حدیث نمبر: 989
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، ح. وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ إِمْلَاءً، ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْبَيْدَاءِ أَوْ بِذَاتِ الْجَيْشِ انْقَطَعَ عِقْدٌ لِي فَأَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْتِمَاسِهِ وَأَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ، وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ، فَأَتَى النَّاسُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ فَقَالُوا: أَلَا تَرَى مَا صَنَعَتْ عَائِشَةُ؟ أَقَامَتْ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِالنَّاسِ مَعَهُ، وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ، وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاضِعٌ رَأْسَهُ عَلَى فَخِذِي قَدْ نَامَ، فَقَالَ: حَبَسْتِ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسَ مَعَهُ وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ، وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ، قَالَتْ: فَعَاتَبَنِي أَبُو بَكْرٍ، وَقَالَ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ يَقُولَ، وَجَعَلَ يَطْعُنُ بِيَدِهِ عَلَى خَاصِرَتِي، فَمَا يَمْنَعُنِي مِنَ التَّحَرُّكِ إِلَّا مْكَانَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى فَخِذِي، فَنَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَصْبَحَ عَلَى غَيْرِ مَاءٍ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ آيَةَ التَّيَمُّمِ، فَتَيَمَّمُوا فَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ وَهُوَ أَحَدُ النُّقَبَاءِ: مَا هِيَ بِأَوَّلِ بَرَكَتِكُمْ يَا آلَ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَبَعَثْنَا الْبَعِيرَ الَّذِي كُنْتِ عَلَيْهِ، فَوَجَدْنَا الْعِقْدَ تَحْتَهُ. لَفْظُ حَدِيثِ الْقَعْنَبِيِّ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ وَغَيْرِهِ، عَنْ مَالِكٍ. وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
حافظ ثناء اللہ

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ہم کسی سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے یہاں تک کہ ہم بیداء یا ذات الجیش جگہ پر پہنچے تو میرا ہار گم ہو گیا، اس کی تلاش میں رسول اللہ ﷺ نے قیام کیا اور لوگوں نے بھی آپ ﷺ کے ساتھ قیام کیا اور وہاں پانی نہیں تھا اور نہ ہی ان کے پاس پانی تھا، لوگ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور عرض کیا: ”آپ نہیں دیکھتے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کیا کیا؟ انہوں نے رسول اللہ ﷺ اور لوگوں کو ٹھہرا دیا اور وہ پانی (کے چشمہ وغیرہ) پر نہیں تھے اور ان کے پاس بھی پانی نہیں تھا“۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آئے اور رسول اللہ ﷺ میری ران پر اپنا سر رکھے ہوئے تھے، آپ ﷺ سوئے ہوئے تھے تو انہوں نے کہا: ”تو نے رسول اللہ ﷺ اور لوگوں کو روک دیا ہے اور وہ پانی پر نہیں تھے اور ان کے پاس بھی پانی نہیں تھا“، فرماتی ہیں کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مجھے ڈانٹا جو اللہ نے چاہا کہا اور وہ میری کوکھ میں اپنے ہاتھ سے کچوکے مارتے تھے اور میں اس وجہ سے حرکت نہیں کرتی تھی کہ رسول اللہ ﷺ اپنا سر میری ران پر رکھے ہوئے تھے۔ رسول اللہ ﷺ سو گئے یہاں تک کہ لوگوں نے بغیر پانی کے صبح کی۔ اللہ نے تیمم کی آیت نازل کر دی، انہوں نے تیمم کیا۔ اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ جو نقیبوں میں سے تھے فرمانے لگے: ”اے آلِ ابوبکر! یہ تمہاری وجہ سے پہلی برکت نہیں ہے“۔ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ہم نے اونٹ کو اٹھایا جس پر آپ ﷺ تھے تو ہم نے ہار اس کے نیچے پایا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 989
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه البخاري 327»