المستدرك على الصحيحين
كتاب الأطعمة— کھانے کا بیان
لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ لَحْمٌ نَبَتَ مِنْ سُحْتٍ باب: وہ گوشت جنت میں داخل نہیں ہوگا جو حرام مال سے پلا بڑھا ہو
أخبرني إسماعيل بن محمد بن الفضل بن محمد الشَّعْراني، حدثنا جدّي، حدثنا إبراهيم بن حمزة، حدثنا عبد العزيز بن [أبي] (3) حازم، عن عبد الرحمن بن حَرْملة، عن عبد الله بن نِيَار الأسلمي، عن عُرْوة بن الزُّبير، قال: سمعتُ عائشة تقول: أهدَتْ أمُّ سُنبُلةَ لرسول الله ﷺ لبنًا، فدخلَتْ عليَّ به فلم تَجِدْه، فقلت لها: إنَّ رسول الله ﷺ نهانا أن نأكلَ طعامَ الأعراب، فدخل رسولُ الله ﷺ وأبو بكر فقال: "يا أمَّ سُنبُلةَ، ما هذا معك؟ " فقالت: يا رسولَ الله، لبنٌ أهديتُه لك، قال: "اسكُبي يا أمَّ سُنبُلة" فناوَلَ أبا بكر، ثم قال: "اسكُبي يا أمَّ سُنبُلة" فتناوَلَ رسولُ الله ﷺ، فشرب، قالت: فقلتُ: يا بردَها على الكَبِدِ يا رسولَ الله، حدثتَنا عن طعامِ الأعراب! فقال: "يا عائشُ، إنهم ليسوا بأعرابٍ، هم أهلُ باديَتِنا، ونحن حاضِرتُهم، وإذا دُعُوا أجابوا، فليسوا بأعرابٍ" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7168 - صحيحسیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ام سنبلہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ ﷺ کے لیے دودھ کا تحفہ بھیجا اور وہ اسے لے کر میرے پاس آئیں لیکن آپ ﷺ موجود نہ تھے، تو میں نے ان سے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں دیہاتیوں (اجڈ بدوؤں) کا کھانا کھانے سے منع فرمایا ہے، پھر رسول اللہ ﷺ اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ام سنبلہ! تمہارے پاس یہ کیا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ دودھ ہے جو میں آپ کے لیے ہدیہ لائی ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ام سنبلہ! اسے پیالے میں ڈالو“، آپ ﷺ نے سیدنا ابوبکر کو دیا، پھر فرمایا: ”اے ام سنبلہ! اسے ڈالو“، پھر رسول اللہ ﷺ نے اسے پکڑا اور نوش فرمایا، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ تو جگر کو ٹھنڈک پہنچانے والا ہے، لیکن آپ نے تو ہمیں دیہاتیوں کے کھانے کے متعلق (ممانعت) بتائی تھی! تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے عائشہ! یہ دیہاتی (جاہل بدو) نہیں ہیں بلکہ یہ ہمارے دیہی علاقوں کے رہنے والے ہیں اور ہم ان کے شہری ہیں، جب انہیں بلایا جاتا ہے تو وہ لبیک کہتے ہیں، اس لیے یہ (مذموم) دیہاتیوں میں شامل نہیں ہیں“۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
نوٹ / توضیح: یہ عبارت قلمی نسخوں سے ساقط (غائب) ہے۔
(1) إسناده حسن.
درجۂ حدیث: اس کی سند "حسن" ہے۔
وأخرجه أحمد 41/ (25010) من طريق يحيى بن أيوب، عن عبد الرحمن بن حرملة، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے 41/ (25010) میں یحییٰ بن ایوب از عبد الرحمن بن حرملہ کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔