قال ابن عمر: وحدثتنا عُبَيدةُ بنت نابِلٍ، عن عائشة بنت سعد قالت: مات أَبي سنة خمس وخمسين، وصلَّى عليه مروانُ بن الحَكَم وهو والي المدينة.
حافظ طلحہ بابر
عائشہ بنت سعد سے روایت ہے کہ میرے والد کی وفات 55 ہجری میں ہوئی اور مروان بن حکم نے ان کی نمازِ جنازہ پڑھایا جبکہ وہ مدینہ کے گورنر تھے۔
أخبرني محمد بن المؤمَّل، حَدَّثَنَا الفضل بن محمد الشَّعْراني، حَدَّثَنَا نُعيم بن حمّاد، حَدَّثَنَا رِشْدِين، عن يونس، عن ابن شِهاب، عن سعيد بن المسيّب: أنَّ سعد بن أبي وقّاص كان يَخضِبُ بالسَّواد (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6099 - سنده واه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6099 - سنده واه
حافظ طلحہ بابر
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ (بالوں کو) سیاہ خضاب لگایا کرتے تھے۔
أخبرني أحمد بن محمد بن سَلَمة العَنَزي (2)، حَدَّثَنَا عثمان بن سعيد الدارمي، حَدَّثَنَا أبو صالح عبد الله بن صالح، حَدَّثَنَا الليث، حدثني عُقَيل، عن ابن شِهاب الزُّهْري: أنَّ سعد بن أبي وقّاص لما حَضَره الموتُ دعا بخَلَقِ جُبَّةِ صوفٍ، فقال: كفِّنوني فيها، فإني لَقِيتُ المشركين فيها يومَ بدرٍ، وإنما كنت أَخبَؤُها لهذا اليوم (3).
حافظ طلحہ بابر
ابن شہاب زہری سے روایت ہے کہ جب سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے ایک پرانی اونی جُبّہ منگوایا اور فرمایا: ”مجھے اسی میں کفن دینا، کیونکہ میں نے غزوہ بدر کے دن مشرکین کا مقابلہ اسی کو پہن کر کیا تھا اور میں نے اسے اسی دن (کفن) کے لیے چھپا کر رکھا تھا۔“
أخبرنا أبو عبد الله الصَّفّار، حَدَّثَنَا أبو إسماعيل محمد بن إسماعيل، حَدَّثَنَا أيوب بن سليمان بن بلال، حدثني أبو بكر بن أبي أُوَيس، عن سليمان بن بلال قال: قال يحيى بن سعيد الأنصاريُّ: وأخبرني ابن شِهاب، عن عامر بن سعد بن أبي وقّاص قال: كان سعدُ بن أبي وقّاص آخرَ المهاجرين وفاةً (1).
حافظ طلحہ بابر
عامر بن سعد بن ابی وقاص اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ مہاجرین میں سب سے آخر میں وفات پانے والے صحابی تھے۔
حَدَّثَنَا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حَدَّثَنَا عبد الله بن أحمد بن حَنبَل، حَدَّثَنَا أبي، حَدَّثَنَا نوح بن يزيد، حَدَّثَنَا إبراهيم بن سعد قال: كان سعد بن أبي وقّاص آخرَ المهاجرين وفاة (2).
حافظ طلحہ بابر
ابراہیم بن سعد سے روایت ہے کہ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ مہاجرین میں سب سے آخر میں وفات پانے والے صحابی تھے۔
حَدَّثَنَا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حَدَّثَنَا عبد الله بن أحمد بن حَنبَل، حَدَّثَنَا أَبي، حَدَّثَنَا نوح بن يزيد، حَدَّثَنَا إبراهيم بن سعد قال: تُوفِّي سعدُ بن أبي وقّاص في زمن معاوية بعد حَجّتِه الأُولى، وهو ابن ثلاثٍ وثمانين سنة (3). قال أبو عبد الله: وأسلمَ سعدٌ وهو ابن تسعَ عشرةَ سنة.
حافظ طلحہ بابر
ابراہیم بن سعد سے روایت ہے کہ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی وفات سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں ان کے پہلے حج کے بعد ہوئی اور اس وقت ان کی عمر تریاسی سال تھی۔ امام حاکم فرماتے ہیں کہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ انیس سال کی عمر میں اسلام لائے تھے۔
حدثني أبو بكر بن بالَوَيهِ، حَدَّثَنَا إبراهيم بن إسحاق الحَرْبي، حَدَّثَنَا مُصعَب بن عبد الله الزُّبيري قال: أمُّ سعدٍ وأمُّ أخويه عُميرٍ وعامرٍ: حَمْنةُ بنت سفيان (1) ابن أُميَّة بن عبد شمس، واستُشهِدَ عُمير ببدر، وكان عامرٌ من مهاجري الحَبَشة، وكان يَخضِبُ بالسَّواد؛ يعني سعدًا (2).
حافظ طلحہ بابر
مصعب بن عبداللہ زبیری سے روایت ہے کہ سیدنا سعد اور ان کے دو بھائیوں عمیر اور عامر رضی اللہ عنہم کی والدہ حمنہ بنت سفیان بن امیہ تھیں، سیدنا عمیر رضی اللہ عنہ غزوہ بدر میں شہید ہوئے جبکہ سیدنا عامر رضی اللہ عنہ حبشہ کی طرف ہجرت کرنے والے مہاجرین میں شامل تھے، اور سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سیاہ خضاب استعمال کیا کرتے تھے۔
وحدثنا أبو بكر بن بالَوَيهِ، حَدَّثَنَا عبد الله بن أحمد بن حَنبَل، حدثني أبي، حَدَّثَنَا وهب بن جَرِير، عن أبيه قال: سمعت النُّعمانَ بن راشد يحدِّث عن الزُّهْري قال: كان سعدٌ آخرَ المهاجرين وفاةً (3). قال أَبي: وتُوفِّي سعد على عشرة أميالٍ من المدينة، فحُمِلَ على رِقاب الرجال إلى المدينة، وكان مروانُ يومئذٍ الواليَ عليها.
حافظ طلحہ بابر
ابن شہاب زہری سے روایت ہے کہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ مہاجرین میں سب سے آخر میں وفات پانے والے صحابی تھے۔ امام احمد بن حنبل کہتے ہیں کہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کی وفات مدینہ منورہ سے دس میل کے فاصلے پر ہوئی، پھر انہیں لوگوں نے اپنے کندھوں پر اٹھا کر مدینہ پہنچایا، اس وقت مروان مدینہ کا گورنر تھا۔