المستدرك على الصحيحين
كتاب الأطعمة— کھانے کا بیان
لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ لَحْمٌ نَبَتَ مِنْ سُحْتٍ باب: وہ گوشت جنت میں داخل نہیں ہوگا جو حرام مال سے پلا بڑھا ہو
أخبرَناه أبو عبد الله محمد بن علي الصنعاني بمكة، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن ابن خُثَيم، عن عبد الرحمن بن سابط، عن جابر بن عبد الله، أن النبيَّ ﷺ قال: "أعاذَكَ الله يا كعبَ بنَ عُجْرة من إمارة السُّفهاء" قال: وما إمارةُ السُّفهاء؟ قال: "أُمراءُ يكونون بعدي، لا يَقتَدُون بهُدايَ، ولا يستنُّون بسُنَّتي، فمن صدَّقهم بكذبِهم، وأعانهم على ظُلمِهم، فأولئك ليسوا مِنِّي ولستُ منهم، ولا يَرِدُون عليَّ حوضي، ومن لم يصدِّقْهم على كذبِهم، ولم يُعِنهم على ظلمهم، فأولئك مِنِّي وأنا منهم، وسيَرِدُون عليَّ حوضي، يا كعبَ بنَ عُجْرة، إنه لا يدخلُ الجنَّة لحمٌ نَبَتَ من سُحتٍ، النارُ أَولى به، يا كعبَ بن عُجرة، الصومُ جُنَّة، والصدقة تُطفئ الخطيئةَ، والصلاةُ قُرْبان - أو قال: بُرهان - " (1). وقد رُوي قوله ﷺ: "لحمٌ نبتَ من سُحتٍ" عن أبي بكرٍ وعمرَ ﵄. أما حديثُ أبي بكر:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7163 - سكت عنه الذهبي في التلخيصسیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اے کعب بن عجرہ! اللہ تمہیں بیوقوفوں کی حکمرانی سے اپنی پناہ میں رکھے“، انہوں نے عرض کیا: بیوقوفوں کی حکمرانی سے کیا مراد ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرے بعد ایسے حکمران ہوں گے جو نہ میری ہدایت کی پیروی کریں گے اور نہ میری سنت پر چلیں گے، پس جس نے ان کے جھوٹ میں ان کی تصدیق کی اور ان کے ظلم پر ان کی مدد کی، تو ایسے لوگ نہ مجھ سے ہیں اور نہ میں ان سے ہوں، اور وہ میرے حوض پر نہیں آئیں گے، اور جس نے ان کے جھوٹ میں ان کی تصدیق نہیں کی اور نہ ان کے ظلم پر ان کی مدد کی، تو ایسے لوگ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں، اور وہ میرے حوض پر آئیں گے؛ اے کعب بن عجرہ! وہ گوشت جنت میں داخل نہیں ہوگا جو حرام مال (سحت) سے پلا بڑھا ہو، آگ ہی اس کے زیادہ لائق ہے؛ اے کعب بن عجرہ! روزہ ڈھال ہے، صدقہ گناہ کو مٹا دیتا ہے اور نماز قرب الہی کا ذریعہ ہے، یا آپ ﷺ نے فرمایا: (نماز) دلیل و برہان ہے۔“ نیز نبی کریم ﷺ کا یہ فرمان کہ ”حرام مال سے پلا بڑھا گوشت (آگ کا مستحق ہے)“ سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما سے بھی مروی ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: یہ روایت "صحیح لغیرہ" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ابن خثیم (عبد اللہ بن عثمان بن خثیم) کی وجہ سے یہ سند "قوی" ہے۔
وسلف عند المصنف برقم (268) من طريق عبد الرزاق.
حوالہ / مصدر: یہ روایت مصنف کے ہاں پہلے نمبر (268) پر امام عبد الرزاق کے طریق سے گزر چکی ہے۔