أخبرني الحسن بن حَليم (1) المروَزي، أخبرنا أبو المُوجِّه، أخبرنا عَبْدان، أخبرنا عبد الله، أخبرني طلحة بن أبي سعيد، عن بُكير بن عبد الله بن الأشجّ، عن القاسم بن محمد، عن عائشة أنها قالت: التمائمُ ما عُلِّق قبل نزول البلاء، وما عُلِّق بعد نزول البلاء فليس بتَمِيمة (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8291 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8291 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”تمیمہ (ناجائز تعویذ) وہ ہے جو بلا نازل ہونے سے پہلے (اسے ٹالنے کے لیے) لٹکایا جائے، اور جو بلا نازل ہونے کے بعد (بطور علاج) لٹکایا جائے، وہ تمیمہ نہیں ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حَدَّثَنَا محمد بن غالب، حَدَّثَنَا أبو مسلم بن أبي شعيب الحرَّاني، حَدَّثَنَا مِسكِين بن بُكير، عن شُعبة، عن أبي رَجَاء، عن الحسن، قال: سألتُ أنس بن مالك عن النُّشْرة، فقال: ذَكَروا عن النَّبِيّ ﷺ أَنَّها من عمل الشيطان (3) [كتاب الفتن] ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8292 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8292 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
حسن بصری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ”نشرہ“ (جادو کے ذریعے جادو کا توڑ) کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا: نبی کریم ﷺ کے حوالے سے یہ ذکر کیا گیا ہے کہ ”یہ شیطان کے کاموں میں سے ہے۔“