المستدرك على الصحيحين
كتاب الرقى والتمائم— دم اور تعویذات کے احکام
الدُّعَاءُ عِنْدَ عِيَادَةِ الْمَرِيضِ باب: بیمار پرسی کے وقت کی دعا کا تذکرہ
حدیث نمبر: 8494
أخبرني أبو عمرو إسماعيل بن نُجَيد السُّلمي وأبو سعيد أحمد بن يعقوب الثقفي، قالا: أخبرنا أبو مسلم، حَدَّثَنَا أبو عاصم، عن حَيْوة بن شُريح، عن خالد بن عُبيد، عن مِشرَح بن هاعان، عن عُقْبة بن عامر قال: قال رسول الله ﷺ: "من عَلَّق وَدَعةً، فلا وَدَعَ اللهُ له، ومن عَلَّق تميمةٌ، فلا تمَّمَ اللهُ له" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8289 - صحيححافظ طلحہ بابر
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے (بچاؤ کی نیت سے) سمندری کوڑی لٹکائی، اللہ اسے سکون نصیب نہ کرے، اور جس نے تمیمہ (تعویذ یا مالا وغیرہ) لٹکایا، اللہ اس کی مراد پوری نہ کرے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده ضعيف، وسلف الكلام عليه برقم (7581). أبو مسلم: هو إبراهيم بن عبد الله الكشّي، وأبو عاصم: هو الضحاك بن مخلد النبيل.
درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے، اور اس پر کلام پیچھے نمبر (7581) کے تحت گزر چکا ہے۔ فنی نکتہ / علّت: سند میں موجود راوی "ابو مسلم" سے مراد ابراہیم بن عبد اللہ الکشی ہیں، اور "ابو عاصم" سے مراد ضحاک بن مخلد النبیل ہیں۔
درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے، اور اس پر کلام پیچھے نمبر (7581) کے تحت گزر چکا ہے۔ فنی نکتہ / علّت: سند میں موجود راوی "ابو مسلم" سے مراد ابراہیم بن عبد اللہ الکشی ہیں، اور "ابو عاصم" سے مراد ضحاک بن مخلد النبیل ہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8494 سے ماخوذ ہے۔