کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: جماعت کے ساتھ رہ کر جس سختی کو تم ناپسند کرتے ہو وہ تفرقے کی اس حالت سے بہتر ہے جسے تم پسند کرتے ہو
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا محمد بن أحمد بن النَّضْر، حدثني جدِّي معاويةُ بن عمرو، حدثنا زائدة، حدثنا أبو حَصِين، عن عامر، عن ثابت بن قُطْبة، عن عبد الله بن مسعود قال: بن مسعود قال: الْزَمُوا هذه الطاعةَ والجماعة، فإنه حبلُ الله الذي أَمَرَ به، وإنَّ ما تكرهون في الجماعةِ خيرٌ من الذي (3) تحبُّون في الفُرْقة، وإنَّ الله تعالى لم يَخلُقْ شيئًا قطُّ إلَّا جعل له مُنتهًى، وإنَّ هذا الدِّين قد تمَّ، وإنه صائرٌ إلى نُقْصان، وإنَّ أمارةَ ذلك أن تُقطَعَ الأرحامُ، ويُؤخذَ المالُ بغير حقِّه، وتُسفَكَ الدماءُ، ويشتكيَ ذو القَرابةِ قرابتَه، لا يعودُ عليه بشيءٍ، ويطوفَ السائلُ بين الجُمُعتين لا يُوضَعُ في يده شيءٌ، بينما هم كذلك إذ خارَتْ خُوَارَ البقر، يَحسَبُ كلُّ الناس أَنَّما خارت من قِبَلِهم، فبَيْنا الناسُ كذلك إذ قَذَفَت الأرضُ بأفلاذ كَبِدِها من الذهب والفضة، لا يَنفعُ بعد ذلك شيءٌ من الذهب والفضة (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8663 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8663 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”تم (حکمرانوں کی) اطاعت اور جماعت (مسلمانوں کے اتحاد) کو لازم پکڑو، کیونکہ یہی اللہ کی وہ رسی ہے جس کا اس نے حکم دیا ہے، اور جماعت میں تمہیں جو بات ناپسند ہو وہ اس سے بہتر ہے جو تم تفرقہ (جدا ہونے) کی صورت میں پسند کرتے ہو۔ اللہ تعالیٰ نے کوئی چیز ایسی پیدا نہیں کی جس کی کوئی انتہا نہ ہو، اور بے شک یہ دین مکمل ہو چکا ہے اور اب یہ نقص (کمی) کی طرف جا رہا ہے، اور اس کی علامت یہ ہے کہ رشتہ داریاں توڑ دی جائیں گی، ناحق مال چھینا جائے گا، خون بہایا جائے گا، رشتہ دار اپنے رشتہ دار (کی بے مروتی) کی شکایت کرے گا مگر اسے کچھ حاصل نہ ہوگا، اور سائل (مانگنے والا) دو جمعوں کے درمیانی وقفے تک پھرتا رہے گا مگر اس کے ہاتھ میں کوئی چیز نہیں رکھی جائے گی۔ لوگ اسی حال میں ہوں گے کہ (زمین سے) گائے کے ڈکارنے جیسی آواز آئے گی، ہر شخص یہ سمجھے گا کہ یہ آواز اس کی اپنی طرف سے آئی ہے، پھر اچانک زمین اپنے جگر کے ٹکڑے (یعنی سونے اور چاندی کے ذخائر) باہر نکال پھینکے گی، (مگر) اس کے بعد سونا اور چاندی کسی کام نہ آئیں گے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثني أبو بكر بن بالويه، حدثنا محمد بن أحمد بن النَّضر، حدثنا معاوية بن عمرو، حدثنا زائدة، حدثنا أبو إسحاق الشَّيباني، أخبرنا يُسَير بن عمرو: أنه قال لأبي مسعود: إنه كان لي صاحبانِ كان مَفزَعي إليهما: حَذَيفةُ وأبو موسى، وإني أَنشُدُك الله إن كنتَ سمعتَ من رسول الله ﷺ شيئًا في الفتن إلَّا حدَّثتَني، وإلَّا اجتهدتَ لي رأيَك (2)، قال: فحَمِدَ الله أبو مسعود وأثنى عليه، ثم قال: عليك بعُظْم أُمّةِ محمدٍ ﷺ، قال: إنَّ الله لم يجمع أمَّةَ محمدٍ ﷺ على ضلالةٍ أبدًا، واصبِرْ حتى يستريحَ بَرٌّ، أو يُستراحَ من فاجر (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وقد كتبناه بإسنادٍ عجيبٍ عالٍ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8664 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وقد كتبناه بإسنادٍ عجيبٍ عالٍ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8664 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
یسیر بن عمرو سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا ابو مسعود (انصاری) رضی اللہ عنہ سے کہا: میرے دو ساتھی تھے جن سے میں (علم و رہنمائی کے لیے) رجوع کرتا تھا: حذیفہ اور ابو موسیٰ (رضی اللہ عنہما)، اب میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ اگر آپ نے فتنوں کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے کچھ سنا ہے تو مجھے ضرور بتائیں، ورنہ اپنی رائے سے میری رہنمائی فرمائیں۔ سیدنا ابو مسعود نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور پھر فرمایا: ”تم امتِ محمدیہ ﷺ کی بڑی جماعت (سوادِ اعظم) کے ساتھ رہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ امتِ محمدیہ ﷺ کو کبھی گمراہی پر جمع نہیں کرے گا، اور صبر کرو یہاں تک کہ کوئی نیک بندہ (موت کے ذریعے) راحت پا لے یا کسی بدکار سے (لوگوں کو) راحت مل جائے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدَّثَناه أبو جعفر محمد بن أحمد بن سعيدٍ الواعظ، حدثنا الحسين بن داود بن معاذ، حدثنا مَكِّيُّ بن إبراهيم، حدثنا أيمن بن نابلٍ، عن قُدَامة بن بن عبد الله بن عمّار الكِلَابي قال: سمعت رسول الله ﷺ يقول: "عليكم باتِّقاءِ الله وهذه الجماعةِ، فإنَّ الله تعالى لا يجمعُ أمَّةَ محمدٍ على ضلالةٍ أبدًا، وعليكم بالصَّبر حتى يستريحَ بَرٌّ أو يُستراحَ من فاجر" (2).
هذا حديثٌ لم نَكتُبْه من حديث أيمن بن نابِلٍ المكّي إلَّا بهذا الإسناد، والحسينُ بن داود ليس من شرطِ هذا الكتاب.
هذا حديثٌ لم نَكتُبْه من حديث أيمن بن نابِلٍ المكّي إلَّا بهذا الإسناد، والحسينُ بن داود ليس من شرطِ هذا الكتاب.
حافظ طلحہ بابر
قدامہ بن عبداللہ بن عمار الکلابی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”تم پر اللہ کا تقویٰ اور اس جماعت (مسلمانوں کے اتحاد) کے ساتھ رہنا لازم ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ امتِ محمدیہ کو کبھی گمراہی پر جمع نہیں فرمائے گا، اور تم پر صبر لازم ہے یہاں تک کہ کوئی نیک بندہ راحت پا لے یا کسی بدکار سے لوگوں کو راحت مل جائے۔“
یہ حدیث حاکم کے بقول صرف اسی سند سے لکھی گئی ہے، اور اس کے ایک راوی حسین بن داود کتاب کی (سخت) شرط پر پورا نہیں اترتے۔
یہ حدیث حاکم کے بقول صرف اسی سند سے لکھی گئی ہے، اور اس کے ایک راوی حسین بن داود کتاب کی (سخت) شرط پر پورا نہیں اترتے۔
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا أحمد بن محمد بن عيسى القاضي، حدثنا محمد بن كثير وأبو نُعيم قالا: حدثنا سفيان، عن سَلَمة بن كُهَيل، عن أبي الزَّعْراء، عن عبد الله بن مسعود قال: يبعثُ الله ﷿ ريحًا فيها زَمهَريرٌ باردٌ لا تَدَعُ على وجه الأرض مؤمنًا إِلَّا كُفِتَ بتلك الريح، ثم تقومُ الساعةُ على شِرَار الناس (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه. وكذلك رُوِيَ بإسناد صحيح عن عبد الله بن عمرو:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8666 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه. وكذلك رُوِيَ بإسناد صحيح عن عبد الله بن عمرو:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8666 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ عزوجل ایک ایسی ہوا بھیجے گا جس میں سخت ٹھنڈک ہوگی، وہ روئے زمین پر کسی ایک مومن کو بھی نہیں چھوڑے گی مگر اس کی روح قبض کر لے گی، پھر قیامت (صرف) بدترین لوگوں پر قائم ہوگی۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدَّثَناه علي بن حَمْشاذ العَدْل، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا عمرو بن مرزوق، حدثنا عِمران القَطّان، عن قتادة، عن عبد الرحمن بن آدم، عن عبد الله بن عمرو قال: لا تقومُ الساعةُ حتى يَبعَثَ اللهُ ريحًا لا تدعُ أحدًا في قلبه مِثقَالُ ذَرّةٍ من تُقًى أو نُهًى إلَّا قَبَضَته، ويَلْحَقُ كلُّ قوم بما كان يَعبُد آباؤُهم في الجاهلية (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک اللہ تعالیٰ ایک ایسی ہوا نہ بھیج دے جو ہر اس شخص کی روح قبض کر لے گی جس کے دل میں ذرہ برابر بھی تقویٰ یا سمجھ بوجھ ہوگی، اور (باقی ماندہ) ہر قوم ان (بتوں) کے پیچھے لگ جائے گی جن کی ان کے آباؤ اجداد جاہلیت میں عبادت کیا کرتے تھے۔
یہ حدیث بھی صحیح سند کے ساتھ مروی ہے۔
یہ حدیث بھی صحیح سند کے ساتھ مروی ہے۔
أخبرني محمد بن المؤمَّل بن الحسن، حدثنا الفضل بن محمد بن المسيَّب، حدثنا نُعيم بن حمّاد، حدثنا يحيى بن حمزة، حدثنا ثَوْر بن يزيد، عن خالد بن مَعْدان حدثني عُمَير بن الأسوَد قال: أتيتُ عُبادةَ بنَ الصامت وهو نازلٌ ساحلَ [حمصَ] (3) في بناءٍ له ومعه امرأتُه أَمُّ حَرَام، فحدَّثَتنا أمُّ حرام أنها سمعت رسول الله ﷺ يقول: "أولُ جيشٍ من أمَّتي يَعْزُون البحرَ قد أَوجَبُوا" قالت: قلت: يا رسول الله، أنا فيهم؟ قال: "إِنَّكِ فيهم"، ثم قال رسول الله ﷺ: "أولُ جيشٍ من أمَّتي يَغزُون مدينةَ قيصرَ مغفورٌ لهم" قلت: يا رسول الله، أنا فيهم؟ قال: "لا" (1).
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8668 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8668 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
ام حرام رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”میری امت کا پہلا لشکر جو سمندری جنگ کرے گا، انہوں نے (اپنے لیے جنت) واجب کر لی۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا میں ان میں شامل ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، تم ان میں ہو۔“ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میری امت کا پہلا لشکر جو قیصر کے شہر (قسطنطنیہ) پر حملہ کرے گا، وہ بخشا ہوا (مغفرت یافتہ) ہے۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا میں ان میں (بھی) ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں۔“
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔