کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: لوگوں کے اس قول "میں آپ پر فدا ہوں" اور اس جیسے دیگر کلمات کہنے کا جواز
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بكَّار بن قُتيبة القاضي، حدثنا صفوان بن عيسى، أخبرنا أُنيس بن أبي يحيى، عن أبيه، عن أبي سعيد الخُدْري قال: خرج إلينا رسولُ الله ﷺ في مرضِه الذي ماتَ فيه وهو مُعصَّبُ الرأس، قال: فاتّبعتُه حتى صَعِدَ المِنْبر، قال: فقال: "إِنِّي الساعةَ لَقائمٌ على الحَوْض"، ثم قال: "إنَّ عبدًا عُرِضَتْ عليه الدنيا وزِينتُها، فاختارَ الآخرةَ"، فلم يَفطَنْ في القوم لذلك أحدٌ إلَّا أبو بكر، فقال: بأبي أنت وأمي، بل نَفدِيكَ بأنفسِنا وأولادِنا وأموالِنا وموالِينا. قال: ثمَّ هَبَطَ من المنبر، فما رُئيَ حتى الساعةِ (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين والغَرضُ في إخراجه في هذا الكتاب إباحة قول الناس بعضهم لبعض: نفسي ومالي لك الفداءُ، أو جُعِلتُ فِداك، أو فَديتُك، وما يشبهه. وشاهدُ هذا الحديث:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7756 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين والغَرضُ في إخراجه في هذا الكتاب إباحة قول الناس بعضهم لبعض: نفسي ومالي لك الفداءُ، أو جُعِلتُ فِداك، أو فَديتُك، وما يشبهه. وشاهدُ هذا الحديث:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7756 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنے اس مرض کے دوران جس میں آپ ﷺ کی وفات ہوئی، باہر تشریف لائے جبکہ آپ ﷺ کے سر پر پٹی بندھی ہوئی تھی، میں آپ ﷺ کے پیچھے پیچھے چلا یہاں تک کہ آپ ﷺ منبر پر رونق افروز ہوئے اور فرمایا: ”میں اس وقت حوضِ کوثر پر کھڑا (تمہارا انتظار کر رہا) ہوں“، پھر فرمایا: ”ایک بندے کے سامنے دنیا اور اس کی زینت پیش کی گئی مگر اس نے آخرت کو منتخب کر لیا“، لوگوں میں سے کسی نے بھی اس بات کی گہرائی کو نہ سمجھا سوائے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے، انہوں نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، بلکہ ہم اپنی جانیں، اولاد، مال اور اپنے متعلقین آپ پر فدا کر دیں گے، پھر آپ ﷺ منبر سے نیچے تشریف لے آئے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے اور اسے یہاں لانے کا مقصد یہ بتانا ہے کہ ایک دوسرے کو یہ کہنا جائز ہے کہ ”میں آپ پر فدا ہوں“ یا «جعلت فداك»۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے اور اسے یہاں لانے کا مقصد یہ بتانا ہے کہ ایک دوسرے کو یہ کہنا جائز ہے کہ ”میں آپ پر فدا ہوں“ یا «جعلت فداك»۔
ما حدَّثَناه أبو العباس السَّيَّاري، حدثنا محمد بن موسى بن حاتم الباشاني، حدثنا علي بن الحسن بن شَقيق، حدثنا الحسين بن واقد، حدثني عبد الله بن بُرَيدة قال: سمعتُ أَبي بريدة (1) يقول: كنتُ في المسجد وأبو موسى الأشعري يقرأُ، فخرجَ رسولُ الله ﷺ فقال: "مَن هذا؟ " فقلتُ: أنا بُرَيدةُ، جُعِلتُ لك الفِداءَ يا نبيَّ الله، قال: "لقد أُعطِيَ هذا من مَزاميرِ آلِ داود" (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السَّياقة. ومن ذلك:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7757 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السَّياقة. ومن ذلك:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7757 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں مسجد میں تھا اور ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ تلاوت کر رہے تھے، رسول اللہ ﷺ باہر تشریف لائے اور پوچھا: ”یہ کون ہے؟“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! میں بریدہ ہوں، میں آپ پر قربان ہو جاؤں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس شخص کو آلِ داؤد کی خوش الحانی (مزامیر) میں سے حصہ عطا کیا گیا ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔
ما حدَّثَناه أبو عبد الله الصَّفَّار، حدثنا أحمد بن يونس الضَّبِّي، حدثنا محمد بن عُبيد الطَّنَافسي، حدثنا يونس بن أبي إسحاق، عن هِلال بن خبَّاب، عن عِكْرمة، عن عبد الله بن عمرو قال: كُنَّا نحن حولَ رسول الله ﷺ جلوسًا، إذ ذَكَر الفتنةَ - أو ذُكرَتْ عندَه - فقال رسول الله ﷺ: "إذا رأيتَ الناسَ قد مَرِجَتْ عهودُهم، وخفَّتْ أماناتُهم، وكانوا هكذا" وشبَّك بين أناملِه، فقمتُ إليه، فقلتُ: كيف أفعلُ يا رسولَ الله، جعلني الله فِدَاك؟ قال: "الزَمْ بيتَك، واملِكْ عليك لسانَك، وخُذْ ما تَعرِفُ، ودَعْ ما تُنكِرُ، وعليك بخاصَّة أمر نفسك، ودَعْ عنك أمرَ العامَّة" (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7758 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7758 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، ہم رسول اللہ ﷺ کے گرد بیٹھے تھے کہ فتنوں کا ذکر ہوا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم لوگوں کو دیکھو کہ ان کے عہد و پیمان بگڑ گئے ہیں، ان کی امانتیں ہلکی ہو گئی ہیں اور وہ ایسے ہو گئے ہیں“ (اور آپ ﷺ نے اپنی انگلیوں کو ایک دوسرے میں پیوست کیا)۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میں کیا کروں، اللہ مجھے آپ پر فدا کرے؟ فرمایا: ”اپنے گھر کو لازم پکڑو، اپنی زبان پر قابو رکھو، جو معروف ہو اسے لے لو، جو منکر ہو اسے چھوڑ دو، اپنے خاص معاملے کی فکر کرو اور عام لوگوں کے معاملے کو چھوڑ دو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔