المستدرك على الصحيحين
كتاب الأدب— ادب کے بارے میں روایات
مَثَلُ الْجَلِيسِ الصَّالِحِ مَثَلُ الْعَطَّارِ . باب: نیک ہمنشین کی مثال عطر فروش جیسی ہے
حدیث نمبر: 7948
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا إسماعيل ابن عُليَّة، عن داود بن أبي هِند، عن الشَّعْبي، حدثنا أبو جَبِيرة بن الضحَّاك، قال: فينا نزلت في بني سَلِمةَ ﴿وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ﴾ [الحجرات: 11] قال: قَدِمَ رسول الله ﷺ وليس منَّا رجلٌ إِلَّا وله اسمانِ أو ثلاثة، قال: فكان يُدعَى الرجلُ فيقولون: مَهْ مَهْ مَهْ، إنه يَغضبُ من هذا، فنزلت ﴿وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ﴾ (1). صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7755 - صحيححافظ طلحہ بابر
ابوجبیرہ بن ضحاک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آیت ﴿وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ﴾ [سورة الحجرات: 11] ہمارے قبیلہ بنو سلمہ کے بارے میں نازل ہوئی؛ وہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ (مدینہ) تشریف لائے تو ہم میں سے ہر شخص کے دو یا تین نام تھے، جب کسی شخص کو اس کے ایک نام سے پکارا جاتا تو لوگ کہتے: رک جائیے! اسے یہ نام برا لگتا ہے اور وہ اس پر غصہ ہوتا ہے، تب یہ آیت نازل ہوئی کہ ”تم ایک دوسرے کو برے القاب سے نہ پکارو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح إن صحَّت لأبي جَبيرة صحبة، فإنه قد اختلف في صحبته.
درجۂ حدیث: اگر ابو جبیرہ رضی اللہ عنہ کی صحابیت ثابت ہو جائے تو یہ سند صحیح ہے، کیونکہ ان کی صحابیت کے بارے میں (علماء کے درمیان) اختلاف پایا جاتا ہے۔
وأخرجه أحمد 30/ (18288) عن إسماعيل ابن علية، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے 30/ (18288) میں اسماعیل ابن علیہ کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وسلف برقم (3766).
نوٹ / توضیح: یہ روایت پہلے حدیث نمبر (3766) کے تحت گزر چکی ہے۔
درجۂ حدیث: اگر ابو جبیرہ رضی اللہ عنہ کی صحابیت ثابت ہو جائے تو یہ سند صحیح ہے، کیونکہ ان کی صحابیت کے بارے میں (علماء کے درمیان) اختلاف پایا جاتا ہے۔
وأخرجه أحمد 30/ (18288) عن إسماعيل ابن علية، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے 30/ (18288) میں اسماعیل ابن علیہ کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وسلف برقم (3766).
نوٹ / توضیح: یہ روایت پہلے حدیث نمبر (3766) کے تحت گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7948 سے ماخوذ ہے۔