حدثنا أبو بكر محمد بن عبد الله بن عتَّاب العَبْدي، حدثنا أبو قِلَابة عبد الملك بن محمد، حدثنا سعيد بن عامر حدثنا شُبَيل بن عَزْرة، قال: انطَلَقْنا بقَتَادة نقودُه إلى أنس ونحن غِلمةٌ، فدخلنا عليه، قال: ما أحسنَ هذا! ثم تكلَّم بكلام يُرغِّبُهم في طلب العلم، قال: فحدَّثَنا يومئذٍ أَنَّ رسولَ الله ﷺ قال: "مَثَلُ الجليسِ الصالح مَثَلُ العطَّار، إن لم يُعطِكَ من عِطْرِه - أو قال: إن لم تُصِبْ من عطرِه - أصابَك من ريحِه" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7749 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7749 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”نیک ہمنشین کی مثال عطر فروش جیسی ہے، اگر وہ تمہیں اپنا عطر نہ بھی دے - یا فرمایا: اگر تم اس کا عطر نہ بھی پا سکو - تب بھی اس کی خوشبو تم تک ضرور پہنچے گی۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا جعفر بن محمد بن نصير الخُلدي، حدثنا يحيى بن أيوب العلَّاف بمصر، حدثنا سعيد بن أبي مريم، حدثنا يحيى بن أيوب، حدثني حُمَيد الطويل، قال: سمعتُ أنس بن مالك يقول: كان رسولُ الله ﷺ إِذا مَشَى كأَنَّه يتوكَّأ (2). قال ابن أبي مريم: وأخبرنا غيرُ ابن أيوب بالحديث فقال: كأنه يتكفَّأ.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7750 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7750 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب چلتے تھے تو یوں محسوس ہوتا تھا جیسے آپ ﷺ (وقار کے ساتھ) آگے کی طرف جھک کر چل رہے ہیں۔ ابن ابی مریم کی ایک روایت میں اس کے لیے «يتكفَّأ» (جیسے سمندر میں کشتی لہراتی ہوئی چلتی ہے) کا لفظ آیا ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا بكر بن محمد الصَّيرَفي بمَرْو، حدثنا أبو قِلابة، حدثنا قُريش بن أنس، حدثنا أشعثُ، عن الحسن، عن سَمُرة، عن النبيِّ ﷺ: أَنه نَهَى أَن يُقَدَّ السَّيرُ بين إصبعَينِ (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7751 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7751 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا کہ چمڑے کا تسمہ دو انگلیوں کے درمیان رکھ کر کاٹا جائے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا علي بن محمد بن عُقبة الشَّيباني، حدثنا محمد بن علي بن عفّان، حدثنا قبيصة بن عُقبة، حدثنا سفيان، عن الأسود بن قيس، عن نُبَيح (1) العَنَزَي، عن جابر بن عبد الله قال: كان رسولُ الله ﷺ إذا خرجَ من بيته مَشَيْنا قُدَّامَه، وتَرَكْنا خلفَه للملائكة (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7752 - قال الذهبي صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7752 - قال الذهبي صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ (گھر سے) باہر تشریف لاتے تو ہم آپ ﷺ کے آگے چلتے تھے اور آپ ﷺ کے پیچھے والا حصہ فرشتوں کے لیے چھوڑ دیتے تھے۔
حدَّثَناه أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا خالد بن الحارث، حدثنا شُعْبة، عن الأسوَد بن قيس، عن نُبَيح العنزي، عن جابر بن عبد الله قال: قال رسول الله ﷺ: "لا تَمشُوا بين يديَّ ولا خَلْفي، فإن هذا مَقامُ الملائكة". قال جابر: جئتُ أسعى إلى النبيِّ ﷺ كأَنِّي شَرَارة (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7753 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7753 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میرے آگے یا میرے بالکل پیچھے مت چلو، کیونکہ یہ فرشتوں کا مقام ہے۔“ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نبی کریم ﷺ کی طرف اس تیزی سے دوڑ کر آتا تھا جیسے کوئی چنگاری اڑتی ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو عبد الله الشَّيباني، حدثنا يحيى بن محمد الذُّهلي، حدثنا مُسدَّد، حدثنا خالد بن الحارث، حدثنا شُعبة، عن قَتَادة عن أبي مِجْلَز، قال: رأى حذيفةُ إنسانًا قاعدًا وَسَطَ حَلْقة، قال: لعنَ رسولُ الله ﷺ مَن قَعَدَ وَسَطَ حَلْقة (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7754 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7754 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
ابومجلز سے روایت ہے کہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو حلقے کے درمیان بیٹھے ہوئے دیکھا تو فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے اس شخص پر لعنت فرمائی ہے جو حلقے کے عین درمیان میں بیٹھے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا إسماعيل ابن عُليَّة، عن داود بن أبي هِند، عن الشَّعْبي، حدثنا أبو جَبِيرة بن الضحَّاك، قال: فينا نزلت في بني سَلِمةَ ﴿وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ﴾ [الحجرات: 11] قال: قَدِمَ رسول الله ﷺ وليس منَّا رجلٌ إِلَّا وله اسمانِ أو ثلاثة، قال: فكان يُدعَى الرجلُ فيقولون: مَهْ مَهْ مَهْ، إنه يَغضبُ من هذا، فنزلت ﴿وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ﴾ (1). صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7755 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7755 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
ابوجبیرہ بن ضحاک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آیت ﴿وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ﴾ [سورة الحجرات: 11] ہمارے قبیلہ بنو سلمہ کے بارے میں نازل ہوئی؛ وہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ (مدینہ) تشریف لائے تو ہم میں سے ہر شخص کے دو یا تین نام تھے، جب کسی شخص کو اس کے ایک نام سے پکارا جاتا تو لوگ کہتے: رک جائیے! اسے یہ نام برا لگتا ہے اور وہ اس پر غصہ ہوتا ہے، تب یہ آیت نازل ہوئی کہ ”تم ایک دوسرے کو برے القاب سے نہ پکارو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔