حدیث نمبر: 8490
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، أخبرنا محمد بن أحمد بن النَّضْر الأزْدي، حَدَّثَنَا معاوية بن عمرو، حَدَّثَنَا أبو إسحاق الفَزَاري، عن الأعمش، عن أبي سفيان، عن جابر قال: رُمِي أُبيُّ بنُ كَعْب في أَكحَلِهِ، فَبَعَثَ إِليه رسولُ الله ﷺ طبيبًا فكَوَاه (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8285 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی رگِ اکحل (بازو کی رگ) پر تیر لگا، تو رسول اللہ ﷺ نے ان کی طرف ایک طبیب بھیجا جس نے (خون روکنے کے لیے) اسے داغ دیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الرقى والتمائم / حدیث: 8490
درجۂ حدیث محدثین: إسناده قوي
تخریج حدیث «إسناده قوي من أجل أبي سفيان طلحة بن نافع» [ترقيم الرساله 8490] [ترقيم الشركة 8387] [ترقيم العلميه 8285]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده قوي من أجل أبي سفيان طلحة بن نافع. أبو إسحاق الفزاري: هو إبراهيم بن محمد بن الحارث، والأعمش: هو سليمان بن مهران.
درجۂ حدیث: ابو سفیان طلحہ بن نافع کی وجہ سے اس کی سند "قوی" ہے۔ (راویوں کا تعین): ابو اسحاق الفزاری سے مراد ابراہیم بن محمد بن الحارث، اور اعمش سے مراد سلیمان بن مہران ہیں۔
وقد سلف الحديث برقم (7684) من طريقين آخرين عن الأعمش. وهو عند مسلم في "صحيحه"، فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
نوٹ / توضیح: یہ حدیث نمبر (7684) پر اعمش سے دو دیگر طریقوں سے گزر چکی ہے۔
اہم نکتہ: یہ حدیث مسلم کی "صحیح" میں موجود ہے، لہٰذا حاکم کا اس پر استدراک کرنا ان کا "ذہول" (بھول) ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8490 سے ماخوذ ہے۔