کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: وہ گوشت جنت میں داخل نہیں ہوگا جو حرام مال سے پلا بڑھا ہو
أخبرنا أبو جعفر محمد بن محمد البغدادي، حدثنا أبو زُرْعة عبدُ الرحمن بن عمرو الدمشقي ..... [حدثنا سعيد بن بَشير] (2) عن قَتَادة، عن الحسن، عن عبد الرحمن بن سَمُرة قال: قال النبيُّ ﷺ: "أعاذَكَ اللهُ من أُمراءَ يكونون بعدي" قال: وما هم يا رسولَ الله؟ قال: "مَن دخلَ عليهم فصدَّقهم وأعانَهم على جَوْرِهم، فليس منِّي، ولا يَرِدُ عليَّ الحوضَ، اعلَمْ يا عبدَ الرحمن أن الصِّيامَ جُنَّة، والصلاةَ بُرْهان، يا عبدَ الرحمن، إنَّ الله أَبَى عليَّ أن يدخل الجنة لحمٌ نَبَتَ من سُحْتٍ، النارُ أَولَى به" (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وشاهدُه حديثُ جابر:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7162 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وشاهدُه حديثُ جابر:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7162 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبد الرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اے عبد الرحمن! اللہ تمہیں ان حکمرانوں سے اپنی پناہ میں رکھے جو میرے بعد ہوں گے“، انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ کون لوگ ہوں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص ان کے پاس جائے گا، ان کے جھوٹ کی تصدیق کرے گا اور ان کے ظلم پر ان کی مدد کرے گا، اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی وہ میرے حوض پر آئے گا؛ اے عبد الرحمن! جان لو کہ روزہ ڈھال ہے اور نماز دلیل ہے؛ اے عبد الرحمن! اللہ تعالیٰ نے مجھ پر حرام کر دیا ہے کہ وہ گوشت جنت میں داخل ہو جو حرام مال سے پلا بڑھا ہو، آگ ہی اس کے زیادہ لائق ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کا شاہد حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کا شاہد حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے۔
أخبرَناه أبو عبد الله محمد بن علي الصنعاني بمكة، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن ابن خُثَيم، عن عبد الرحمن بن سابط، عن جابر بن عبد الله، أن النبيَّ ﷺ قال: "أعاذَكَ الله يا كعبَ بنَ عُجْرة من إمارة السُّفهاء" قال: وما إمارةُ السُّفهاء؟ قال: "أُمراءُ يكونون بعدي، لا يَقتَدُون بهُدايَ، ولا يستنُّون بسُنَّتي، فمن صدَّقهم بكذبِهم، وأعانهم على ظُلمِهم، فأولئك ليسوا مِنِّي ولستُ منهم، ولا يَرِدُون عليَّ حوضي، ومن لم يصدِّقْهم على كذبِهم، ولم يُعِنهم على ظلمهم، فأولئك مِنِّي وأنا منهم، وسيَرِدُون عليَّ حوضي، يا كعبَ بنَ عُجْرة، إنه لا يدخلُ الجنَّة لحمٌ نَبَتَ من سُحتٍ، النارُ أَولى به، يا كعبَ بن عُجرة، الصومُ جُنَّة، والصدقة تُطفئ الخطيئةَ، والصلاةُ قُرْبان - أو قال: بُرهان - " (1). وقد رُوي قوله ﷺ: "لحمٌ نبتَ من سُحتٍ" عن أبي بكرٍ وعمرَ ﵄. أما حديثُ أبي بكر:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7163 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7163 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اے کعب بن عجرہ! اللہ تمہیں بیوقوفوں کی حکمرانی سے اپنی پناہ میں رکھے“، انہوں نے عرض کیا: بیوقوفوں کی حکمرانی سے کیا مراد ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرے بعد ایسے حکمران ہوں گے جو نہ میری ہدایت کی پیروی کریں گے اور نہ میری سنت پر چلیں گے، پس جس نے ان کے جھوٹ میں ان کی تصدیق کی اور ان کے ظلم پر ان کی مدد کی، تو ایسے لوگ نہ مجھ سے ہیں اور نہ میں ان سے ہوں، اور وہ میرے حوض پر نہیں آئیں گے، اور جس نے ان کے جھوٹ میں ان کی تصدیق نہیں کی اور نہ ان کے ظلم پر ان کی مدد کی، تو ایسے لوگ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں، اور وہ میرے حوض پر آئیں گے؛ اے کعب بن عجرہ! وہ گوشت جنت میں داخل نہیں ہوگا جو حرام مال (سحت) سے پلا بڑھا ہو، آگ ہی اس کے زیادہ لائق ہے؛ اے کعب بن عجرہ! روزہ ڈھال ہے، صدقہ گناہ کو مٹا دیتا ہے اور نماز قرب الہی کا ذریعہ ہے، یا آپ ﷺ نے فرمایا: (نماز) دلیل و برہان ہے۔“ نیز نبی کریم ﷺ کا یہ فرمان کہ ”حرام مال سے پلا بڑھا گوشت (آگ کا مستحق ہے)“ سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما سے بھی مروی ہے۔
فحدَّثَناه أبو عمرو بن السَّمَّاك، حدثنا جعفر بن محمد بن شاكر، حدثنا قُرّة بن حبيب، حدثنا عبد الواحد بن زيد، عن أسلم الكوفي، عن مُرَّة الطيِّب، عن أبي بكر الصديق، عن النبيِّ ﷺ قال: "مَن نبتَ لحمُه من السُّحْت، فالنارُ أَولى به" (2). وأما حديثُ عمر:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7164 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7164 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جس کا گوشت حرام مال سے پلا بڑھا ہو، اس کے لیے آگ ہی زیادہ مستحق ہے“۔
فأخبرَناه عبد الله بن جعفر بن دَرَستَويهِ، حدثنا يعقوب بن سفيان، حدثنا عبد العزيز بن عبد الله الأُوَيسي، أخبرنا يزيد بن عبد الملك، عن يزيد بن خُصَيفة (1)، عن السائب بن يزيد، عن عمر بن الخطّاب قال (2): من نبتَ لحمُه من السُّحْت، فإلى النار (3).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جس کا گوشت حرام مال سے پلا بڑھا ہو، اس کا ٹھکانا آگ ہے۔
حدثنا علي بن حَمْشاذَ العدل، حدثنا الحسن بن سهل المجوِّز، حدثنا أبو عاصم، عن ابن جُريج، قال: قال سليمان بن موسى: حدثني وقَّاص بن ربيعة، عن المُستورِد بن شدَّاد أخي بني فَهْم، أخبره قال: قال رسول الله ﷺ: "من أكلَ بمسلمٍ أَكْلةً، أطعَمَه الله بها أكلةً من نار جهنمَ يوم القيامة، ومن أقام بمسلمٍ مُقامَ سُمْعَةٍ، أقامَه الله يوم القيامة مُقَامَ سُمعةٍ ورِياءٍ، ومن اكتَسَى بمسلم ثوبًا، كَسَاه الله ثوبًا من نار يومَ القيامة" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7166 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7166 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس شخص نے کسی مسلمان (کی آبرو ریزی یا نقصان) کے بدلے میں ایک لقمہ بھی کھایا، اللہ اسے قیامت کے دن جہنم کی آگ کا لقمہ کھلائے گا، اور جس نے کسی مسلمان کے ذریعے شہرت و ناموری کا مقام حاصل کیا (یعنی اسے اپنی واہ واہ کا ذریعہ بنایا)، اللہ قیامت کے دن اسے شہرت اور ریاکاری کے (ذلت آمیز) مقام پر کھڑا کرے گا، اور جس نے کسی مسلمان کے بدلے میں (اسے نقصان پہنچا کر) کوئی لباس پہنا، اللہ اسے قیامت کے دن آگ کا لباس پہنائے گا“۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الرَّبيع بن سليمان، حدثنا شعيب بن الليث بن سعد، حدثنا الليث، حدثني محمد بن عَجْلان، عن سعيد بن أبي سعيد المَقبُري، عن أبي هريرة، عن رسول الله ﷺ: أنه كان يقولُ على المنبر: "أُحرِّجُ مالَ الضَّعيفَين: اليتيمِ والمرأةِ" (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7167 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7167 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ منبر پر یہ فرمایا کرتے تھے: ”میں دو کمزوروں یعنی یتیم اور عورت کے مال (اور ان کے حقوق) کو تلف کرنے کو گناہ اور تنگی کا باعث قرار دیتا ہوں“۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني إسماعيل بن محمد بن الفضل بن محمد الشَّعْراني، حدثنا جدّي، حدثنا إبراهيم بن حمزة، حدثنا عبد العزيز بن [أبي] (3) حازم، عن عبد الرحمن بن حَرْملة، عن عبد الله بن نِيَار الأسلمي، عن عُرْوة بن الزُّبير، قال: سمعتُ عائشة تقول: أهدَتْ أمُّ سُنبُلةَ لرسول الله ﷺ لبنًا، فدخلَتْ عليَّ به فلم تَجِدْه، فقلت لها: إنَّ رسول الله ﷺ نهانا أن نأكلَ طعامَ الأعراب، فدخل رسولُ الله ﷺ وأبو بكر فقال: "يا أمَّ سُنبُلةَ، ما هذا معك؟ " فقالت: يا رسولَ الله، لبنٌ أهديتُه لك، قال: "اسكُبي يا أمَّ سُنبُلة" فناوَلَ أبا بكر، ثم قال: "اسكُبي يا أمَّ سُنبُلة" فتناوَلَ رسولُ الله ﷺ، فشرب، قالت: فقلتُ: يا بردَها على الكَبِدِ يا رسولَ الله، حدثتَنا عن طعامِ الأعراب! فقال: "يا عائشُ، إنهم ليسوا بأعرابٍ، هم أهلُ باديَتِنا، ونحن حاضِرتُهم، وإذا دُعُوا أجابوا، فليسوا بأعرابٍ" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7168 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7168 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ام سنبلہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ ﷺ کے لیے دودھ کا تحفہ بھیجا اور وہ اسے لے کر میرے پاس آئیں لیکن آپ ﷺ موجود نہ تھے، تو میں نے ان سے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں دیہاتیوں (اجڈ بدوؤں) کا کھانا کھانے سے منع فرمایا ہے، پھر رسول اللہ ﷺ اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ام سنبلہ! تمہارے پاس یہ کیا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ دودھ ہے جو میں آپ کے لیے ہدیہ لائی ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ام سنبلہ! اسے پیالے میں ڈالو“، آپ ﷺ نے سیدنا ابوبکر کو دیا، پھر فرمایا: ”اے ام سنبلہ! اسے ڈالو“، پھر رسول اللہ ﷺ نے اسے پکڑا اور نوش فرمایا، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ تو جگر کو ٹھنڈک پہنچانے والا ہے، لیکن آپ نے تو ہمیں دیہاتیوں کے کھانے کے متعلق (ممانعت) بتائی تھی! تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے عائشہ! یہ دیہاتی (جاہل بدو) نہیں ہیں بلکہ یہ ہمارے دیہی علاقوں کے رہنے والے ہیں اور ہم ان کے شہری ہیں، جب انہیں بلایا جاتا ہے تو وہ لبیک کہتے ہیں، اس لیے یہ (مذموم) دیہاتیوں میں شامل نہیں ہیں“۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔