المستدرك على الصحيحين
كتاب الأدب— ادب کے بارے میں روایات
مَثَلُ الْجَلِيسِ الصَّالِحِ مَثَلُ الْعَطَّارِ . باب: نیک ہمنشین کی مثال عطر فروش جیسی ہے
حدیث نمبر: 7947
حدثنا أبو عبد الله الشَّيباني، حدثنا يحيى بن محمد الذُّهلي، حدثنا مُسدَّد، حدثنا خالد بن الحارث، حدثنا شُعبة، عن قَتَادة عن أبي مِجْلَز، قال: رأى حذيفةُ إنسانًا قاعدًا وَسَطَ حَلْقة، قال: لعنَ رسولُ الله ﷺ مَن قَعَدَ وَسَطَ حَلْقة (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7754 - على شرط البخاري ومسلمحافظ طلحہ بابر
ابومجلز سے روایت ہے کہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو حلقے کے درمیان بیٹھے ہوئے دیکھا تو فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے اس شخص پر لعنت فرمائی ہے جو حلقے کے عین درمیان میں بیٹھے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده ضعيف لانقطاعه، أبو مجلز - واسمه لاحق بن حميد - لم يدرك حذيفة كما قال شعبة عقب الحديث في رواية أحمد (23376).
درجۂ حدیث: اس کی سند منقطع ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ابو مجلز (جن کا نام لاحق بن حمید ہے) نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا، جیسا کہ امام شعبہ بن الحجاج نے امام احمد کی روایت (23376) میں اس حدیث کے فوراً بعد صراحت کی ہے۔
وأخرجه أحمد 38 (23263) و (23376) و (23406)، والترمذي (2753) من طرق عن شعبة، بهذا الإسناد. وقال الترمذي: حسن صحيح.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے 38/ (23263، 23376، 23406) اور امام ترمذی نے (2753) میں شعبہ بن الحجاج کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: امام ترمذی نے اسے "حسن صحیح" قرار دیا ہے۔
وأخرجه أبو داود (4826) من طريق أبان بن يزيد العطار، عن قتادة به.
حوالہ / مصدر: اسے امام ابو داؤد (4826) نے ابان بن یزید العطار عن قتادہ کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند منقطع ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ابو مجلز (جن کا نام لاحق بن حمید ہے) نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا، جیسا کہ امام شعبہ بن الحجاج نے امام احمد کی روایت (23376) میں اس حدیث کے فوراً بعد صراحت کی ہے۔
وأخرجه أحمد 38 (23263) و (23376) و (23406)، والترمذي (2753) من طرق عن شعبة، بهذا الإسناد. وقال الترمذي: حسن صحيح.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے 38/ (23263، 23376، 23406) اور امام ترمذی نے (2753) میں شعبہ بن الحجاج کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: امام ترمذی نے اسے "حسن صحیح" قرار دیا ہے۔
وأخرجه أبو داود (4826) من طريق أبان بن يزيد العطار، عن قتادة به.
حوالہ / مصدر: اسے امام ابو داؤد (4826) نے ابان بن یزید العطار عن قتادہ کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7947 سے ماخوذ ہے۔