حدیث نمبر: 1000
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ بَدْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ رَجُلٍ يُقَالُ لَهُ الْأَسْلَعُ قَالَ: " كُنْتُ أَخْدُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ بِآيَةِ التَّيَمُّمِ فَأَرَانِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ الْمَسْحُ لِلتَّيَمُّمِ، فَضَرَبْتُ بِيَدِي الْأَرْضَ ضَرْبَةً وَاحِدَةً فَمَسَحْتُ بِهِمَا وَجْهِي، ثُمَّ ضَرَبْتُ بِهِمَا الْأَرْضَ فَمَسَحْتُ بِهِمَا يَدِيَّ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ " الرَّبِيعُ بْنُ بَدْرٍ ضَعِيفٌ إِلَّا أَنَّهُ غَيْرُ مُنْفَرِدٍ بِهِ وَقَدْ رُوِّينَا هَذَا الْقَوْلَ عَنِ التَّابِعِينَ: عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، وَالْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ، وَالشَّعْبِيِّ، وَإِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ.
حافظ ثناء اللہ

ربیع بن بدر کے دادا ایک شخص سے، جن کو اسلع رضی اللہ عنہ کہا جاتا ہے، نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے کہا: میں نبی ﷺ کی خدمت کرتا تھا، جبرائیل علیہ السلام آیتِ تیمم لے کر آئے تو رسول اللہ ﷺ نے مجھے دکھایا کہ تیمم کے لیے مسح کیسے کیا جاتا ہے: ”میں نے ایک مرتبہ ہاتھ زمین پر مارا، اپنے چہرے پر مسح کیا پھر ان کو زمین پر مارا اور اپنے ہاتھوں کا کہنیوں سمیت مسح کیا۔“
(ب) ربیع بن بدر ضعیف ہے۔ (ج) ہم نے یہ قول تابعین یعنی سالم بن عبداللہ، حسن بصری، شعبی اور ابراہیم نخعی رحمہم اللہ سے نقل کیا ہے۔
اس روایت میں ربیع بن بدر ضعیف اور منفرد ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 1000
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ جدًا أخرجه الدار قطني 1/179»