أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنا مُوسَى بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبَّادٍ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ الْعَبْدِيُّ، وَكَانَ صَدُوقًا، وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ الْأَهْوَازِيُّ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ الْعَبْدِيُّ، ثنا نَافِعٌ، قَالَ: انْطَلَقْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ فِي حَاجَتِهِ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَلَمَّا أَنْ قَضَى حَاجَتَهُ كَانَ مِنْ حَدِيثِهِ يَوْمَئِذٍ، قَالَ: بَيْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سِكَّةٍ مِنْ سِكَكِ الْمَدِينَةِ، وَقَدْ خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَائِطٍ أَوْ بَوْلٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ رَجُلٌ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ، ثُمَّ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَرَبَ بِكَفَّيْهِ، فَمَسَحَ بِوَجْهِهِ مَسْحَةً، ثُمَّ ضَرَبَ ⦗٣١٧⦘ بِكَفَّيْهِ الثَّانِيَةِ، فَمَسَحَ ذِرَاعَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ وَقَالَ: " إِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَرُدَّ عَلَيْكَ إِلَّا أَنِّي لَمْ أَكُنْ عَلَى وُضُوءٍ أَوْ عَلَى طَهَارَةٍ ". لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ عَبْدَانَ وَقَدْ أَنْكَرَ بَعْضُ الْحُفَّاظِ رَفْعَ هَذَا الْحَدِيثِ عَلَى مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ الْعَبْدِيِّ فَقَدْ رَوَاهُ جِمَاعَةٌ عَنْ نَافِعٍ مِنْ فَعْلِ ابْنِ عُمَرَ وَالَّذِي رَوَاهُ غَيْرُهُ عَنْ نَافِعٍ مِنْ فَعْلِ ابْنِ عُمَرَ إِنَّمَا هُوَ التَّيَمُّمُ فَقَطْ فَأَمَّا هَذِهِ الْقِصَّةُ فَهِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَشْهُورَةٌ بِرِوَايَةِ أَبِي الْجُهَيْمِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الصِّمَّةِ وَغَيْرِهِ، وَثَابِتٌ عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَجُلًا مَرَّ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبُولُ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ إِلَّا أَنَّهُ قَصَّرَ بِرِوَايَتِهِ، وَرِوَايَةُ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ، عَنْ نَافِعٍ أَتَمُّ مِنْ ذَلِكَ.نافع نے بیان کیا کہ میں ابن عمر کے ساتھ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف کسی کام کے لیے گیا، جب انہوں نے اپنا کام پورا کر لیا تو یہ حدیث بیان کی کہ نبی ﷺ مدینہ کی کسی گلی میں تھے، آپ ﷺ قضائے حاجت یا پیشاب کے لیے نکلے، ایک شخص نے آپ ﷺ کو سلام کیا تو آپ ﷺ نے اس کے سلام کا جواب نہیں دیا، پھر نبی ﷺ نے اپنی ہتھیلیوں کو (زمین پر) مارا، اپنے چہرے کا ایک مرتبہ مسح کیا، پھر دوسری مرتبہ ہتھیلیوں کو مارا اور اپنے بازوؤں کا کہنیوں تک مسح کیا، پھر فرمایا: ”مجھے کسی نے نہیں روکا تھا کہ میں تیرے سلام کا جواب دیتا، مگر میرا وضو نہیں تھا“ یا فرمایا: ”میں پاک نہیں تھا۔“ (ب) بعض محدثین نے محمد بن ثابت عبدی پر اس کے مرفوع ہونے کا انکار کیا ہے۔ ایک جماعت کہتی ہے کہ یہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کا فعل ہے اور دوسرے کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کا فعل صرف تیمم ہے۔ یہ واقعہ ابوجہیم بن حارث صمہ وغیرہ بھی نبی ﷺ سے مرفوعاً بیان کرتے ہیں۔
(ج) سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی ﷺ کے پاس سے گزرا اور آپ ﷺ پیشاب کر رہے تھے۔ مگر یہ روایت مختصر ہے۔ یزید بن ہاد کی روایت مکمل ہے۔