حدیث نمبر: 998
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حِمْشَاذَ الْعَدْلُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ بَالُوَيْهِ، قَالَا: أنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَرْبِيُّ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ: أَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ وَإِنِّي تَمَعَّكْتُ فِي التُّرَابِ فَقَالَ: " اضْرِبْ " فَضَرَبَ بِيَدَيْهِ الْأَرْضَ فَمَسَحَ وَجْهَهُ، ثُمَّ ضَرَبَ بِيَدَيْهِ فَمَسَحَ بِهِمَا يَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ. كَذَا قَالَهُ وَإِسْنَادُهُ صَحِيحٌ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يُبَيِّنِ الْأَمْرَ لَهُ بِذَلِكَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے آکر عرض کیا: میں جنبی ہو گیا تو میں (تیمم کے لیے) مٹی میں لوٹ پوٹ ہوا، انہوں نے فرمایا: ”تو اپنے ہاتھ مٹی پر مار،“ اس نے اپنے ہاتھ زمین پر مارے اور اپنے چہرے کا مسح کیا، پھر اپنے ہاتھوں کو (زمین پر) مارا، پھر اپنے ہاتھوں کا کہنیوں تک مسح کیا۔
اسی طرح بیان کیا گیا ہے اور اس کی سند صحیح ہے، البتہ اس میں یہ وضاحت نہیں کہ اسے اس کا حکم دیا گیا تھا۔