حدیث نمبر: 992
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي الْحُوَيْرِثِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنِ ابْنِ الصِّمَّةِ، قَالَ: " مَرَرْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَبُولُ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ حَتَّى قَامَ إِلَى جِدَارٍ، فَحَتَهُ بِعَصًا كَانَتْ مَعَهُ، ثُمَّ وَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى الْجِدَارِ، فَمَسَحَ وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ، ثُمَّ رَدَّ عَلَيَّ ". وَهَذَا شَاهِدٌ لِرِوَايَةِ أَبِي صَالِحٍ كَاتَبِ اللَّيْثِ إِلَّا أَنَّ هَذَا مُنْقَطِعٌ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ هُرْمُزٍ الْأَعْرَجُ لَمْ يَسْمَعْهُ مِنَ ابْنِ الصِّمَّةِ، إِنَّمَا سَمِعَهُ مِنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ الصِّمَّةِ، وَإِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَحْيَى الْأَسْلَمِيِّ، وَأَبُو الْحُوَيْرِثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، قَالَ: قَدِ اخْتَلَفَ الْحُفَّاظُ فِي عَدَالَتِهِمَا إِلَّا أَنَّ لِرِوَايَتِهِمَا بِذِكْرِ الذِّرَاعَيْنِ فِيهِ شَاهِدٌ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا ابن صمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس سے گزرا تو آپ ﷺ پیشاب کر رہے تھے۔ میں نے آپ ﷺ کو سلام کیا، آپ نے میرے سلام کا جواب نہیں دیا۔ پھر آپ دیوار کی طرف کھڑے ہوئے، اس کو لکڑی کے ساتھ کریدا جو آپ کے پاس تھی، پھر اپنے ہاتھ دیوار پر رکھے، اپنے چہرے اور بازوؤں کا مسح کیا، پھر سلام کا جواب دیا۔
(ب) یہ روایت ابو صالح کاتبِ لیث کی روایت کے لیے شاہد ہے مگر منقطع ہے۔
(ج) عبدالرحمن بن معاویہ اور ابراہیم بن محمد بن ابو یحییٰ اسلمی ابو حویرث دونوں کے عادل ہونے میں محدثین کا اختلاف ہے؛ کیونکہ ان کی روایات میں کہنیوں کا ذکر ہے اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث شاہد ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 992
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ جدًا أخرجه الشافعي 31»