المستدرك على الصحيحين
كتاب الفتن والملاحم— فتنوں آزمائشوں کا بیان
مَا تَكْرَهُونَ فِي الْجَمَاعَةِ خَيْرٌ مِمَّا تُحِبُّونَ فِي الْفُرْقَةِ باب: جماعت کے ساتھ رہ کر جس سختی کو تم ناپسند کرتے ہو وہ تفرقے کی اس حالت سے بہتر ہے جسے تم پسند کرتے ہو
حدیث نمبر: 8879
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا أحمد بن محمد بن عيسى القاضي، حدثنا محمد بن كثير وأبو نُعيم قالا: حدثنا سفيان، عن سَلَمة بن كُهَيل، عن أبي الزَّعْراء، عن عبد الله بن مسعود قال: يبعثُ الله ﷿ ريحًا فيها زَمهَريرٌ باردٌ لا تَدَعُ على وجه الأرض مؤمنًا إِلَّا كُفِتَ بتلك الريح، ثم تقومُ الساعةُ على شِرَار الناس (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه. وكذلك رُوِيَ بإسناد صحيح عن عبد الله بن عمرو:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8666 - على شرط البخاري ومسلمحافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ عزوجل ایک ایسی ہوا بھیجے گا جس میں سخت ٹھنڈک ہوگی، وہ روئے زمین پر کسی ایک مومن کو بھی نہیں چھوڑے گی مگر اس کی روح قبض کر لے گی، پھر قیامت (صرف) بدترین لوگوں پر قائم ہوگی۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده ليِّن لتفرُّد أبي الزعراء به كما سبق بيانه عند الرواية المطوَّلة السالفة برقم (8729)، وفي وصف الريح المبتعثة في آخر الزمان بالزمهرير مخالفة لما ثبت عن النبي ﷺ: أنه وصفها بالريح الطيّبة، كما وقع في حديثي عائشة والنواس بن سمعان السالفين برقم (8586) و (8718)، وفيهما ما معناه: أنَّ الساعة تقوم على من لا خير فيه من الناس.
درجۂ حدیث: اس کی سند نرم (لیّن) ہے کیونکہ ابو الزعراء اس میں منفرد ہیں جیسا کہ سابقہ طویل روایت نمبر (8729) میں بیان ہوا۔
فنی نکتہ / علّت: اس روایت میں آخری زمانے میں چلنے والی ہوا کو ’زمہریر‘ (سخت ٹھنڈی) کہا گیا ہے، جو کہ نبی ﷺ سے ثابت شدہ وصف کے خلاف ہے، آپ ﷺ نے اسے ’پاکیزہ ہوا‘ (ریح طیبہ) فرمایا ہے جیسا کہ حضرت عائشہ اور نواس بن سمعان کی سابقہ احادیث نمبر (8586) اور (8718) میں ہے۔ اور ان دونوں احادیث کا مفہوم یہ ہے کہ قیامت ان لوگوں پر قائم ہوگی جن میں کوئی خیر نہیں ہوگی۔
درجۂ حدیث: اس کی سند نرم (لیّن) ہے کیونکہ ابو الزعراء اس میں منفرد ہیں جیسا کہ سابقہ طویل روایت نمبر (8729) میں بیان ہوا۔
فنی نکتہ / علّت: اس روایت میں آخری زمانے میں چلنے والی ہوا کو ’زمہریر‘ (سخت ٹھنڈی) کہا گیا ہے، جو کہ نبی ﷺ سے ثابت شدہ وصف کے خلاف ہے، آپ ﷺ نے اسے ’پاکیزہ ہوا‘ (ریح طیبہ) فرمایا ہے جیسا کہ حضرت عائشہ اور نواس بن سمعان کی سابقہ احادیث نمبر (8586) اور (8718) میں ہے۔ اور ان دونوں احادیث کا مفہوم یہ ہے کہ قیامت ان لوگوں پر قائم ہوگی جن میں کوئی خیر نہیں ہوگی۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8879 سے ماخوذ ہے۔