حدیث نمبر: 8881
أخبرني محمد بن المؤمَّل بن الحسن، حدثنا الفضل بن محمد بن المسيَّب، حدثنا نُعيم بن حمّاد، حدثنا يحيى بن حمزة، حدثنا ثَوْر بن يزيد، عن خالد بن مَعْدان حدثني عُمَير بن الأسوَد قال: أتيتُ عُبادةَ بنَ الصامت وهو نازلٌ ساحلَ [حمصَ] (3) في بناءٍ له ومعه امرأتُه أَمُّ حَرَام، فحدَّثَتنا أمُّ حرام أنها سمعت رسول الله ﷺ يقول: "أولُ جيشٍ من أمَّتي يَعْزُون البحرَ قد أَوجَبُوا" قالت: قلت: يا رسول الله، أنا فيهم؟ قال: "إِنَّكِ فيهم"، ثم قال رسول الله ﷺ: "أولُ جيشٍ من أمَّتي يَغزُون مدينةَ قيصرَ مغفورٌ لهم" قلت: يا رسول الله، أنا فيهم؟ قال: "لا" (1).
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8668 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر

ام حرام رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”میری امت کا پہلا لشکر جو سمندری جنگ کرے گا، انہوں نے (اپنے لیے جنت) واجب کر لی۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا میں ان میں شامل ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، تم ان میں ہو۔“ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میری امت کا پہلا لشکر جو قیصر کے شہر (قسطنطنیہ) پر حملہ کرے گا، وہ بخشا ہوا (مغفرت یافتہ) ہے۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا میں ان میں (بھی) ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں۔“
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الفتن والملاحم / حدیث: 8881
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8881] [ترقيم الشركة 8773] [ترقيم العلميه 8668]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) زيادة من البخاري وغيره ممن خرَّج الحديث.
تفصیلِ روایت: یہ اضافہ امام بخاری اور دیگر محدثین کی روایت سے لیا گیا ہے جنہوں نے اس حدیث کی تخریج کی ہے۔
(1) إسناده صحيح.
درجۂ حدیث: اس حدیث کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه البخاري (2924) عن إسحاق بن يزيد الدمشقي، عن يحيى بن حمزة، بهذا الإسناد. فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
حوالہ / مصدر: اس حدیث کی تخریج امام بخاری نے (صحیح بخاری: 2924) میں اسحاق بن یزید الدمشقی کے واسطے سے کی ہے، جو یحییٰ بن حمزہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔
فنی نکتہ / علّت: امام حاکم کا اسے (مستدرک میں) ذکر کرنا ان کا وہم و ذہول ہے (کیونکہ یہ بخاری میں موجود ہے)۔
وانظر حديث أنس بن مالك عن أم حرام - وهي خالته - في "مسند أحمد" 44/ (27032).
حوالہ / مصدر: مزید دیکھیے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی وہ حدیث جو وہ اپنی خالہ حضرت ام حرام رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں، یہ "مسند احمد" کی جلد 44، حدیث نمبر (27032) میں موجود ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8881 سے ماخوذ ہے۔