنْظَرُ فِيهِ، وَقَدْ ثَبَتَ الْحَدِيثُ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ لَا يَشُكُّ حَدِيثِيُّ فِي صِحَّةِ إِسْنَادِهِ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) ابان کہتے ہیں کہ قتادہ سے سفر میں تیمم کے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: ابن عمر رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے: ”کہنیوں تک“ اور حسن اور ابراہیم نخعی بھی یہی کہتے تھے، یعنی ”کہنیوں تک۔“
(ب) عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کہنیوں تک۔“ (ج) ابو اسحاق کہتے ہیں کہ میں نے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے یہ بات ذکر کی تو انہوں نے فرمایا: کیا ہی خوب (طریقہ ہے)۔
شیخ کہتے ہیں: یہ اختلاف حدیث ابن ابزیٰ عن عمار میں ہے اور یہ اکثر سلمہ بن کہیل سے ہے جسے شک واقع ہوا ہے۔ حکم بن عتیبہ فقیہ اور حافظ ہیں، انہوں نے اس کو ذر بن عبداللہ سے اور انہوں نے سعید بن عبدالرحمن سے روایت کیا، انہوں نے سعید بن عبدالرحمن سے سنا، پھر حدیث کو بغیر شک کے بیان کیا۔ امام قتادہ کا عزرہ سے روایت کرنا اس کے موافق ہے۔ لیکن وہ حدیث جو قتادہ محدث عن شعبی بیان کرتے ہیں وہ منقطع ہے۔ اس طرح یہ حدیث دوسری سند سے بھی ثابت ہے جس کی سند صحیح ہونے میں کوئی شک نہیں ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 1012
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 1013
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّاغَانِيُّ، فِي جُمَادَى الْأُولَى سَنَةَ ثَمَانٍ وَسِتِّينَ وَمِائتَيْنِ، ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللهِ، وَأَبِي مُوسَى، فَقَالَ أَبُو مُوسَى: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الرَّجُلُ يُجْنِبُ فَلَا يَجِدُ الْمَاءَ يُصَلِّي؟ قَالَ: لَا، قَالَ: أَلَمْ تَسْمَعْ قَوْلَ عَمَّارٍ لِعُمَرَ، أَنَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَنِي أَنَا وَأَنْتَ فَأَجْنَبْتُ فَتَمَعَّكْتُ بِالصَّعِيدِ، فَأَتَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَخْبَرَنَاهُ، فَقَالَ: " إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ هَكَذَا "، وَمَسَحَ وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ وَاحِدَةً فَقَالَ: إِنِّي لَمْ أَرَ عُمَرَ قَنَعَ بِذَلِكَ، قَالَ: قُلْتُ: وَكَيْفَ تَصْنَعُونَ بِهَذِهِ الْآيَةِ {فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا} [النساء: ٤٣] قَالَ: إِنَّا لَوْ رَخَّصْنَا لَهُمْ فِي هَذَا كَانَ أَحَدُهُمْ إِذَا وَجَدَ الْمَاءَ الْبَارِدَ يَمْسَحُ بِالصَّعِيدِ ". قَالَ الْأَعْمَشُ: فَقُلْتُ لِشَقِيقٍ: فَمَا كَرِهَهُ إِلَّا لِهَذَا أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ مِنْ أوْجُهٍ عَنِ الْأَعْمَشِ وَأَشَارَ الْبُخَارِيُّ إِلَى رِوَايَةِ يَعْلَى بْنِ عُبَيْدٍ وَهُوَ أَثْبَتُهُمْ سِيَاقَةً لِلْحَدِيثِ.
حافظ ثناء اللہ
شقیق کہتے ہیں کہ میں سیدنا عبداللہ اور سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہما کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا، سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے عبد الرحمن! کوئی شخص جنبی ہو جائے اور پانی نہ ملے تو کیا وہ نماز پڑھے گا؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ انہوں نے پوچھا: تو کیا آپ نے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کی بات جو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے متعلق تھی نہیں سنی کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے اور آپ کو بھیجا، میں جنبی ہو گیا، میں مٹی میں لوٹ پوٹ ہوا، پھر ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، ہم نے آپ ﷺ کو خبر دی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہیں بس اتنا ہی کافی تھا“ اور اپنے چہرے اور ہتھیلیوں کا ایک مرتبہ مسح کیا۔ انہوں نے کہا: میں نے نہیں دیکھا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس پر قناعت کی جو انہوں نے کہا۔ میں نے کہا: تم آیت ﴿فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا﴾ [سورة النساء: 43] پر کس طرح عمل کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: ہم ان کو اس میں رخصت دیتے تھے، ان میں سے کوئی جب ٹھنڈا پانی پاتا تو وہ مٹی سے مسح کر لیتا۔ اعمش کہتے ہیں: میں نے شقیق سے کہا تو انہوں نے اس کو ناپسند سمجھا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 1013
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 1014
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانُ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي حَدِيثِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ: لَا يَجُوزُ عَلَى عَمَّارٍ إِذَا كَانَ ذَكَرَ تَيَمُّمَهُمْ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ نُزُولِ الْآيَةِ إِلَى الْمَنَاكِبِ عَنْ أَمْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا أَنَّهُ مَنْسُوخٌ، إِذْ رُوِيَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَرَ بِالتَّيَمُّمِ عَلَى الْوَجْهِ وَالْكَفَّيْنِ " أوْ يَكُونُ لَمْ يَرْوِ عَنْهُ إِلَّا تَيَمَّمًا وَاحِدًا، ⦗٣٢٥⦘ فَاخْتَلَفَتْ رِوَايَتُهُ عَنْهُ، فَتَكُونَ رِوَايَةُ ابْنِ الصِّمَّةِ الَّتِي لَمْ تَخْتَلِفْ أَثْبَتَ، وَإِذَا لَمْ تَخْتَلِفْ فَأوْلَى أَنْ يُؤْخَذَ بِهَا؛ لِأَنَّهَا أوْفَقُ لِكِتَابِ اللهِ تَعَالَى مِنِ الرِّوَايَتَيْنِ اللَّتَيْنِ رُوِيَتَا مُخْتَلِفَتَيْنِ، أَوْ يَكُونُ إِنَّمَا سَمِعُوا آيَةَ التَّيَمُّمِ عِنْدَ حُضُورِ صَلَاةٍ فَتَيَمَّمُوا فَاحْتَاطُوا فَأَتَوْا عَلَى غَايَةِ مَا يَقَعُ عَلَيْهِ اسْمُ الْيَدِ لِأَنَّ ذَلِكَ لَا يَضُرُّهُمْ كَمَا لَا يَضُرُّهُمْ لَوْ فَعَلُوهُ فِي الْوُضُوءِ، فَلَمَّا صَارُوا إِلَى مَسْأَلَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَهُمْ أَنَّهُ يَجْزِيهِمْ مِنَ التَّيَمُّمِ أَقَلُّ مَا فَعَلُوهُ. وَهَذَا أوْلَى الْمَعَانِي عِنْدِي لِرِوَايَةِ ابْنِ شِهَابٍ مِنْ حَدِيثِ عَمَّارٍ بِمَا وَصَفْتُ مِنَ الدَّلَائِلِ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَإِنَّمَا مَنَعَنَا أَنَّ نَأْخُذَ بِرِوَايَةِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ فِي أَنَّ تَيَمَّمَ الْوَجْهِ وَالْكَفَّيْنِ بِثُبُوتِ الْخَبَرِ عَنْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ مَسَحَ وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ، وَأَنَّ هَذَا أَشْبَهُ بِالْقُرْآنِ وَأَشْبَهُ بِالْقِيَاسِ، فَإِنَّ الْبَدَلَ مِنَ الشَّيْءِ إِنَّمَا يَكُونُ مِثْلُهُ. وَرَوَى الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِيُّ، عَنِ الشَّافِعِيِّ، حَدِيثَ ابْنِ عُمَرَ فِي التَّيَمُّمِ: ضَرْبَةٌ لِلْوَجْهِ، وَضَرْبَةٌ لِلْيَدَيْنِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ يَعْنِي الشَّافِعِيَّ: وَبِهَذَا رَأَيْتُ أَصْحَابَنَا يَأْخُذُونَ، وَقَدْ رُوِيَ فِيهِ شَيْءٌ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَوْ أَعْلَمُهُ ثَابِتًا لَمْ أَعُدَّهُ وَلَمْ أَشُكَّ فِيهِ، وَقَدْ قَالَ عَمَّارٌ: تَيَمَّمْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَنَاكِبِ، وَرُوِيَ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، الْوَجْهَ وَالْكَفَّيْنِ، وَكَأنَّ قَوْلَهُ: " تَيَمَّمْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَنَاكِبِ " لَمْ يَكُنْ عَنْ أَمْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنْ ثَبَتَ عَنْ عَمَّارٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَجْهَ وَالْكَفَّيْنِ وَلَمْ يَثْبُتْ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ فَمَا ثَبَتَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أوْلَى، وَبِهَذَا كَانَ يُفْتِي سَعْدُ بْنُ سَالِمٍ، فَكَأَنَّهُ فِي الْقَدِيمِ شَكَّ فِي ثُبُوتِ الْحَدِيثَيْنِ لَمَّا ذَكَرْنَا فِي كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا، وَمَسْحُ الْوَجْهِ وَالْكَفَّيْنِ فِي حَدِيثِ عَمَّارٍ ثَابِتٌ، وَهُوَ أَثْبَتُ مِنْ حَدِيثِ مَسْحِ الذِّرَاعَيْنِ، إِلَّا أَنَّ حَدِيثَ مَسْحِ الذِّرَاعَيْنِ أَيْضًا جَيِّدٌ بِالشَّوَاهِدِ الَّتِي ذَكَرْنَاهَا، وَهُوَ فِي قِصَّةٍ أُخْرَى، فَإِنْ كَانَ حَدِيثُ عَمَّارٍ فِي ابْتِدَاءِ التَّيَمُّمِ حَيْثُ نَزَلَتِ الْآيَةُ وَرَجَعُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُمْ أَنَّهُ يَجْزِيهِمْ مِنَ التَّيَمُّمِ أَقَلُّ مِمَّا فَعَلُوا فَحَدِيثُ مَسْحِ الذِّرَاعَيْنِ بَعْدَهُ فَهُوَ أوْلَى بِأَنْ يُتَّبَعَ، وَهُوَ أَشْبَهُ بِالْكِتَابِ وَالْقِيَاسِ، وَهُوَ فِعْلُ ابْنِ عُمَرَ صَحِيحٌ عَنْهُ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَلِيٍّ، وَابْنِ عَبَّاسٍ مَسَحُ الْوَجْهِ وَالْكَفَّيْنِ، وَرُوِيَ عَنْ عَلِيٍّ بِخِلَافِهِ.
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کی حدیث کے متعلق فرماتے ہیں: سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کی موجودگی میں تیمم کندھوں تک کیا تھا، آیت کے نازل ہونے کی وجہ سے اور نبی ﷺ کے حکم سے مگر یہ منسوخ ہے، لہٰذا اس روایت پر عمل جائز نہیں اس لیے کہ نبی ﷺ نے ”چہرے اور ہتھیلیوں پر تیمم کا حکم دیا ہے“ یا آپ ﷺ سے صرف ایک بار تیمم کرنا ہی روایت کیا گیا ہے۔
(ب) ان سے روایت بیان کرنے کے متعلق اختلاف ہے۔ ابن صمہ کی روایت میں اختلاف نہیں وہ ثابت ہے۔ جب اس روایت میں اختلاف نہیں تو اس پر عمل کرنا اولیٰ ہے؛ کیونکہ یہ مختلف فیہ دونوں روایات سے کتاب اللہ کے زیادہ موافق ہے۔ یا اس کا نام آیۃ التیمم اس لیے ہے کہ انھوں نے نماز کے وقت تیمم کیا۔ انھوں نے غایت کو اختیار کیا جس پر «اِسْمُ يَدٍ» واقع ہوا ہے، کیونکہ یہ ان کے لیے نقصان دہ نہیں۔ جیسے یہ وضو کرنے میں نقصان دہ نہیں۔ جب یہ مسئلہ نبی ﷺ تک پہنچا تو آپ ﷺ نے انھیں بتلایا: ”جو انھوں نے کیا ہے وہ تیمم کا کم سے کم ہے جو کفایت کر جائے گا۔“ میرے نزدیک یہ معانی زیادہ اچھے ہیں، اس کی دلیل ابن شہاب کی روایت ہے جو سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے۔
(ج) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کی روایت جس میں ہے کہ چہرے اور ہتھیلیوں کے تیمم کا ذکر ہے کو لینے سے دوسری حدیث مانع ہے جس میں ہے کہ آپ ﷺ نے ”اپنے چہرے اور کلائیوں کا مسح کیا“ کیونکہ یہ قرآن اور قیاس کے زیادہ مشابہ ہے۔
(د) امام شافعی رحمہ اللہ نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے حدیث بیان کی ہے کہ ”ایک ضرب چہرے کے لیے اور دوسری ضرب ہاتھوں کے لیے کہنیوں تک ہے“۔
(ر) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمارے اصحاب کا اسی پر عمل ہے۔ تیمم کے متعلق جو کچھ نبی ﷺ سے نقل کیا گیا ہے اگر مجھے معلوم ہو جاتا تو میں اس میں کچھ شک نہ کرتا۔ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے نبی ﷺ کی موجودگی میں کندھوں تک مسح کیا۔ نبی ﷺ سے روایت کیا گیا ہے کہ ”مسح چہرے اور ہتھیلیوں پر ہے“۔
(س) گویا ان کا کہنا ہے کہ ”ہم نے نبی ﷺ کی موجودگی میں کندھوں تک تیمم کیا“، آپ کا حکم اس طرح نہیں ہے۔ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کی حدیث نبی ﷺ سے ثابت ہے جس میں چہرے اور ہتھیلیوں پر مسح کا ذکر ہے۔ کہنیوں تک والی روایت نبی ﷺ سے ثابت نہیں ہے اور جو روایت نبی ﷺ سے ثابت ہے اس پر عمل اولیٰ ہے اور اسی پر سعید بن سالم کا فتویٰ ہے۔ ہم نے پیچھے ذکر کیا ہے کہ انھیں دونوں احادیث کے ثبوت کے متعلق شک ہے جہاں دونوں کا ذکر ہے۔ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کی حدیث جس میں چہرے اور ہتھیلیوں کے مسح کا ذکر ہے وہ بازوؤں پر مسح والی روایت سے زیادہ ثابت ہے اگرچہ بازوؤں والی روایت شواہد کے ساتھ ثابت ہے جس کا ہم نے دوسرے قصے میں ذکر کیا ہے۔ عمار رضی اللہ عنہ والی روایت ابتدائے تیمم کی ہے جب آیت نازل ہوئی تو وہ نبی ﷺ کے پاس آئے، آپ ﷺ نے تیمم کا کم سے کم درجہ بتایا جو انھیں کفایت کر جائے گا۔ بازوؤں پر مسح والی روایت اس کے بعد کی ہے اور اس پر عمل مستحسن ہے؛ کیونکہ وہ کتاب، قیاس اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا فعل ہے جو صحیح کے مشابہ ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے چہرے اور ہتھیلیوں پر مسح کی روایت ثابت ہے۔ سیدنا کی ایک روایت اس کے خلاف ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 1014
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 1015
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ يَزِيدَ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، أَنَّ عَلِيًّا، وَابْنَ عَبَّاسٍ، كَانَا يَقُولَانِ: " فِي التَّيَمُّمِ الْوَجْهَ وَالْكَفَّيْنِ " وَرُوِيَ عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ.
حافظ ثناء اللہ
یزید بن ابی حبیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا علی اور ابن عباس رضی اللہ عنہما تیمم کے متعلق فرماتے تھے کہ اس میں چہرہ اور ہتھیلیاں شامل ہیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 1015
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 1016
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَلِيٍّ، أنا إِبْرَاهِيمُ الْحَرْبِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، وَشُجَاعٌ، ثنا هُشَيْمٌ، ثنا خَالِدٌ، ⦗٣٢٦⦘ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ عَلِيٍّ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: " ضَرْبَتَانِ: ضَرْبَةٌ لِلْوَجْهِ، وَضَرْبَةٌ لِلذِّرَاعَيْنِ ". وَكِلَاهُمَا عَنْ عَلِيٍّ مُنْقَطِعٌ وَقَدْ حَكَاهُ الشَّافِعِيُّ فِي كِتَابِ عَلِيٍّ وَعَبْدِ اللهِ بَلَاغًا، عَنْ هُشَيْمٍ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، أَنَّ عَلِيًّا، قَالَ فِي التَّيَمُّمِ: ضَرْبَةٌ لِلْوَجْهِ، وَضَرْبَةٌ لِلْكَفَّيْنِ " فَالِاحْتِيَاطُ مَسْحُ الْوَجْهِ، وَمَسْحُ الْيَدَيْنِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ خُرُوجًا مِنَ الْخِلَافِ وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دو ضربیں ہیں: ایک ضرب چہرے کے لیے اور ایک ضرب بازوؤں کے لیے اور یہ دونوں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے منقطع ہیں۔ (ب) خالد بن اسحاق کہتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے تیمم کے متعلق فرمایا: ایک ضرب چہرے کے لیے اور ایک ضرب ہتھیلیوں کے لیے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 1016
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»