کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: اگر تم میں چار باتیں ہوں تو دنیا کی چھن جانے والی چیزیں تمہیں نقصان نہیں پہنچائیں گی
حدثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حدثنا بكر بن سهل الدِّمياطي، حدثنا شعيب بن يحيى حدثنا ابن لَهيعة عن الحارث بن يزيد، عن عبد الله بن عمر (1)، عن النبيِّ ﷺ قال: "أربعٌ إذا كان فيك لا يَضرُّك ما فاتك من الدنيا: حفظُ أمانةٍ، وصِدقُ حديثٍ، وحُسْنُ خَليقةٍ، وعِفَّةُ طُعْمة" (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7876 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7876 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اگر تمہارے اندر چار خصلتیں موجود ہوں تو دنیا کی جو چیز تم سے چھوٹ جائے اس کا تمہیں کوئی نقصان نہیں: امانت کی حفاظت، بات کی سچائی، عمدہ اخلاق اور پاکیزہ لقمہ۔“
حدثنا أبو حفص (3) عمر بن محمد بن أحمد الجُمَحي بمكة في منزل أبي بكر الصِّدِّيق، حدثنا علي بن عبد العزيز، حدثنا أحمد بن عيسى المصري [عن عبد الله بن وهب] (4) عن عمرو بن الحارث، عن درَّاج، عن أبي الهيثم، عن أبي سعيد الخُدْري قال: قال رسول الله ﷺ: "لو أنَّ رجلًا عَمِل عملًا في صخرة لا بابَ لها ولا كُوَّةَ، لخرجَ عملُه إلى الناس كائنًا ما كان" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7877 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7877 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر کوئی شخص کسی ایسی چٹان کے اندر کوئی عمل کرے جس کا نہ کوئی دروازہ ہو اور نہ کوئی سوراخ، تب بھی اس کا وہ عمل لوگوں کے سامنے ظاہر ہو کر رہے گا، وہ عمل جیسا بھی ہو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو عمرو عثمان بن أحمد الدَّقّاق بن السَّمّاك ببغداد، حدثنا إبراهيم بن الهيثم البَلَدي، حدثنا الحَكَم بن نافع، حدثنا عُفَير بن مَعْدان، عن سُلَيم (2) بن عامر، عن أبي أُمامة قال: قال رسول الله ﷺ: "إنَّ الله ليُجرِّبُ أحدكم بالبلاء. وهو أعلمُ به - كما يُجرِّبُ أحدُكم ذهبَه بالنار، فمنهم مَن يَخْرُجُ كالذهب الإبرِيز، فذلك الذي نجَّاه الله ﷿ من السيّئات، ومنهم مَن يَخرُجُ كالذهب دون ذلك، فذلك الذي يَشُكُّ بعضَ الشكِّ، ومنهم مَن يَخْرُجُ كالذهب الأسود، فذلك الذي قد افتُتِن" (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7878 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7878 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یقیناً اللہ تعالیٰ تم میں سے کسی کو آزمائش میں ڈال کر اسی طرح پرکھتا ہے —حالانکہ وہ اسے بہتر جانتا ہے— جس طرح تم میں سے کوئی اپنے سونے کو آگ میں تپا کر پرکھتا ہے، چنانچہ ان میں سے کوئی خالص سونے کی طرح (نکھر کر) نکلتا ہے، یہ وہ شخص ہے جسے اللہ عزوجل نے برائیوں سے نجات دے دی، اور کوئی اس سے کم درجے کے سونے کی طرح نکلتا ہے، یہ وہ ہے جو کسی حد تک شک میں مبتلا رہا، اور کوئی سیاہ سونے کی طرح نکلتا ہے، یہ وہ ہے جو فتنے میں پڑ گیا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا محمد بن عبد الله الزاهد، حدثنا أبو بكر بن أبي الدنيا القرشي، حدثنا إسحاق بن كعب، حدثنا عبَّاد بن العوَّام، عن محمد بن عمرو، عن أبي سَلَمة، عن أبي هريرة قال: قال النبيُّ ﷺ: "ما يزالُ البلاءُ بالمؤمنِ والمؤمنةِ في جسدِه ومالِه حتى يَلقَى الله تعالى وما عليه خطيئةٌ" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7879 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7879 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”مومن مرد اور مومنہ عورت پر اس کے جسم اور مال میں آزمائشیں برابر آتی رہتی ہیں یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملتا ہے کہ اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي حدثنا أبو معاوية عن الأعمش، عن عُمارة بن عُمير، عن عبد الرحمن بن يزيد قال قال عبدُ الله: أنتم أكثرُ صلاةً وأكثرُ صيامًا من أصحابِ محمد ﷺ، وهم كانوا خيرًا منكم [قالوا: وبِمَ؟ قال] (2): كانوا أزهدَ منكم في الدنيا، وأرغبَ منكم في الآخرة (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7880 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7880 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
عبدالرحمن بن یزید سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم لوگ صحابہ کرام ﷺ سے زیادہ نمازیں پڑھنے والے اور زیادہ روزے رکھنے والے ہو، حالانکہ وہ تم سے بہتر تھے، لوگوں نے پوچھا: وہ کس وجہ سے؟ انہوں نے فرمایا: وہ تم سے زیادہ دنیا سے بے رغبت اور تم سے کہیں زیادہ آخرت کے طلبگار تھے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو النَّضر الفقيه وأبو الحسن العَنَزي، قالا: حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا عبد الله بن صالح، حدثنا الليث، حدثني يزيد بن أبي حبيب، أنَّ عُليّ بن رَبَاح أخبره، أنه سمع عمرو بن العاص يقول على المنبر: والله ما رأيتُ قومًا قطُّ أرغبَ فيما كان رسول الله ﷺ يزهدُ فيه منكم، تَرغَبون في الدنيا وكان رسول الله ﷺ يزهدُ فيها، والله ما مرَّ برسولِ الله ﷺ ثلاثٌ من الدَّهر إلَّا والذي عليه أكثرُ من الذي له (1).
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7881 - صحيح
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7881 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ منبر پر فرما رہے تھے: اللہ کی قسم! میں نے کبھی ایسی قوم نہیں دیکھی جو ان چیزوں کی اتنی طلبگار ہو جن سے رسول اللہ ﷺ بے رغبتی فرماتے تھے جتنے تم ہو، تم دنیا کی طرف رغبت رکھتے ہو حالانکہ رسول اللہ ﷺ اس سے کنارہ کش رہتے تھے، اللہ کی قسم! رسول اللہ ﷺ پر کبھی تین دن ایسے نہیں گزرے کہ جو کچھ آپ ﷺ کے پاس موجود ہو وہ آپ ﷺ کی ضروریات اور ذمہ داریوں سے زیادہ رہا ہو۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا إسماعيل بن محمد بن الفضل الشَّعراني، حدثنا جدي، حدثنا سعيد بن أبي مريم، حدثنا يحيى بن أيوب، حدثني عبد الله بن جُنَادة المَعَافِرِي، أَنَّ أبا عبد الرحمن الحُبُلي حدَّثه عن عبد الله بن عَمرو، عن النبيِّ ﷺ قال: "الدُّنيا سِجنُ المؤمن وسَنَتُه، فإذا خرج من الدُّنيا فارقَ السِّجنَ والسَّنَةَ" (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7882 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7882 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”دنیا مومن کے لیے قید خانہ اور قحط زدہ جگہ کی مانند ہے، پس جب وہ دنیا سے رخصت ہوتا ہے تو وہ قید خانے اور تنگی سے چھٹکارا پا لیتا ہے۔“
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثني أبو الفضل أحمد (3) بن الحسين القطَّان، حدثنا محمد بن مُقاتِل المَروَزي، حدثنا يوسف بن عطيّة - وكان من أهل السُّنّة - عن ثابت، عن أنس قال: قال رسول الله ﷺ: "يكونُ في آخر الزَّمان عُبَّادٌ جُهَّالٌ، وقُرَّاء فَسَقةٌ" (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7883 - يوسف بن عطية هالك
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7883 - يوسف بن عطية هالك
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آخری زمانے میں جاہل عبادت گزار اور فاسق قراء (قرآن پڑھنے والے) ہوں گے۔“ (یوسف بن عطیہ —جو کہ اہل سنت میں سے تھے— اس کے راوی ہیں)۔