حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا الحسن بن علي بن عفَّان العامِرِي، حَدَّثَنَا عبد الله بن نُمير، حَدَّثَنَا أبو خالد يزيدُ بن عبد الرحمن الدّالانيّ. وحدثنا عبد الرحمن بن الحسن القاضي، حَدَّثَنَا إبراهيم بن الحسين، حَدَّثَنَا آدم بن أبي إياس، حَدَّثَنَا شُعبة، عن يزيد بن أبي خالد، عن المِنْهال بن عمرو، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عباس، عن النَّبِيّ ﷺ قال: "مَن عاد مريضًا لم يَحضُرْه أجلُه، فقال عنده سبعَ مرات: أسألُ الله العظيم، ربَّ العرشِ العظيم، أن يَشفِيَك، إلَّا عافاهُ اللهُ من ذلك المرض" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بعد أن اتَّفقا على حديث المِنهال بن عمرو بإسناده: كان يُعوِّذ الحسنَ والحسينَ (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8282 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بعد أن اتَّفقا على حديث المِنهال بن عمرو بإسناده: كان يُعوِّذ الحسنَ والحسينَ (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8282 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص کسی ایسے مریض کی عیادت کرے جس کی موت کا وقت ابھی قریب نہ آیا ہو، اور اس کے پاس سات مرتبہ یہ کہے: «أَسْأَلُ اللَّهَ الْعَظِيمَ، رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، أَنْ يَشْفِيَكَ» میں عظمت والے اللہ، جو عرشِ عظیم کا رب ہے، سے سوال کرتا ہوں کہ وہ تمہیں شفاء دے، تو اللہ اسے اس بیماری سے ضرور عافیت عطا فرمائے گا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے۔
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبُوبي، حَدَّثَنَا سعيد بن مسعود، حَدَّثَنَا عبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل، عن أبي إسحاق، عن أبي الأَحوص، عن عبد الله: أنَّ ثلاثةَ نَفرٍ أَتَوا النَّبِيَّ ﷺ فقالوا: إنَّ صاحبًا لنا مريضٌ فوُصِفَ له الكيُّ، فنَكْويهِ؟ فَسَكَت، ثم عادوا فسَكَت، ثم قال في الثالثة: "اكوُوه إنْ شئتُم، وإن شئتُم فارْضِفُوه" (3).
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8283 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8283 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ تین افراد نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: ہمارا ایک ساتھی بیمار ہے اور اس کے لیے (آگ سے) داغنا تجویز کیا گیا ہے، کیا ہم اسے داغیں؟ آپ ﷺ خاموش رہے۔ انہوں نے دوبارہ پوچھا تو آپ پھر خاموش رہے۔ تیسری مرتبہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم چاہو تو اسے داغ لو، اور اگر چاہو تو گرم پتھر سے سینک لو۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح الاسناد ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح الاسناد ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حَدَّثَنَا إسماعيل بن إسحاق القاضي وعليّ بن عبد العزيز البَغَوي، حَدَّثَنَا حجَّاج بن مِنْهال، حَدَّثَنَا حمّاد بن سَلَمة، حَدَّثَنَا أبو التّيّاح، عن مُطرِّف، عن عِمْران بن حُصين قال: نَهَى رسولُ الله ﷺ عن الكَيِّ، فاكتَوَينا، فما أفلَحْنا ولا أنجَحْنا (1).
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8284 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8284 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے داغنے سے منع فرمایا، لیکن ہم نے (بیماری کی وجہ سے) داغوایا، تو ہمیں نہ اس سے کوئی فلاح ملی اور نہ ہی کامیابی۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، أخبرنا محمد بن أحمد بن النَّضْر الأزْدي، حَدَّثَنَا معاوية بن عمرو، حَدَّثَنَا أبو إسحاق الفَزَاري، عن الأعمش، عن أبي سفيان، عن جابر قال: رُمِي أُبيُّ بنُ كَعْب في أَكحَلِهِ، فَبَعَثَ إِليه رسولُ الله ﷺ طبيبًا فكَوَاه (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8285 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8285 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی رگِ اکحل (بازو کی رگ) پر تیر لگا، تو رسول اللہ ﷺ نے ان کی طرف ایک طبیب بھیجا جس نے (خون روکنے کے لیے) اسے داغ دیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حَدَّثَنَا يحيى بن محمد بن يحيى حَدَّثَنَا مسدَّد. وحدثنا علي بن حَمْشاذَ، حَدَّثَنَا أبو المثنَّى، حَدَّثَنَا محمد بن المِنْهال؛ قالا: حَدَّثَنَا يزيد بن زُرَيع، حَدَّثَنَا مَعمَر، عن الزُّهْري، عن أنس بن مالك: أنَّ رسول الله ﷺ كَوَى أسعدَ بن زُرَارة من الشَّوكة (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8286 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8286 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کو ”شوکۃ“ (ایک قسم کی سرخی یا ورم) کی وجہ سے داغا تھا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حَدَّثَنَا السَّرِيّ بن خُزيمة ومحمد بن عمرو الحَرَشي، قالا: حَدَّثَنَا أحمد بن يونس، حَدَّثَنَا زهير، حَدَّثَنَا أبو الزُّبير، عن جابر قال: رُمِيَ سعدُ بنُ معاذ في أَكحَلِه، فحَسَمَه النَّبِيّ ﷺ بيده بمِشقَص، قال: ثم وَرِمَت فَحَسَمَه الثانيةَ (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8287 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8287 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (غزوہ خندق کے موقع پر) سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی رگِ اکحل (بازو کی ایک رگ) پر تیر لگا، تو نبی کریم ﷺ نے خود اپنے دستِ مبارک سے ایک چوڑے پھل والے تیر (مشقص) کے ذریعے اسے داغا۔ راوی کہتے ہیں: پھر اس میں دوبارہ سوجن ہو گئی تو آپ ﷺ نے اسے دوسری مرتبہ داغا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني أحمد بن يعقوب الثَّقفي، حَدَّثَنَا يوسف بن يعقوب القاضي، حَدَّثَنَا عمرو بن مرزوق، حَدَّثَنَا عِمران القَطَّان، عن قَتَادة عن أنس بن مالك قال: كَوَاني أبو طَلْحة ورسولُ الله ﷺ بين أظهُرِنا، فما نُهِيتُ عنه (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8288 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8288 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے مجھے داغا (میرا علاج کیا) جبکہ رسول اللہ ﷺ ہمارے درمیان موجود تھے، اور مجھے اس سے منع نہیں کیا گیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني أبو عمرو إسماعيل بن نُجَيد السُّلمي وأبو سعيد أحمد بن يعقوب الثقفي، قالا: أخبرنا أبو مسلم، حَدَّثَنَا أبو عاصم، عن حَيْوة بن شُريح، عن خالد بن عُبيد، عن مِشرَح بن هاعان، عن عُقْبة بن عامر قال: قال رسول الله ﷺ: "من عَلَّق وَدَعةً، فلا وَدَعَ اللهُ له، ومن عَلَّق تميمةٌ، فلا تمَّمَ اللهُ له" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8289 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8289 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے (بچاؤ کی نیت سے) سمندری کوڑی لٹکائی، اللہ اسے سکون نصیب نہ کرے، اور جس نے تمیمہ (تعویذ یا مالا وغیرہ) لٹکایا، اللہ اس کی مراد پوری نہ کرے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا عبد الله بن الحسن بن أحمد، حَدَّثَنَا جدِّي أحمد بن أبي شعيب، حَدَّثَنَا موسى بن أعْيَن، عن محمد بن سَلَمة الكوفي، عن الأعمش، عن عمرو بن مُرَّة، عن يحيى بن الجزَّار، عن عبد الله بن عُتبة بن مسعود، عن زينب امرأة عبد الله: أنها أصابها حُمْرةٌ في وجهها، فدخلت عليها عجوزٌ فرَقَتْها في خَيْط فعلَّقته عليها، فدخل ابنُ مسعود فرآه عليها، فقال: ما هذا؟ فقالت: استَرقَيتُ من الحُمْرة، فمدَّ يده فقَطَعها، ثم قال: إِنَّ آلَ عبد الله لأغنياءُ عن الشِّرك، قالت: ثم قال: إنَّ رسول الله ﷺ حَدَّثَنَا: "أَنَّ الرُّقَى والتَّمائمَ والتِّوَلَةَ شِرْك". قالت: قلت: ما التِّولةُ؟ قال: التِّوَلَةُ هو التهيُّج الذي يُهيِّج الرجال (2).
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8290 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8290 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی اہلیہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ان کے چہرے پر سرخی (ایک قسم کا انفیکشن/دانہ) نکل آیا، تو ان کے پاس ایک بڑھیا آئی جس نے ایک دھاگے پر دم کر کے ان پر لٹکا دیا۔ جب ابن مسعود رضی اللہ عنہ داخل ہوئے اور اسے دیکھا تو پوچھا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ میں نے اس سرخی کے لیے دم کروایا ہے، تو انہوں نے اپنا ہاتھ بڑھا کر اسے توڑ ڈالا اور فرمایا: ”عبداللہ کی آل شرک سے بے نیاز ہے“، پھر انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں یہ حدیث سنائی تھی: ”بیشک (غیر شرعی) دم، تعویذات اور تولہ شرک ہیں۔“ زینب کہتی ہیں: میں نے پوچھا: یہ ”تولہ“ کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ”تولہ“ وہ ہیجان (جادو) ہے جو مردوں کو (محبت میں) دیوانہ کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔