کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: تم میں سے جو اپنے بھائی کو نفع پہنچانے کی استطاعت رکھتا ہو وہ ضرور پہنچائے
أخبرنا علي بن محمد بن عُقْبة الشَّيباني بالكوفة، حَدَّثَنَا إبراهيم بن إسحاق الزُّهري، حَدَّثَنَا مُحاضِر بن المُورِّع، حَدَّثَنَا الأعمش، عن أبي سفيان (2)، عن جابر بن عبد الله قال: جاء رجلٌ من الأنصار يقال له: عَمرو بن حَزْم، وكان يَرقِي من الحيّة، فقال: يا رسول الله، إنك نهيتَ عن الرُّقى وأنا أَرقي من الحيَّة، قال: "قُصَّها عليَّ"، فقصَّها، فقال: "لا بأسَ بهذه، هذه مَواثيقُ". قال: وجاء خالي من الأنصار، وكان يَرقي من العقرب، فقال: يا رسول الله، إنك نهيتَ عن الرُّقى، وأنا أَرقي من العقرب، قال: "مَن استطاع أن يَنفَعَ أخاه فليَفعَلْ" (3).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8277 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8277 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انصار کا ایک شخص جسے عمرو بن حزم کہا جاتا تھا حاضر ہوا، وہ سانپ کے ڈسے کا دم کیا کرتا تھا، اس نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! آپ نے دم کرنے سے منع فرمایا ہے جبکہ میں سانپ کا دم کرتا ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ مجھے سناؤ،“ اس نے سنایا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس میں کوئی حرج نہیں، یہ تو عہد و پیمان (مواثیق) ہیں۔“ راوی کہتے ہیں کہ میرے انصاری ماموں بھی آئے جو بچھو کا دم کیا کرتے تھے، انہوں نے بھی یہی عرض کی کہ آپ نے دم سے منع فرمایا ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے جو اپنے بھائی کو نفع پہنچانے کی استطاعت رکھتا ہو، وہ ضرور ایسا کرے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه ببغداد حَدَّثَنَا أحمد بن زهير ابن حَرْب، حَدَّثَنَا موسى بن إسماعيل، حَدَّثَنَا حمّاد بن سَلَمة، حَدَّثَنَا عاصم بن بَهْدلة، عن زِرّ بن حُبَيش، عن ابن مسعود قال: قال رسول الله ﷺ: "عُرِضَت عليَّ الأممُ بالمَوسِم، فرأيت جَمْعَهم، فأعجَبَني كَثرتُهم وهيئتُهم قد مَلَؤوا السهلَ والجبلَ، فقيل: أيْ محمدُ، رضيتَ؟ فأقول: نعم أيْ ربِّ، فقال: إنَّ لك مع هؤلاء سبعين ألفًا يدخلون الجنَّة بغير حسابٍ، وهم الذين لا يَسْتَرقُون ولا يَكتَوُون وعلى ربِّهم يتوكَّلون"، فقام عُكَّاشة بن مِحصَن فقال: يا رسولَ الله، ادعُ الله أن يجعلَني منهم، فدعا له، فقام رجلٌ آخرُ، فقال: يا رسول الله، ادعُ الله أن يجعلَني منهم، فقال: "سَبَقَك إليها عُكّاشةُ" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد من أوجهٍ، ولم يُخرجاه. وليس فيه نهيٌ عن الرُّقَى، لم يُؤثَر (2) التوكلُ عليه، والدليل على ذلك:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8278 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد من أوجهٍ، ولم يُخرجاه. وليس فيه نهيٌ عن الرُّقَى، لم يُؤثَر (2) التوكلُ عليه، والدليل على ذلك:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8278 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”حج کے موسم میں مجھ پر تمام امتیں پیش کی گئیں، میں نے ان کا بڑا اجتماع دیکھا تو ان کی کثرت اور ان کی ہیئت (شان و شوکت) نے مجھے بہت خوش کیا کیونکہ انہوں نے میدان اور پہاڑ بھر دیے تھے۔ مجھ سے پوچھا گیا: اے محمد! کیا آپ راضی ہیں؟ میں نے عرض کی: جی ہاں، اے میرے رب! پھر اللہ نے فرمایا: ان لوگوں کے ساتھ آپ کی امت کے ستر ہزار ایسے لوگ بھی ہیں جو بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے، یہ وہ لوگ ہیں جو نہ دم کرواتے ہیں، نہ داغواتے ہیں (علاج کے لیے آگ سے جلوانا) اور اپنے رب پر توکل کرتے ہیں۔“ یہ سن کر سیدنا عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! اللہ سے دعا کریں کہ وہ مجھے ان میں شامل کر دے، آپ ﷺ نے ان کے لیے دعا فرمائی۔ پھر ایک اور شخص کھڑا ہوا اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! اللہ سے دعا کریں کہ وہ مجھے بھی ان میں شامل کر دے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”عکاشہ تم سے بازی لے گئے۔“
یہ حدیث کئی طرق سے صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اس میں دم (رقیہ) کی ممانعت نہیں ہے بلکہ یہ اس صورت میں ہے جب توکل صرف دم پر ہی کر لیا جائے (یعنی اللہ پر بھروسہ نہ رہے)۔
یہ حدیث کئی طرق سے صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اس میں دم (رقیہ) کی ممانعت نہیں ہے بلکہ یہ اس صورت میں ہے جب توکل صرف دم پر ہی کر لیا جائے (یعنی اللہ پر بھروسہ نہ رہے)۔
ما حدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق وعلي بن حَمْشاذَ؛ قال أبو بكر: أخبرنا، وقال علي: حَدَّثَنَا بِشْر بن موسى، حَدَّثَنَا الحُميدي، عن سفيان، حَدَّثَنَا ابن أبي نَجِيح، عن مجاهد، عن العَقّار بن المغيرة بن شُعْبة، عن أبيه، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "لم يَتوكَّلْ مَن استَرقَى أو اكتَوَى" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8279 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8279 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے دم کروایا یا (علاج کے لیے بدن کو) داغواتا ہے، اس نے (کامل) توکل نہیں کیا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن أيوب، أخبرنا شَيْبان الأُبُلِّي، حَدَّثَنَا جَرير بن حازم، عن سُهَيل بن أبي صالح، عن أبيه، عن أبي هريرة، عن النَّبِيّ ﷺ قال: "مَن قال حين يُمسي: أعوذُ بكلماتِ الله التامّاتِ من شرّ ما خَلَقَ، ثلاثَ مرات، لم تَضرَّه حيّةٌ تلك الليلةَ". قال: وكان إذا لُدِغَ من أهله إنسانٌ قال (2): ما قال الكلماتِ؟! (3)
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8280 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8280 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جس نے شام کے وقت تین مرتبہ یہ کہا: «أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ» (میں اللہ کے مکمل کلمات کی پناہ مانگتا ہوں اس کی مخلوق کے شر سے)، تو اس رات اسے کوئی سانپ نقصان نہیں پہنچائے گا۔“ راوی کہتے ہیں کہ جب سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے گھر والوں میں سے کسی کو (بچھو یا سانپ) ڈس لیتا تو وہ فرماتے: کیا اس نے وہ کلمات نہیں کہے تھے؟!
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حَدَّثَنَا يحيى بن محمد بن يحيى، حَدَّثَنَا مُسدَّد، حَدَّثَنَا مُلازِم بن عمرو. وحدثنا أحمد بن إسحاق الفقيه وأحمد بن جعفر القَطِيعي، قالا: حَدَّثَنَا عبد الله بن أحمد بن حَنبَل، حدثني أَبي، حَدَّثَنَا عليّ بن المَدِيني، حَدَّثَنَا مُلازِم بن عمرو، حَدَّثَنَا عبد الله بن بَدْر، عن قيس بن طَلْق، عن أبيه: أنه لَدغَتْه عقربٌ عند النَّبِيّ ﷺ، فرَقَاه النَّبِيّ ﷺ ومَسحَ بيدِه (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8281 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8281 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
قیس بن طلق اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہیں نبی کریم ﷺ کی موجودگی میں بچھو نے ڈس لیا، تو نبی کریم ﷺ نے ان پر دم کیا اور اپنے دستِ مبارک سے (متاثرہ جگہ کو) مسح فرمایا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔