حدثنا أبو بكر محمد بن جعفر الأَدَمي القارئ ببغداد، حدثنا أبو جعفر أحمد بن عُبيد بن ناصح، حدثنا خالد بن عمرو القُرشي، حدثنا سفيان الثَّوري، عن أبي حازم، عن سَهْل بن سعد: أن النبيَّ ﷺ وَعَظَ رجلًا فقال: "ارْهَدْ في الدنيا يُحبّك الله ﷿، وازهَدْ فيما في أيدي الناسِ يُحبَّك الناسُ" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7873 - خالد بن عمرو القرشي وضاع
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7873 - خالد بن عمرو القرشي وضاع
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک شخص کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: ”دنیا سے بے رغبتی اختیار کرو، اللہ تم سے محبت فرمائے گا، اور جو کچھ لوگوں کے پاس ہے اس سے بے نیازی اختیار کرو، تو لوگ تم سے محبت کرنے لگیں گے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني إبراهيم بن عِصْمة بن إبراهيم العَدْل، حدثنا أبي، حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا إبراهيم بن سعد، عن ابن شهاب، عن محمد بن عبد الرحمن بن ماعز العامري، عن سفيان بن عبد الله الثَّقفي قال: قلتُ: يا رسول الله، حدِّثني بأمرٍ أعتَصِم به، قال: "قل: ربِّيَ اللهُ، ثم استقم قال: قلت: يا رسولَ الله، ما أكثرُ ما أخافُ عليَّ؟ قال: فأخذ بلسان نفسه ثم قال: "هذا" (1)
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7874 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7874 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سفیان بن عبداللہ ثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! مجھے کوئی ایسی بات ارشاد فرمائیے جسے میں (مضبوطی سے) تھام لوں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم کہو: میرا رب اللہ ہے، پھر اس پر ثابت قدم رہو“، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ کو میرے بارے میں سب سے زیادہ کس چیز کا ڈر ہے؟ تو آپ ﷺ نے اپنی زبان مبارک کو پکڑ کر فرمایا: ”اس کا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن غالب، حدثنا إسحاق بن عبد الواحد القُرشي، حدثنا هُشَيم، عن عبد الرحمن بن إسحاق، عن مُحارِب بن دِثار، عن صِلَة بن زُفَر، عن حُذيفة قال: قال رسول الله ﷺ: "النَّظَرةُ سهمٌ من سِهام إبليسَ مسمومةٌ، فمن تَرَكَها من خوفِ [الله] (1) أثابه جل وعزَّ إيمانًا يَجِدُ حلاوتَه في قلبِه" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”(غیر محرم پر) نظر ڈالنا ابلیس کے زہریلے تیروں میں سے ایک تیر ہے، پس جو شخص اللہ کے خوف سے اسے ترک کر دے گا، اللہ عزوجل اسے (بدلے میں) ایسا ایمان عطا فرمائے گا جس کی حلاوت وہ اپنے دل میں محسوس کرے گا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔