حدیث نمبر: 8878
حدَّثَناه أبو جعفر محمد بن أحمد بن سعيدٍ الواعظ، حدثنا الحسين بن داود بن معاذ، حدثنا مَكِّيُّ بن إبراهيم، حدثنا أيمن بن نابلٍ، عن قُدَامة بن بن عبد الله بن عمّار الكِلَابي قال: سمعت رسول الله ﷺ يقول: "عليكم باتِّقاءِ الله وهذه الجماعةِ، فإنَّ الله تعالى لا يجمعُ أمَّةَ محمدٍ على ضلالةٍ أبدًا، وعليكم بالصَّبر حتى يستريحَ بَرٌّ أو يُستراحَ من فاجر" (2).
هذا حديثٌ لم نَكتُبْه من حديث أيمن بن نابِلٍ المكّي إلَّا بهذا الإسناد، والحسينُ بن داود ليس من شرطِ هذا الكتاب.
حافظ طلحہ بابر

قدامہ بن عبداللہ بن عمار الکلابی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”تم پر اللہ کا تقویٰ اور اس جماعت (مسلمانوں کے اتحاد) کے ساتھ رہنا لازم ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ امتِ محمدیہ کو کبھی گمراہی پر جمع نہیں فرمائے گا، اور تم پر صبر لازم ہے یہاں تک کہ کوئی نیک بندہ راحت پا لے یا کسی بدکار سے لوگوں کو راحت مل جائے۔“
یہ حدیث حاکم کے بقول صرف اسی سند سے لکھی گئی ہے، اور اس کے ایک راوی حسین بن داود کتاب کی (سخت) شرط پر پورا نہیں اترتے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الفتن والملاحم / حدیث: 8878
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف جدًّا» [ترقيم الرساله 8878] [ترقيم الشركة 8770]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده ضعيف جدًّا. وهو مكرر (8757).
درجۂ حدیث: اس کی سند بہت ضعیف (ضعیف جداً) ہے۔ اور یہ نمبر (8757) کا مکرر ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8878 سے ماخوذ ہے۔