کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: اپنے بھائی کے ہاں کھانا کھاؤ اور (زیادہ) سوال نہ کرو
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الربيع بن سليمان، حدثنا أَسد بن موسى، حدثنا مسلم بن خالد، حدثني زيد بن أسلم، عن سُمَيّ، عن أبي صالح، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ: "إذا دخلَ أحدُكم على أخيه فأطعَمَه طعامًا، فليأكُلْ منه ولا يَسأَلْه عنه، وإن سَقَاه شرابًا فليشرَبْ منه ولا يَسألْ عنه" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ صحيح على شرط مسلم وحدَه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7160 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ صحيح على شرط مسلم وحدَه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7160 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی کے ہاں جائے اور وہ اسے کھانا کھلائے تو وہ اسے کھا لے اور اس کے بارے میں سوال نہ کرے، اور اگر وہ اسے کوئی مشروب پلائے تو وہ اسے پی لے اور اس کے متعلق سوال نہ کرے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا بِشر بن موسى [حدثنا] (2) الحُمَيدي، حدثنا سفيان، عن ابن عَجْلان، عن سعيد، عن أبي هريرة روايةً قال: "إذا دخلتَ على أخيك المسلم، فأطعَمَك طعامًا، فكُلْ ولا تسألْه، وسَقَاك شرابًا، فاشرَبْه ولا تسألْ" (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7161 - على شرط مسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7161 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”جب تم اپنے مسلمان بھائی کے پاس جاؤ اور وہ تمہیں کھانا کھلائے تو کھا لو اور سوال نہ کرو، اور اگر وہ تمہیں مشروب پلائے تو اسے پی لو اور سوال نہ کرو۔“
یہ حدیث صرف امام مسلم کی شرط پر صحیح شاہد رکھتی ہے۔
یہ حدیث صرف امام مسلم کی شرط پر صحیح شاہد رکھتی ہے۔