❮
❯
حدیث نمبر: 994
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى يَعْنِي الْبُرُلُّسِيُّ، أنا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، أَنَّ نَافِعًا حَدَّثَهُ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: " أَقْبَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْغَائِطِ فَلَقِيَهُ رَجُلٌ عِنْدَ بِئْرِ جَمَلٍ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَقْبَلَ عَلَى الْحَائِطِ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى الْحَائِطِ، فَمَسَحَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ، ثُمَّ رَدَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الرَّجُلِ السَّلَامَ ". فَهَذِهِ الرِّوَايَةُ شَاهِدَةٌ لِرِوَايَةِ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ الْعَبْدِيِّ إِلَّا أَنَّهُ حَفِظَ فِيهَا الذِّرَاعَيْنِ وَلَمْ ⦗٣١٨⦘ يُثْبِتْهَا غيْرُهُ كَمَا سَاقَ هُوَ وَابْنُ الْهَادِ الْحَدِيثَ بِذِكْرِ تَيَمُّمِهِ، ثُمَّ رَدُّهُ جَوَّابِ السَّلَامِ وَإِنْ كَانَ الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ قَصَّرَ بِهِ وَفِعْلُ ابْنِ عُمَرَ التَّيَمُّمِ عَلَى الْوَجْهِ وَالذِّرَاعَيْنِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ شَاهِدٌ لصحةِ رِوَايَةِ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ غَيْرَ مُنَافٍ لَهَا. وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْأُشْنَانِيُّ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ سَعِيدٍ الدَّارِمِيَّ، يَقُولُ: سَأَلْتُ يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ، قُلْتُ: مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ الْعَبْدِيُّ، قَالَ: لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ. كَذَا قَالَ فِي رِوَايَةِ الدَّارِمِيِّ عَنْهُ، وَهُوَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ غَيْرُ مُسْتَحِقٍّ لِلتَّنْكِيرِ بِالدَّلَائِلِ الَّتِي ذَكَرْتُهَا، وَقَدْ رَوَاهُ جَمَاعَةٌ مِنَ الْأَئِمَّةِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ، مِثْلُ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَمُعَلَّى بْنِ مَنْصُورٍ، وَسَعِيدِ بْنِ مَنْصُورٍ، وَغَيْرِهِمْ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَرَوَاهُ عَنْهُ، وَهُوَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَشْهُورٌ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ قضائے حاجت سے واپس آئے تو جمل کے کنویں کے پاس ایک شخص نے آپ کو سلام کیا تو آپ ﷺ نے سلام کا جواب نہیں دیا۔ پھر آپ دیوار کے پاس آئے، آپ نے ہاتھ دیوار پر رکھا، اپنے چہرے اور ہاتھوں کا مسح کیا، پھر اس شخص کے سلام کا جواب دیا۔
یہ روایت محمد بن ثابت عبدی کی روایت کے لیے شاہد ہے، مگر انہوں نے اس میں بازوؤں کا ذکر محفوظ رکھا ہے جسے کسی اور نے ثابت نہیں کیا۔ انہوں نے اور ابن ہاد نے حدیث کو آپ ﷺ کے تیمم اور پھر سلام کا جواب دینے کے ذکر کے ساتھ بیان کیا ہے، اگرچہ ضحاک بن عثمان نے اسے مختصر بیان کیا، اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا چہرے اور کہنیوں تک بازوؤں پر تیمم کرنے کا عمل محمد بن ثابت کی روایت کے صحیح ہونے کا شاہد ہے، اس کے منافی نہیں۔ یحییٰ بن معین نے محمد بن ثابت عبدی کے بارے میں فرمایا: ”اس میں کوئی حرج نہیں۔“ اس حدیث میں وہ ان دلائل کی بنا پر جو میں نے ذکر کیے، رد کیے جانے کے مستحق نہیں، ائمہ کی ایک جماعت نے ان سے یہ حدیث روایت کی ہے، جیسے یحییٰ بن یحییٰ، معلیٰ بن منصور اور سعید بن منصور وغیرہ، اور مسلم بن ابراہیم نے ان کی تعریف کی اور ان سے روایت کی، اور یہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مشہور ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 994
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن۔ أخرجه ابو داؤد 331»