حدیث نمبر: 8079
أخبرنا أبو النَّضر الفقيه وأبو الحسن العَنَزي، قالا: حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا عبد الله بن صالح، حدثنا الليث، حدثني يزيد بن أبي حبيب، أنَّ عُليّ بن رَبَاح أخبره، أنه سمع عمرو بن العاص يقول على المنبر: والله ما رأيتُ قومًا قطُّ أرغبَ فيما كان رسول الله ﷺ يزهدُ فيه منكم، تَرغَبون في الدنيا وكان رسول الله ﷺ يزهدُ فيها، والله ما مرَّ برسولِ الله ﷺ ثلاثٌ من الدَّهر إلَّا والذي عليه أكثرُ من الذي له (1).
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7881 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ منبر پر فرما رہے تھے: اللہ کی قسم! میں نے کبھی ایسی قوم نہیں دیکھی جو ان چیزوں کی اتنی طلبگار ہو جن سے رسول اللہ ﷺ بے رغبتی فرماتے تھے جتنے تم ہو، تم دنیا کی طرف رغبت رکھتے ہو حالانکہ رسول اللہ ﷺ اس سے کنارہ کش رہتے تھے، اللہ کی قسم! رسول اللہ ﷺ پر کبھی تین دن ایسے نہیں گزرے کہ جو کچھ آپ ﷺ کے پاس موجود ہو وہ آپ ﷺ کی ضروریات اور ذمہ داریوں سے زیادہ رہا ہو۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الرقاق / حدیث: 8079
درجۂ حدیث محدثین: خبر صحيح
تخریج حدیث «خبر صحيح، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل عبد الله بن صالح» [ترقيم الرساله 8079] [ترقيم الشركة 7980] [ترقيم العلميه 7881]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) خبر صحيح، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل عبد الله بن صالح - وهو المصري، كاتب الليث - وقد توبع.
درجۂ حدیث: یہ خبر صحیح ہے، اور یہ سند متابعات اور شواہد کی بنا پر ’حسن‘ ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اس میں عبد اللہ بن صالح (مصری، جو لیث کے کاتب ہیں) موجود ہیں، اور ان کی متابعت کی گئی ہے۔
وأخرجه أحمد 29/ (17817) عن يحيى بن إسحاق، عن الليث بن سعد، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (29/ 17817) نے یحییٰ بن اسحاق سے، انہوں نے لیث بن سعد سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وسيأتي مختصرًا برقم (8125) من طريق موسى بن علي عن أبيه علي.
اہم نکتہ: یہ حدیث آگے نمبر (8125) پر مختصراً موسیٰ بن علی کے طریق سے آئے گی جو اپنے والد علی (بن رباح) سے روایت کرتے ہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8079 سے ماخوذ ہے۔