کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: قیامت کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ برے لوگوں کو بلند مقام ملے گا اور اچھے لوگ پسِ پشت ڈال دیے جائیں گے
حدثنا أبو عبد الله محمد بن أحمد بن موسى الخازنُ ﵀ ببُخارَى، حدثنا إبراهيم بن يوسف الهِسِنْجاني، حدثنا هشام بن عمّار، حدثنا يحيى بن حمزة، حدثني عمرو بن قيس الكِنْدي قال: كنت مع أبي بحُوَّارينَ (4) وأنا غلامٌ شابٌّ، فرأيت الناسَ مجتمعين على رجلٍ، قلت: مَن هذا؟ قالوا: عبدُ الله بن عمرو بن العاص، فسمعته يحدِّث عن رسول الله ﷺ أنه قال: "مِن اقترابِ الساعة أن تُرفَعَ الأشرارُ وتُوضَعَ الأخيارُ، ويُفتَحَ القولُ ويُخزَنَ العملُ، ويُقرأَ بالقوم المَثْناةُ ليس فيهم أحدٌ يُنكِرُها". قيل: وما المَثْناةُ؟ قال: ما اكتَتبتَ سوى كتابِ الله ﷿ (5). وقد رواه الأوزاعيُّ عن عمرو بن قيس السَّكُوني:
حافظ طلحہ بابر
عمرو بن قیس الکندی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں اپنے والد کے ساتھ 'حوارین' میں تھا اور میں ابھی جوان لڑکا تھا، میں نے دیکھا کہ لوگ ایک شخص کے گرد جمع ہیں، میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ لوگوں نے کہا: یہ عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما ہیں۔ میں نے انہیں رسول اللہ ﷺ کی یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”قیامت کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ برے لوگوں کو بلند کیا جائے گا اور اچھے لوگوں کو پست کر دیا جائے گا، باتیں بہت بنائی جائیں گی اور عمل کو چھپا لیا جائے گا (یا عمل ختم ہو جائے گا)، اور لوگوں میں 'مثناۃ' پڑھی جائے گی اور ان میں کوئی ایک شخص بھی اس پر نکیر کرنے والا (روکنے والا) نہیں ہوگا۔“ پوچھا گیا: 'مثناۃ' کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ”وہ (قوانین یا کتابیں) جو اللہ عزوجل کی کتاب کے علاوہ لکھی گئی ہوں (اور لوگ اسے قرآن پر ترجیح دینے لگیں)۔“
حدَّثَناهُ علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا موسى بن الحسن بن عبّاد، حدثنا أبو يوسف محمد بن كَثير الصَّنعاني، حدثنا الأوزاعي، عن عمرو بن قيس السَّكُوني قال: خرجتُ مع أَبي في الوَفْد إلى معاوية، فسمعت رجلًا يحدِّث الناسَ يقول: إنَّ من أشراطِ الساعة أن تُرفعَ الأشرارُ وتُوضَعَ الأخيار، وأن يُخزَنَ الفعلُ والعملُ ويَظهرَ القولُ، وأن يُقرأَ بالمَثنْاةِ في القوم ليس فيهم من يغيِّرها أو يُنكِرها. فقيل: ما المثَنْاة؟ قال: ما اكتَتبتَ سوى كتابِ الله. قال: فحدَّثت بهذا الحديث قومًا وفيهم إسماعيل بن عُبيد الله، فقال: أنا معك في ذلك المجلس، تَدْري مَن الرجلُ؟ قلت: لا، قال: عبدُ الله بنُ عَمرو (1).
هذا حديث صحيح الإسنادين جميعًا، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8661 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسنادين جميعًا، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8661 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
عمرو بن قیس السکونی سے روایت ہے کہ میں اپنے والد کے ساتھ ایک وفد میں سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، تو میں نے ایک شخص کو لوگوں سے یہ حدیث بیان کرتے سنا کہ: ”قیامت کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ برے لوگوں کو بلند کیا جائے گا اور اچھے لوگوں کو پست کر دیا جائے گا، عمل اور کام کو چھپا لیا جائے گا (یا عمل ختم ہو جائے گا) اور باتیں ظاہر ہو جائیں گی (لفاظی بڑھے گی)، اور لوگوں میں 'مثناۃ' پڑھی جائے گی اور ان میں کوئی ایسا نہ ہوگا جو اسے بدلے یا اس پر نکیر کرے (روکے)۔“ پوچھا گیا کہ 'مثناۃ' کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ”وہ (تحریریں) جو اللہ کی کتاب کے علاوہ لکھی گئی ہوں۔“ عمرو بن قیس کہتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث کچھ لوگوں کو سنائی جن میں اسماعیل بن عبید اللہ بھی تھے، انہوں نے کہا: میں بھی اس مجلس میں تمہارے ساتھ تھا، کیا تم جانتے ہو وہ (بیان کرنے والے) صاحب کون تھے؟ میں نے کہا: نہیں، انہوں نے کہا: وہ (صحابیِ رسول) سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما تھے۔
یہ حدیث دونوں اسناد سے صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث دونوں اسناد سے صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا محمد بن إسماعيل، حدثنا أبو الطاهر، حدثنا ابن وَهْب، أخبرني يحيى بن أيوب، عن أبي قَبِيل المَعافِري قال: كنَّا عندَ عبد الله بن عمرو بن العاص فسُئِل: أيُّ المدينتين تُفتَحُ أولًا: القُسطنطِينيَّةُ أو الرُّومِيَةُ؟ قال: فدعا بصُندوقٍ ظَهُمٍ - والظُّهْم: الخَلَقُ - فأخرج منها كتابًا فنَظَر فيه، ثم قال: كنَّا عند رسول الله ﷺ نكتبُ ما قال؛ نعم ولا، فسُئِلَ (1) أيُّ المدينتين تُفتَح أولًا: القُسطنطِينيَّةُ أو الرُّومِيَةُ؟ فقال رسول الله ﷺ: "مدينةُ هِرَقلَ تُفتَحُ أَوَّلًا"؛ يعني القُسطنطِينيّة (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8662 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8662 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
ابوقبیل المعافری سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کے پاس تھے، ان سے سوال کیا گیا کہ (رومیوں کے) دو شہروں میں سے کون سا پہلے فتح ہوگا: قسطنطنیہ یا رومیہ (روم)؟ انہوں نے ایک پرانا صندوق منگوایا، اس میں سے ایک کتاب نکالی اور اسے دیکھ کر فرمایا: ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے وہ سب لکھ رہے تھے جو آپ ﷺ فرماتے تھے (نعم اور لا کی تفصیل بھی)، پس آپ ﷺ سے پوچھا گیا کہ کون سا شہر پہلے فتح ہوگا: قسطنطنیہ یا رومیہ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہرقل کا شہر پہلے فتح ہوگا“ یعنی قسطنطنیہ۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔